پیر، 28 ستمبر، 2020

Bayshak aaj ka Insan Khasaray men hay - Part 2

اک چھوٹی بات ۔ صدائے درویش ۔ حالاتِ حاضرہ

بیشک انسان خسارے میں ھے (حصہ دوئم) 

میرے دوستو!


زندگی ایک دائرہ ہے، پہلے سانس سے آخری ہچکی تک، جہاں سے شروع ہوا وہیں پر ختم۔


آئیں آج آخرِ شب یہ عہد کریں کہ ہم دوسروں کیلئے بھی جینے کی شروعات کریں، اپنے لئے تو ہر کوئی جیا ہی کرتا ہے۔


اس دور میں ہم ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے، مشکوک رہنے کے عادی ہو چکے ہیں، خلوص اور محبت کے پھولوں کو بھی ہم مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں، کسی کی بھی محبت بھری مسکراہٹ کو دیکھ کر ڈر سے جاتے ہیں، بیساختہ منہ موڑ لینے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، زندگی کی اس خوبصورت نعمت سے فرار کو ہی ہم اپنی اوّلین ترجیح سمجھتے ہیں۔ 


میرے ساتھیو! 


اس صورتِ کو پیدا کرنے کے یقینی طور پر پیدا کرنے والے بھی ہم خود ہی ہیں، ہم نے اپنے ہاتھوں سے محبت اور خلوص کو دوسروں کیلئے مشکوک بنایا ہے، اس خوبصورت سے احساس کو اپنی ذاتی منفی حسیات کی تسکین کی تکمیل کرتے رہنے کے مکروہ عمل سے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ محبت، شفقت اور اپنائیت کی ایک مسکراہٹ اس دور میں جرم سمجھی جانے لگی ھے؟

اس دورِ پرفتن میں ہم اگر کسی کی طرف مسکرا کر خلوص اور محبت سے اپنا ہاتھ بڑھائیں تو فریقِ ثانی سہم سا جاتا ہے کہ مسکراہٹ کا مسکراہٹ یا محبت سے جواب دینے کا بھاری خمیازہ نہ بھگتنا پڑ جائے گا، کثرت نے بھگتا بھی ہے۔


میرے دوستو!


آپ سب کو پتہ ہے کہ "صفائی نصف ایمان ہے" یعنی اگر انسان صاف ستھرا ہے تو اسکا آدھا ایمان سلامت ہے، اسی فارمولے کو اپنی عملی زندگی پر اگر لاگو کر کے ہم صرف اپنی نیتیں ہی صاف کرلیں تو باقی ماندہ مراحل بھی طے ہوتے چلے جائیں گے، ہمارا ایمان مکمل ہو جائے گا،  ہمیں کسی کی محبت بھری مسکراہٹ کو مشکوک ہوکر نظر انداز نہیں کرنا پڑے گا، ہم محبت اور خلوص نے نام سے ڈریں یا سہمیں گے نہیں، خوف زدہ نہیں ہونگے، بلکہ بڑھے ہوئے ہاتھ کو ہم مضبوطی سے تھامنے کے عادی ہوتے چلے جائینگے، یہ معجزہ "صفائی نصف ایمان" کو اپنے زندگی کا حصّہ بنانے سے ہی ہوسکتا ہے، جس کی بنیاد ہماری نیّت کا صاف ہونا ہے، صرف نیّت کا۔


کام مشکل ہے مگر ناممکن نہیں، ہم اگر چاہیں تو ایسا ہوجانا ممکن ہے، ھم پھر سے ایک دوسرے پر پھر سے بھروسہ کرنے کو تیار ہوجائیں گے، آدھا ایمان ہی ہماری زندگی کا حصّہ نہیں بنے گا، بلکہ صرف اس عمل سے ہمارا پورا ایمان ہی مکمل اور پاکیزہ ہوتا ہوا ملے گا، آزمائش شرط ہے، جینا آسان ہوجاۓ گا، ہمارا اپنا بھی اور معاشرے کا بھی۔


گھاٹے کا سودا نہیں ہے، آزما کر دیکھ لیں، ہمیں یہی دنیا سماوی جنّت سے زیادہ خوبصورت نظر آنے لگ جائے گی، یہ دنیا بھی آسان اور وہ دنیا بھی۔ اللہ ہمیں کہنے اور کر گزرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے، ہمارے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ میرا ایمان ہے اگر نيّت صاف ہو تو ہر منزل آسان ہوجاتی ہے، یہ میرا کہنا نہیں، ہمارے معاشرتی آداب طے کرنے والوں کا سنہرا قول بھی ہے۔


دعاگو اور طالبِ دعا،

آپ سب کا:-

جی۔ایم چوہان۔

27.09.2020


ہفتہ، 26 ستمبر، 2020

Bayshak Aaj ka Insan Khasaray men hay

آخرِشب . صدائے درویش ۔ حالاتِ حاضرہ

بیشک آج کا انسان خسارے میں ہے

میرے دوستو!


اگر ہم سنجیدگی سے اپنی زندگی لمحوں یا دنوں پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاس ایک دوسرے سے پیار محبت اور خلوص کے لئے وقت ہی بہت کم بچتا ہے، 24 گھنٹوں میں سے کم از کم ہم 08 گھنٹے تو سو کر گزارتے ہیں، کم و پیش 12 سے 14 گھنٹے فکرِ معاش اور روزی رزق کی تلاش جسے میں تلاش سے زیادہ دوڑ دھوپ کا نام دیتا ہوں اس میں، تھک ھار کر جب رات کو چارپائی پر گرتے ہیں تو سوچوں میں گم کہ کل کیا کرنا ہے، کیا پلان ہے، کس کو ٹوپی کرانی ہے کس کے ساتھ دو نمبری، کس کی جڑیں کاٹنی اور کس کس کا کس طرح سے پیٹ کانٹا ہے، وغیرہ وغیرہ، اس شش و پنج میں گئے 02 گھنٹے۔


کاؤنٹنگ کریں تو 24 گھنٹے پورے، اپنوں کے پاس بیٹھنے اُن سے خیریت لینے، کسی کو دلاسہ یا حوصلہ دینے کے لئے کچھ بھی باقی نہیں یہاں تک کہ خود اپنی ذات کیلئے بھی کچھ نہیں, سوائے ذہنی بے سکونی کے، اذیت کے۔


میرے دوستو!  


ہمارے پاس 24 گھنٹوں میں سے جو باقی ماندہ 02 گھنٹے بچتے ہیں، ان میں سے اگر ہم روزآنہ کی بنیاد پر اپنے پیاروں، عزیزوں، دوستوں کو محض پوری خلوصِ نیت کے ساتھ ایک گھنٹہ بھی دے دیا کریں تو میں سمجھتا ہوں کافی ہے، باقی جو ایک گھنٹہ بچے گا اسے اگر آپ "استغفراللہ" یا اپنے اپنے طریقے سے یادِ الٰہی کے ورد کے ساتھ گزاریں گے تو میرا ایمان ہے کہ آپ انتہائی پرسکون زندگی گزاریں گے، مکمل مطمئین ہونگے، پرسکون نیند کا لطف بھی اٹھائیں گے۔


زندگی کے دوڑ میں بچے ہوئے صرف 02 گھنٹوں کو ہی manage کرنا اصل مقصد ہونا چاہئے اور کمالِ مہارت بھی، اگر ہم اوسطاً 55 سال بھی عمر پاتے ہیں تو حساب لگا کر دیکھ لیں کہ باقی کتنے سال بچتے ہیں جنہیں ہم حسد، کینہ، بغض، نفرت دشمنی اور دو نمبری، دوسروں کی حق تلفی کی نذر کرتے ہیں؟ اپنے خالق و مالک کے رازق ہونے سے اپنا یقین کم یا ختم کرتے ہیں۔


"بیشک انسان خسارے میں ہے"


آیئے آخرِشب اس بات کا حساب لگا کر اعادہ کریں کہ ہم آنے والے دن کا بچا ہوا صرف 01 گھنٹہ دوسروں کی مسرّت، خوشی آسانیوں پر ضرور خرچ کریں گے۔ گھاٹے کا سودا نہیں ہے، کرکے دیکھ لیں، اس ہاتھ دے تو اس ہاتھ کے والی بات ہے۔


اللہ ہم سب کو خود اپنے اور دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی رفیق دے۔!


شب ہخیر۔


آپ سب کا:-

جی۔ایم چوہان۔

25.09.2020

جمعرات، 24 ستمبر، 2020

Mohobat Dosti Khulus Pakeezgi Ka Anmol Rishata

 اک چھوٹی بات   صدا ئے درویش

محبت و دوستی، خلوص اور پاکیزگی کا رشتہ

انسان کی زندگی میں سے کچھ پل قطرہ قطرہ کشید ہوکر آیسنز کی صورت میں دل کے کسی حصے میں اکھٹے ہونے رہتے ہیں، اسی عمل کشید سے جو لمحات محفوظ ہوا کرتے ہیں جن کی بدولت زندگی برسوں کے بجائے لمحات میں تبدیلی ہوتی چلی جاتی ہے، وہ لمحات اور احساسات ہی ہماری زندگی کا انمول سرمایہ ہوتے ہیں، اُنہیں لمحات کو ہم جب زندگی کے کسی بھی موڑ پر کسی بھی وجہ سے کسی اپنے پر لٹا دیتے ہیں تو ہمیں عجیب سی سرشاری اور اطمینان سا محسوس ہوا کرتا ہے۔ دوستی اور محبت بھی اسی طرح کی ہی گویا ایک چیز ہی ہے، جب ہو جائے، جس سے ہوجائے، انسان ہزار کوششوں کے باوجود بھی بے بس سا ہوجاتا ہے،

یہ سب کچھ شائید ہمارے اختیار سے باہر ہوا کرتا ہے۔ 


جو اختیار میں ہے وہ ہے ممکنہ حد تک اس خوبصورت سے تعلق میں خلوص، پاکیزگی اور ایک دوسرے کی عزتِ نفس کا مکمل احساس اور کیئر، اگر یہ نہیں تو دوستی یا محبت نہیں کچھ اور ہی ہوا کرتی ہے، جس کے مناظر ہمیں ہمارے معاشرے میں جا بجا بکھرے ہوئے ملتے ہیں، سانحات اور حادثات کی صورت میں۔


کبھی کبھی کسی سے ملنے اس سے خوب باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے، لیکن! 

اگر وہ سامنے آجائے تو سب کی سب باتیں دھری کی دھری ہی رہ جاتی ہیں، وقت سمٹ کر پھر سے کشیدہ فراری محلول یا آیسینز کی طرح اڑنا شروع ہو جاتا ہے، جیسے پر سے لگ گئے ہوں، ایسے لمحات زیادہ وقت تک ساتھ نہیں دیتے، اُن لمحات کی اذیت کو بیان کرنے کیلئے ہی شائید شاعر نے یہ قطع لکھا ہوگا۔


"چند کلیاں نشاط کی چن کر،

مدتوں محوِ یاس رہتا ہوں،

تجھ سے ملنا خوشی کی بات سہی،

تُجھ سے مل کر اُداس رہتا ہوں۔۔"

( ساحر لدھیانوی)


کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کاش ایسا ہو پاتا، کاش جو ہوا ہے ایسا نہ ہوتا، لیکن ملنا، بچھڑنا، جیت، ہار اور خوشی غمی اور اچانک سے ایک سرپرائز کی طرح ملنے والی مسرّت یا خوشی یہ سب کچھ شائید اوپر کہیں طے شدہ ہوتا ہے، جب اور جس وقت وہ ملنا ہوتا ہے، یا کھونا ہوتا ہے وہ سب کچھ بھی بہت ہی نفاست کےساتھ ایک طرح کے انتہائی calculated طریقے سے سب کچھ فیڈ کیا ہوا ہوتا ہے، جس سے ہم ہزار کوشش کے باوجود بھی فرار حاصل نہیں کرپاتے، شائید اسی کا نام تقدیر ہے۔


لیکن!


یہ کاش کسی بھی طرح کا پچھتاوا نہیں ہے، لوحِ محفوظ پر لکھا ہی ایسے ہوا تھا، اور تقدیر کے لکھے کو ہم مٹا ہی نہیں سکتے۔


آج میں اپنے موضوع سے بلکل ہٹ کر لکھ رہا ہوں، اگر کسی دوست کو کچھ عجیب سا لگے تو معذرت خواہ ہوں، بس آج بہت ہی عجیب سی رومانویت سوار ہو رہی ہے، جسے چند الفاظ کا روپ دے کر اس کیفیت کا پریشر کم کررہا ہوں, دل کے بند دروازے کی ایک کھڑکی کھول رہا ہوں کہ زندہ رہنے کیلئے تازہ ہوا کا معطر جھونکا بھی آنا بہت ضروری ہے۔


آپ سب کا:-


جی۔ایم چوہان۔

20.09.2020

بدھ، 23 ستمبر، 2020

Talashe Haq Aur Bani Adam

 اک چھوٹی بات۔

تلا شِ حق اور بنی آدم

ایک بندہ اللہ کے در پر جھکتا ہے دوسرا مثال کے طور پر کسی مورتی یا مظاہرِ عالم/فطرت کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اسے ہی اپنا نجات دہندہ سمجھ لیتا ہے اور نیک اعمال کی طرف راغب ہو جاتا ہے تو اللہ رب العزت کے دفتر میں اسے ڈائریکٹ ماننے والے اور ان ڈائریکٹ ماننے والے دونوں کا ہی نیکیوں کا کھاتا کھل جاتا کرتا ہے۔


میرےدوستو!


 میرے خیال میں دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست ہیں کیوں کہ "internal satisfaction" انسان کے دل میں جذبہء عقیدت پیدا کرتی ہے، کسی کو مان لینا ہی بندگی ہے۔ اگر کوئی انسان اپنے ہاتھ سے تراشیدہ مورتی یا دیگر مظاہرِ فطرت سے بیزار ہو جاتا ہے تو وہ آگے بڑھ جاتا ہے، تلاشِ حق کیلئے۔ 

ساری کہانی ہی حق کے تلاش کی ہے کہ جہاں اندر کا انسان Satisfy ھو کر نیکی اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور اچھائی کے سفر کا آغاز کرتا ھے، جیسے ہی حق ملا پھر انسان کا تلاش کا سفر رک جاتا ہے اور بندگی کا آغاز شروع ہو جاتا ہے، بندگی کی سب سے اعلیٰ قسم اُسکی ماننا ہے جس کو وہ پوج رہا ہو، جس کو مان رہا ہو، جسکی مان رہا ہو، عبادت کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات اور خدمت خلق بھی لازم ہے ورنہ عبادات بیکار ثابت ہوتی ہیں۔


اگر مذہب یا دھرم میں صرف عبادات ہی ہوں، خدمت نہیں تو نا مکمل سا ہوا کرتا ہے، مکمل نہیں کہلاتا۔


سندھ کے ایک شہر میرپور ماتھیلو میں ایک ہندو دیوان کو ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کو اپنے ہاتھ سے پانی پلاتے دیکھ کر یہ تحریر لکھی گئی ہے، اس ہندودیوان کو اسکے اس عمل کا اجر دے اور ہم سب کو اسکی تقلید کی توفیق بخشے۔


آپ سب کا؛-

جی۔ایم چوہان

19.09.2020

منگل، 22 ستمبر، 2020

Islam Aur Ham, ملائیت,حاکمیت,طبقہءاشرافیہ اورہم

صدائےدرویش

ملائیت,حاکمیت,طبقہءاشرافیہ اورہم


میرے دوستو!

آج ایک ایسی بات شیئر کرنے لگا ہوں جو ہو سکتا ہے کثرت کو نا گوار گزرے، من حیث القوم ہم مسلمانوں کی ترجیحات ہی دوسری اقوام یکسر مختلف ہیں، ہمیں بخدا پابند ہونا آتا ہی نہیں، " اللہ کے حقوق کی پابندی" تو ہے لیکن "حقوق العباد" میں مسلسل ڈنڈیاں مارنے چلے جانا ہمارا کی مزاج سا بن چکا ہے۔

میں اعتراف کرنا ہوں کہ ہمیں پابند قوم ہونا چاہئے جس میں سر فہرست دنیاوی معاملات ہونے ضروری ہیں۔ میرے نزدیک دنیاوی پابندیوں میں ہم  سب کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ " قول و فعل" میں تضاد نہ ہو،، سچائی اور ایمانداری ہماری پہچان ہو نہ کہ ماتھے پر  "سجدوں کا سجایا ہوا نشان" بد قسمتی سے ہم معتدل مزاج کی حامل اور پابند قوم نہیں ہیں، اگر پابند قوم ہوتے تو آج ہمارا یہ حشر ھو چکا ہے ہرگز ہوتا، 
کاش طبقہء اشرافیہ سمیت ہم ملکی قوانین کی ہی پابندی کر لیتے، موجودہ  منبر رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی ہمیں نمازوں اور اللہ کے حقوق کو پابندی کو ہی  اوّلین ترجیح کا درس ملتا ہے اور دنیا اور دنیاوی معاملات کو اخروی زندگی سے کہیں ہیچ اور نیچ، اس دنیا کو بھی اہم سمجھا جائے۔

 کاش!

 ہمیں وہیں سے ہی دنیاوی زندگی کی اہمیت کا پیغام ملتا رہتا۔  " حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے کسی کے بہت بڑا عابد زاہد ہونے کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا " مجھے بتاؤ کہ اسکے ( دنیاوی) معلملات کیسے ہیں؟ یہ ہے اسلام اور شعائر و تعلیمات اسلام، سبحان اللہ!

بد قسمتی منبر رسول سے بھی ہمیں آخرت کو کثرت کے ساتھ بہتر بنائے کا درس ملتا ہے دنیا اور دنیاوی معاملات کا نہیں، اس طرح سے تیزی کے ساتھ دین و دنیا ہمارے ہاتھوں  سے نکلتے چلے گئے، یاد رکھیں کٹر مذہبی اور حاکمانہ مزاج کا حامل حکمران اور طبقہء اشرافیہ ہمیشہ" ٫اسٹیٹس کو"  (یعنی یکسانیت) کو برقرار رکھنے کا عادی ہوتا ہے، تبدیلی کو وہ اپنے اور اپنی جاگیر کیلئے " سمِ قاتل" سمجھتا ہے، ایک اپنی دنیا کو بہتر رکھنے کے لئے ھماری نسلیں تباہ کر رہا ہے تو  دوسرا دنیا کو پس پشت ڈال کر صرف آخرت ہی آخرت کی بات کرتا ہے، اپنی اور ہم سب کی آخرت کی فکر ہی دامن گیر ہے، دنیا و حال سے کوئی اسے کوئی غرض نہی، دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور ایک دوسرے کیلئے لازم ملزوم بھی۔

کہاں ہے وہ اعتدال پسند اور میانہ روی اور مثبت خیالات و طرز عمل کا حامل وہ طبقہ جس کا کلامِ الٰہی میں اللہ رب العزت نے بار بار ذکر کیا ہے اور وھی طبقہ دنیا بھر میں ہماری رواداری اور محبت کی پیچاں ہوا کرتا تھا، جو جیواورجینےدو کی عمدہ مثال بھی تھا۔ اسے دانستہ ختم کردیا گیا،  یقین جانئے آج ہم ذہنی غلام لوگ جو ہر طرح کی مثبت سوچ اور فکر سے عاری  "من حیث القوم " مسلسل تنزلی اور ذہنی "جمود" کے عادی اور شکار ہو چکے ہیں، وقت کیساتھ ساتھ دیگر اقوام کی طرح سے  متحرک رہنے کے عادی نہیں, تبدیلی کیسے آنی ہے؟ کیسے ممکن ہے؟ جو حال ہے، وہی رہے گا، کوئی بدلاؤ نہیں آئے گا۔!

علامہ سر محمد اقبال (ر۔ع) نے خوب فرمایا کہ:-

ہاتھ پر ہاتھ دھرے متظر فردا ہو۔!

میرے دوستو!

آنے والے کل کا انتظار مت کرو، اپنے دین و دنیا کو بہتر بنانے کے لئے پوری ایمانداری، سچائی، لگن اور دیانت داری کے ساتھ عصری تقاضوں کے مطابق ہر شعبہء ہائے زندگی میں اپنے قدم آگے بڑھانا شروع کر دو، یقین جانو منزل دور تو لگتی ہے، لیکن! دور نہیں! صرف سقوط کو توڑ کر قدم بڑھانے کی دیر ہے۔

احقر العباد:-
غلام محمد چوہان۔
04.07.2020۔

پیر، 21 ستمبر، 2020

Sadai Derwesh, ایک محترم پختون دوست کے status کا جواب

صدائےدرویش


ایک محترم پختون دوست کے status کا جواب۔


آپ اس بچے کی آواز کو صرف پختون قوم کی آواز کیوں کہتے ہیں، سے پوری اُمت مسلمہ کی آواز کہیں تو زیادہ بہتر ہوگا، میرے آپکے اور ہم سب کے آقا و مولیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلّم) کی پوری اُمت کہیں بھی سکون اور عزت کی زندگی گزار رہی ہے؟ 


یہ لارنس آف عربیہ کا فارمولا تھا کہ توڑو انتشار پھیلاؤ، عصبیت اور فرقہ ورایت پھیلاؤ اُمتِ مسلمہ کو تقسیم در تقسیم در تقسیم کرتے چلے جاؤ اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کرو اور ہر ٹولے کو یقین دلائے جاؤ کہ مسلمان قوم میں تم ہی Superior اور سب سے بلند و برتر ہو، تقویٰ اور پرہیز گاری کے بجائے نسل پرستی پر مبنی قومیت اور فرداً فرداً سب کو دوسرے مسلمانوں سے اعلیٰ و ارفع ہونے کا درس دو، تاکہ کوئی بھی دوسرے مسلمان کی قیادت کو اور اہمیت کو تسلیم کرنے کی کوشش ہی نہ کرے اور دنیا بھر میں مسلم لیڈر شپ کا تصّور ہو ختم ہو جائے اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔ افغانستان اس کی عصر حاضر میں ایک مثال ہے، طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات ناکام ہونے کی وجہ ہی یہی فارمولا ہے۔


یہی وہ مکروہ فارمولا ہے جس کی وجہ سے اسلام میں اکائی اور وحدت ملّی  کا جو تصور تھا وہ نہ صرف ٹوٹا بلکہ ایک طاقتور مسلم بلاک (خلافتِ عثمانیہ) بھی ٹوٹ گیا، اس وقت کوئی ملک بھی دوسرے ملک کو اپنا ترجمان یا نمائدہ ماننے کو تیار نہیں، اگر کوئی معاشی طور پر مستحکم ہے تو دوسرا ملک دفاعی لحاظ سے کمزور، عجیب افراتفری مچی ہوئی ہے۔


یاد رکھئے سب سے پہلے ہم سرف مسلمان ہیں صرف مسلمان، بقول شاعری کے اس میسج کے کہ پختونوں پر ظلم ہو رہا ہے تو کیا شامیوں، عراقیوں، لیبیا اور یمن میں نہیں ہورہا یا ہوا؟


کیا روہنگیا, فلسطینی، ایغور اور کشمیری آج آسمان کی طرف منہ اٹھا کر نہیں رو رہے؟


کیا اپنوں کے ہاتھوں ہی ذلیل و رسوا گھروں سے بے گھر در بدر شامیوں کو آج یورپ پناہ نہیں دے رہا؟

کیوں دے رہا ہے؟ آپکو اندازہ ہونا چاہئے۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق قُربِ قیامت کے آثار ظاہر ہونے پر مسلمانوں کیلئے "شام اور یمن_ کی بہت بڑی اہمیت ہوگی. 


آپ علیہ السلام کی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے " جب تم پر مکہ/حرمین شریفین کی زمین تنگ ہو جائے تو تم لوگ" شام اور یمن٫ کا رخ کرنا" یہی وجہ ہے یہ یہودی نصاریٰ نے دونوں ملکوں کی اپنوں کے ہاتھوں ہی اینٹ سے اینٹ بجوا دی جو کہ مندرجہ بالا حدیث پاک کی رُو سے مسلمان کی آخری پناہ گاہ ثابت ہونے تھے۔


 غور سے سنو!


جن جن مسلمانوں کو یورپ اور امریکہ پناہ دے رہا ہے بلاخر انکو " عیسائی" بنانے کی بھرپور کوشش کرے گا کہ جہاں مسلمانوں نے نبی (علیہ السلام) نے وقت آخر میں مسلمانوں کی جائے پناہ قرار دیا ہے، وہ بھی اہل ایمان کیلئے محفوظ نہ رہے۔


لمبی پلاننگ ہے، اسی لئے تو میں مسلمانوں کو "خوابیدہ قوم" کہتا ہوں، آپ پختون قومیت کے سرکل سے باہر نکل کر دیکھیں سوچیں سمجھیں، پورا عالم اسلام ہی سر پر ہاتھ رکھے دھاڑیں مارتا ہوا ملے گا، صرف ہم امت کی یہ سسکیاں یہ دھاڑیں اور آہیں سننے کو تیار نہیں ہیں, کیوں کہ ہم، سنی، شیعہ، دیوبندی، اہل حدیث ہوکر سوچتے ہیں مومن بن کر نہیں۔ 


پختون، پنجابی، سندھی بلوچی، عربی عجمی، افریقی وغیرہ تو خود کو مانتے ہیں مگر بد قسمتی سے امتِ رسولِ ہاشمی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) نہیں۔ اصل فساد کی جڑ ہی یہ ہے، یہی وہ جال ہے جو یہود و نصاری نے پھینکا تھا، جس سے ہم آج بھی نکلنے کو تیار نہیں ہیں، اللہ ہم سب پر اپنا کرم فرمائے اور سب کچھ سمجھے کی توفیق دے۔


(وما توفیقی الا باللہ)


آپکا:-


جی۔ایم چوہان۔

16=09.2020.

اتوار، 20 ستمبر، 2020

Allah Ki Rassi ko Mazbooti say Thamay Rakho

صدائےدرویش

اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقوں میں مت بٹو

 کلام الٰہی میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے "اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقوں میں مت بٹو)۔


میرےدوستو!


"وہ کونسی رسی ھے جس کو اللہ رب العزت نے کلام اِلٰہی میں مضبوطی سے پکڑے رکھنے کا حکم دیا ھے، وہ رسی ہے کلمہ طیبہ"


کلمہ طیبہ کا پہلا حصہ اللّٰہ رب العزت کی وحدانیت کا زبان سے اقرار اور صدق دل سے تسلیم،  


دوستو! خود اندازہ لگاؤ کہ ہم نے ہم نے اوائل اسلام میں ہی اپنے اندر کتنے بت تراش لئے تھے، جب کہ اُس وقت میرے اور آپ سب کے آقا و مولا کی ذات گرامی بذاتِ خود امّت کو رشد ہدایت کا راستہ دکھا رہی تھی، سب کچھ واضح طور پر امت کو سمجھا رہی تھی۔


مسجد ضرار کی تعمیر اور غزوہ بدر میں ۳۵۰:صحابہ کرام کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے حکم سے روگردانی کرنا اور غزوۃ بدر کے میدان سے واپس لوٹ جانا رسول خدا کے حکم سے سیدھی سیدھی روگردانی نہیں تھی؟


مسجد ضرار کے لوگ آپ علیہ السلام کی امامت سے انکاری ہوتے ہیں تو ہی مسجد ضرار تعمیر ہوتی ہے، یہ دو چھوٹی سی مثالیں ہیں۔


کیا ہم کلمہ طیبہ کے پہلے حصے سے منحرف ہوئے کہ نہیں ہوئے، دل بت کده نہیں بنا؟


حکم رسول مقبول اور امامت رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کے انکار سے کلمہ طیبہ کے پہلے اور دوسرے حصے سے مکمل انکار ہو جاتا ھے، کیونکہ دوسرا حصہ نبوت کے اقرار کے متعلق ہے۔


خود سوچو کہ مسلمان تو صرف نام کے رہے، دل تو کافر تھا اور کافر ہی رہا۔


کاش ہم ایسا نہ کرتے اور حب رسول اور حکم رسول مقبول و اطاعت رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم)  کو ایمان کا بنیادی حصہ اور رسی سمجھتے تو اوائل اسلام میں ہی اس رسّی کو کبھی نہ چھوڑتے، قرآن و حدیث اور اسوہ حسنہ تو بعد کی بات ہیں،ایمان کی تکمیل کے لئے بنیادی چیز ھے اللہ کی وحدانیت کے ساتھ ہی آپ رسول پاک کی رسالت کا اقرار اور مکمل اطاعت۔ اور پھر صدق دل سے حب رسول و اطاعت رسول ( صل اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم) یعنی پورا کلمہ طیبہ۔


یہی وہ رسی ہے جسکو تھام کے رکھنے کا ذکر اللہ رب العزت نے کلام الٰہی میں فرمایا ہے۔


اللہ ہم سب کو اسلام اور روحِ اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین یارب العالمین).


والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ!


طالبِ دعا:-


آپ سب کا جی۔ایم چوہان۔

06.09.2020

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...