اک چھوٹی بات۔
تلا شِ حق اور بنی آدم
ایک بندہ اللہ کے در پر جھکتا ہے دوسرا مثال کے طور پر کسی مورتی یا مظاہرِ عالم/فطرت کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اسے ہی اپنا نجات دہندہ سمجھ لیتا ہے اور نیک اعمال کی طرف راغب ہو جاتا ہے تو اللہ رب العزت کے دفتر میں اسے ڈائریکٹ ماننے والے اور ان ڈائریکٹ ماننے والے دونوں کا ہی نیکیوں کا کھاتا کھل جاتا کرتا ہے۔
میرےدوستو!
میرے خیال میں دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست ہیں کیوں کہ "internal satisfaction" انسان کے دل میں جذبہء عقیدت پیدا کرتی ہے، کسی کو مان لینا ہی بندگی ہے۔ اگر کوئی انسان اپنے ہاتھ سے تراشیدہ مورتی یا دیگر مظاہرِ فطرت سے بیزار ہو جاتا ہے تو وہ آگے بڑھ جاتا ہے، تلاشِ حق کیلئے۔
ساری کہانی ہی حق کے تلاش کی ہے کہ جہاں اندر کا انسان Satisfy ھو کر نیکی اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور اچھائی کے سفر کا آغاز کرتا ھے، جیسے ہی حق ملا پھر انسان کا تلاش کا سفر رک جاتا ہے اور بندگی کا آغاز شروع ہو جاتا ہے، بندگی کی سب سے اعلیٰ قسم اُسکی ماننا ہے جس کو وہ پوج رہا ہو، جس کو مان رہا ہو، جسکی مان رہا ہو، عبادت کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات اور خدمت خلق بھی لازم ہے ورنہ عبادات بیکار ثابت ہوتی ہیں۔
اگر مذہب یا دھرم میں صرف عبادات ہی ہوں، خدمت نہیں تو نا مکمل سا ہوا کرتا ہے، مکمل نہیں کہلاتا۔
سندھ کے ایک شہر میرپور ماتھیلو میں ایک ہندو دیوان کو ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کو اپنے ہاتھ سے پانی پلاتے دیکھ کر یہ تحریر لکھی گئی ہے، اس ہندودیوان کو اسکے اس عمل کا اجر دے اور ہم سب کو اسکی تقلید کی توفیق بخشے۔
آپ سب کا؛-
جی۔ایم چوہان
19.09.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں