آخرِشب . صدائے درویش ۔ حالاتِ حاضرہ
بیشک آج کا انسان خسارے میں ہے
میرے دوستو!
اگر ہم سنجیدگی سے اپنی زندگی لمحوں یا دنوں پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاس ایک دوسرے سے پیار محبت اور خلوص کے لئے وقت ہی بہت کم بچتا ہے، 24 گھنٹوں میں سے کم از کم ہم 08 گھنٹے تو سو کر گزارتے ہیں، کم و پیش 12 سے 14 گھنٹے فکرِ معاش اور روزی رزق کی تلاش جسے میں تلاش سے زیادہ دوڑ دھوپ کا نام دیتا ہوں اس میں، تھک ھار کر جب رات کو چارپائی پر گرتے ہیں تو سوچوں میں گم کہ کل کیا کرنا ہے، کیا پلان ہے، کس کو ٹوپی کرانی ہے کس کے ساتھ دو نمبری، کس کی جڑیں کاٹنی اور کس کس کا کس طرح سے پیٹ کانٹا ہے، وغیرہ وغیرہ، اس شش و پنج میں گئے 02 گھنٹے۔
کاؤنٹنگ کریں تو 24 گھنٹے پورے، اپنوں کے پاس بیٹھنے اُن سے خیریت لینے، کسی کو دلاسہ یا حوصلہ دینے کے لئے کچھ بھی باقی نہیں یہاں تک کہ خود اپنی ذات کیلئے بھی کچھ نہیں, سوائے ذہنی بے سکونی کے، اذیت کے۔
میرے دوستو!
ہمارے پاس 24 گھنٹوں میں سے جو باقی ماندہ 02 گھنٹے بچتے ہیں، ان میں سے اگر ہم روزآنہ کی بنیاد پر اپنے پیاروں، عزیزوں، دوستوں کو محض پوری خلوصِ نیت کے ساتھ ایک گھنٹہ بھی دے دیا کریں تو میں سمجھتا ہوں کافی ہے، باقی جو ایک گھنٹہ بچے گا اسے اگر آپ "استغفراللہ" یا اپنے اپنے طریقے سے یادِ الٰہی کے ورد کے ساتھ گزاریں گے تو میرا ایمان ہے کہ آپ انتہائی پرسکون زندگی گزاریں گے، مکمل مطمئین ہونگے، پرسکون نیند کا لطف بھی اٹھائیں گے۔
زندگی کے دوڑ میں بچے ہوئے صرف 02 گھنٹوں کو ہی manage کرنا اصل مقصد ہونا چاہئے اور کمالِ مہارت بھی، اگر ہم اوسطاً 55 سال بھی عمر پاتے ہیں تو حساب لگا کر دیکھ لیں کہ باقی کتنے سال بچتے ہیں جنہیں ہم حسد، کینہ، بغض، نفرت دشمنی اور دو نمبری، دوسروں کی حق تلفی کی نذر کرتے ہیں؟ اپنے خالق و مالک کے رازق ہونے سے اپنا یقین کم یا ختم کرتے ہیں۔
"بیشک انسان خسارے میں ہے"
آیئے آخرِشب اس بات کا حساب لگا کر اعادہ کریں کہ ہم آنے والے دن کا بچا ہوا صرف 01 گھنٹہ دوسروں کی مسرّت، خوشی آسانیوں پر ضرور خرچ کریں گے۔ گھاٹے کا سودا نہیں ہے، کرکے دیکھ لیں، اس ہاتھ دے تو اس ہاتھ کے والی بات ہے۔
اللہ ہم سب کو خود اپنے اور دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی رفیق دے۔!
شب ہخیر۔
آپ سب کا:-
جی۔ایم چوہان۔
25.09.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں