صدائےدرویش
اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقوں میں مت بٹو
کلام الٰہی میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے "اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقوں میں مت بٹو)۔
میرےدوستو!
"وہ کونسی رسی ھے جس کو اللہ رب العزت نے کلام اِلٰہی میں مضبوطی سے پکڑے رکھنے کا حکم دیا ھے، وہ رسی ہے کلمہ طیبہ"
کلمہ طیبہ کا پہلا حصہ اللّٰہ رب العزت کی وحدانیت کا زبان سے اقرار اور صدق دل سے تسلیم،
دوستو! خود اندازہ لگاؤ کہ ہم نے ہم نے اوائل اسلام میں ہی اپنے اندر کتنے بت تراش لئے تھے، جب کہ اُس وقت میرے اور آپ سب کے آقا و مولا کی ذات گرامی بذاتِ خود امّت کو رشد ہدایت کا راستہ دکھا رہی تھی، سب کچھ واضح طور پر امت کو سمجھا رہی تھی۔
مسجد ضرار کی تعمیر اور غزوہ بدر میں ۳۵۰:صحابہ کرام کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے حکم سے روگردانی کرنا اور غزوۃ بدر کے میدان سے واپس لوٹ جانا رسول خدا کے حکم سے سیدھی سیدھی روگردانی نہیں تھی؟
مسجد ضرار کے لوگ آپ علیہ السلام کی امامت سے انکاری ہوتے ہیں تو ہی مسجد ضرار تعمیر ہوتی ہے، یہ دو چھوٹی سی مثالیں ہیں۔
کیا ہم کلمہ طیبہ کے پہلے حصے سے منحرف ہوئے کہ نہیں ہوئے، دل بت کده نہیں بنا؟
حکم رسول مقبول اور امامت رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کے انکار سے کلمہ طیبہ کے پہلے اور دوسرے حصے سے مکمل انکار ہو جاتا ھے، کیونکہ دوسرا حصہ نبوت کے اقرار کے متعلق ہے۔
خود سوچو کہ مسلمان تو صرف نام کے رہے، دل تو کافر تھا اور کافر ہی رہا۔
کاش ہم ایسا نہ کرتے اور حب رسول اور حکم رسول مقبول و اطاعت رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کو ایمان کا بنیادی حصہ اور رسی سمجھتے تو اوائل اسلام میں ہی اس رسّی کو کبھی نہ چھوڑتے، قرآن و حدیث اور اسوہ حسنہ تو بعد کی بات ہیں،ایمان کی تکمیل کے لئے بنیادی چیز ھے اللہ کی وحدانیت کے ساتھ ہی آپ رسول پاک کی رسالت کا اقرار اور مکمل اطاعت۔ اور پھر صدق دل سے حب رسول و اطاعت رسول ( صل اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم) یعنی پورا کلمہ طیبہ۔
یہی وہ رسی ہے جسکو تھام کے رکھنے کا ذکر اللہ رب العزت نے کلام الٰہی میں فرمایا ہے۔
اللہ ہم سب کو اسلام اور روحِ اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین یارب العالمین).
والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ!
طالبِ دعا:-
آپ سب کا جی۔ایم چوہان۔
06.09.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں