منگل، 22 ستمبر، 2020

Islam Aur Ham, ملائیت,حاکمیت,طبقہءاشرافیہ اورہم

صدائےدرویش

ملائیت,حاکمیت,طبقہءاشرافیہ اورہم


میرے دوستو!

آج ایک ایسی بات شیئر کرنے لگا ہوں جو ہو سکتا ہے کثرت کو نا گوار گزرے، من حیث القوم ہم مسلمانوں کی ترجیحات ہی دوسری اقوام یکسر مختلف ہیں، ہمیں بخدا پابند ہونا آتا ہی نہیں، " اللہ کے حقوق کی پابندی" تو ہے لیکن "حقوق العباد" میں مسلسل ڈنڈیاں مارنے چلے جانا ہمارا کی مزاج سا بن چکا ہے۔

میں اعتراف کرنا ہوں کہ ہمیں پابند قوم ہونا چاہئے جس میں سر فہرست دنیاوی معاملات ہونے ضروری ہیں۔ میرے نزدیک دنیاوی پابندیوں میں ہم  سب کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ " قول و فعل" میں تضاد نہ ہو،، سچائی اور ایمانداری ہماری پہچان ہو نہ کہ ماتھے پر  "سجدوں کا سجایا ہوا نشان" بد قسمتی سے ہم معتدل مزاج کی حامل اور پابند قوم نہیں ہیں، اگر پابند قوم ہوتے تو آج ہمارا یہ حشر ھو چکا ہے ہرگز ہوتا، 
کاش طبقہء اشرافیہ سمیت ہم ملکی قوانین کی ہی پابندی کر لیتے، موجودہ  منبر رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی ہمیں نمازوں اور اللہ کے حقوق کو پابندی کو ہی  اوّلین ترجیح کا درس ملتا ہے اور دنیا اور دنیاوی معاملات کو اخروی زندگی سے کہیں ہیچ اور نیچ، اس دنیا کو بھی اہم سمجھا جائے۔

 کاش!

 ہمیں وہیں سے ہی دنیاوی زندگی کی اہمیت کا پیغام ملتا رہتا۔  " حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے کسی کے بہت بڑا عابد زاہد ہونے کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا " مجھے بتاؤ کہ اسکے ( دنیاوی) معلملات کیسے ہیں؟ یہ ہے اسلام اور شعائر و تعلیمات اسلام، سبحان اللہ!

بد قسمتی منبر رسول سے بھی ہمیں آخرت کو کثرت کے ساتھ بہتر بنائے کا درس ملتا ہے دنیا اور دنیاوی معاملات کا نہیں، اس طرح سے تیزی کے ساتھ دین و دنیا ہمارے ہاتھوں  سے نکلتے چلے گئے، یاد رکھیں کٹر مذہبی اور حاکمانہ مزاج کا حامل حکمران اور طبقہء اشرافیہ ہمیشہ" ٫اسٹیٹس کو"  (یعنی یکسانیت) کو برقرار رکھنے کا عادی ہوتا ہے، تبدیلی کو وہ اپنے اور اپنی جاگیر کیلئے " سمِ قاتل" سمجھتا ہے، ایک اپنی دنیا کو بہتر رکھنے کے لئے ھماری نسلیں تباہ کر رہا ہے تو  دوسرا دنیا کو پس پشت ڈال کر صرف آخرت ہی آخرت کی بات کرتا ہے، اپنی اور ہم سب کی آخرت کی فکر ہی دامن گیر ہے، دنیا و حال سے کوئی اسے کوئی غرض نہی، دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور ایک دوسرے کیلئے لازم ملزوم بھی۔

کہاں ہے وہ اعتدال پسند اور میانہ روی اور مثبت خیالات و طرز عمل کا حامل وہ طبقہ جس کا کلامِ الٰہی میں اللہ رب العزت نے بار بار ذکر کیا ہے اور وھی طبقہ دنیا بھر میں ہماری رواداری اور محبت کی پیچاں ہوا کرتا تھا، جو جیواورجینےدو کی عمدہ مثال بھی تھا۔ اسے دانستہ ختم کردیا گیا،  یقین جانئے آج ہم ذہنی غلام لوگ جو ہر طرح کی مثبت سوچ اور فکر سے عاری  "من حیث القوم " مسلسل تنزلی اور ذہنی "جمود" کے عادی اور شکار ہو چکے ہیں، وقت کیساتھ ساتھ دیگر اقوام کی طرح سے  متحرک رہنے کے عادی نہیں, تبدیلی کیسے آنی ہے؟ کیسے ممکن ہے؟ جو حال ہے، وہی رہے گا، کوئی بدلاؤ نہیں آئے گا۔!

علامہ سر محمد اقبال (ر۔ع) نے خوب فرمایا کہ:-

ہاتھ پر ہاتھ دھرے متظر فردا ہو۔!

میرے دوستو!

آنے والے کل کا انتظار مت کرو، اپنے دین و دنیا کو بہتر بنانے کے لئے پوری ایمانداری، سچائی، لگن اور دیانت داری کے ساتھ عصری تقاضوں کے مطابق ہر شعبہء ہائے زندگی میں اپنے قدم آگے بڑھانا شروع کر دو، یقین جانو منزل دور تو لگتی ہے، لیکن! دور نہیں! صرف سقوط کو توڑ کر قدم بڑھانے کی دیر ہے۔

احقر العباد:-
غلام محمد چوہان۔
04.07.2020۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...