اک چھوٹی بات صدا ئے درویش
محبت و دوستی، خلوص اور پاکیزگی کا رشتہ
انسان کی زندگی میں سے کچھ پل قطرہ قطرہ کشید ہوکر آیسنز کی صورت میں دل کے کسی حصے میں اکھٹے ہونے رہتے ہیں، اسی عمل کشید سے جو لمحات محفوظ ہوا کرتے ہیں جن کی بدولت زندگی برسوں کے بجائے لمحات میں تبدیلی ہوتی چلی جاتی ہے، وہ لمحات اور احساسات ہی ہماری زندگی کا انمول سرمایہ ہوتے ہیں، اُنہیں لمحات کو ہم جب زندگی کے کسی بھی موڑ پر کسی بھی وجہ سے کسی اپنے پر لٹا دیتے ہیں تو ہمیں عجیب سی سرشاری اور اطمینان سا محسوس ہوا کرتا ہے۔ دوستی اور محبت بھی اسی طرح کی ہی گویا ایک چیز ہی ہے، جب ہو جائے، جس سے ہوجائے، انسان ہزار کوششوں کے باوجود بھی بے بس سا ہوجاتا ہے،
یہ سب کچھ شائید ہمارے اختیار سے باہر ہوا کرتا ہے۔
جو اختیار میں ہے وہ ہے ممکنہ حد تک اس خوبصورت سے تعلق میں خلوص، پاکیزگی اور ایک دوسرے کی عزتِ نفس کا مکمل احساس اور کیئر، اگر یہ نہیں تو دوستی یا محبت نہیں کچھ اور ہی ہوا کرتی ہے، جس کے مناظر ہمیں ہمارے معاشرے میں جا بجا بکھرے ہوئے ملتے ہیں، سانحات اور حادثات کی صورت میں۔
کبھی کبھی کسی سے ملنے اس سے خوب باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے، لیکن!
اگر وہ سامنے آجائے تو سب کی سب باتیں دھری کی دھری ہی رہ جاتی ہیں، وقت سمٹ کر پھر سے کشیدہ فراری محلول یا آیسینز کی طرح اڑنا شروع ہو جاتا ہے، جیسے پر سے لگ گئے ہوں، ایسے لمحات زیادہ وقت تک ساتھ نہیں دیتے، اُن لمحات کی اذیت کو بیان کرنے کیلئے ہی شائید شاعر نے یہ قطع لکھا ہوگا۔
"چند کلیاں نشاط کی چن کر،
مدتوں محوِ یاس رہتا ہوں،
تجھ سے ملنا خوشی کی بات سہی،
تُجھ سے مل کر اُداس رہتا ہوں۔۔"
( ساحر لدھیانوی)
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کاش ایسا ہو پاتا، کاش جو ہوا ہے ایسا نہ ہوتا، لیکن ملنا، بچھڑنا، جیت، ہار اور خوشی غمی اور اچانک سے ایک سرپرائز کی طرح ملنے والی مسرّت یا خوشی یہ سب کچھ شائید اوپر کہیں طے شدہ ہوتا ہے، جب اور جس وقت وہ ملنا ہوتا ہے، یا کھونا ہوتا ہے وہ سب کچھ بھی بہت ہی نفاست کےساتھ ایک طرح کے انتہائی calculated طریقے سے سب کچھ فیڈ کیا ہوا ہوتا ہے، جس سے ہم ہزار کوشش کے باوجود بھی فرار حاصل نہیں کرپاتے، شائید اسی کا نام تقدیر ہے۔
لیکن!
یہ کاش کسی بھی طرح کا پچھتاوا نہیں ہے، لوحِ محفوظ پر لکھا ہی ایسے ہوا تھا، اور تقدیر کے لکھے کو ہم مٹا ہی نہیں سکتے۔
آج میں اپنے موضوع سے بلکل ہٹ کر لکھ رہا ہوں، اگر کسی دوست کو کچھ عجیب سا لگے تو معذرت خواہ ہوں، بس آج بہت ہی عجیب سی رومانویت سوار ہو رہی ہے، جسے چند الفاظ کا روپ دے کر اس کیفیت کا پریشر کم کررہا ہوں, دل کے بند دروازے کی ایک کھڑکی کھول رہا ہوں کہ زندہ رہنے کیلئے تازہ ہوا کا معطر جھونکا بھی آنا بہت ضروری ہے۔
آپ سب کا:-
جی۔ایم چوہان۔
20.09.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں