حاصل مطالعہ
شہنشاه جلال الدین محمّد اکبراوردین الٰہی
اکبر دین الٰہی بنانے پر کیوں مجبور ہوا؟
منتخب التواریخ علامہ عبدالقادر بدایونی کی مشہور کتاب ہے- موصوف شہنشاه اکبر کے هم عصر ہیں- اور اس کے دربارمیں رہے ہیں- وه اکبر کے بارے میں لکهتے ہیں کہ وه ایک بادشاه تها جو حق کا طالب تها اور اپنے اندر نفیس جوہر رکهتا تها- اکبر اپنی ابتدائی زندگی میں بڑا دیندار اور عبادت گزار تها- اس نے سات عالم صرف نماز کی امامت کے لئے مقرر کر رکهے تهے جن میں ایک خود ملا عبدالقادر بدایونی تهے- وه کہتے ہیں کہ اکبر کی دربار میں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز هوتی تهی جس میں بادشاه خود شریک هوتا تها- اکبر جب سفر کے لیے نکلتا تو اس کے ساتھ ایک خاص خیمہ نماز کا هوتا تها جس میں بادشاه جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا تها-
شہنشاه اکبر کے اس دیندارانہ مزاج کا یہ قدرتی نتیجہ هوا کہ اس کے دربار میں علماء جمع هونے لگے- اکبر کو حدیثیں سننے اور مسائل دین پر گفتگو کرنے سے خاص دلچسپی تهی- اس مقصد کے لئے وه علماء کی صحبتوں میں دیر دیر تک بیٹهتا تها، ملا بدایونی نے لکها ہے کہ اکبر کے گرد جمع علماء کی تعداد ایک سو سے بهی اوپر تک پہنچ گئی تهی- بادشاه کے گرد جمع هونے والے یہ علماء قدرتی طور پر بادشاه کی عنایتوں میں حصہ پانے لگے- بس یہیں سے وه حالات پیدا هوئے جس نے ایک دیندار بادشاه کو بے دین بنا ڈالا-
ظاہر ہے کہ سو آدمی بیک وقت بادشاه کے قریب نہیں بیٹهہ سکتے تهے- چنانچہ پہلا جهگڑا نشست گاہوں پر شروع هوا- ہر ایک اس کوشش میں رہتا کہ وه بادشاه کے قریب بیٹهے- اب جس کو قریب جگہ نہ ملتی وه جلن میں مبتلا هوتا- اسی طرح بادشاه کے انعامات میں جس کو کم حصہ ملتا وه اس سے حسد کرنے لگتا جس کو اتفاق سے زیاده انعام مل گیا هو-
علماء کا حال یہ هوا کہ وه ایک دوسرے کو گرانے کے لئے ایک دوسرے کی برائیاں کرنے لگے- ملا بدایونی کے الفاظ میں علماء کے گروه سے بہت سی بیہودگی ظاہر هوئی ایک نے دوسرے کے خلاف زبان کی تلوار نکالی، ایک دوسرے کی نفی کی اور تردید میں لگ گیا- ان کا اختلاف یہاں تک بڑها کہ ایک نے دوسرے کو گمراه ثابت کیا- نوبت یہاں تک پہنچی کہ شاہی دربار میں ان علماء کی گردنوں کی رگیں پهول آئیں، آوازیں بلند هوئیں اور زبردست شور برپا هوا-
علماء کی ان نازیبا حرکتوں سے بادشاه کا متاثر هونا فطری تها- اس کو سخت گراں گزرا اس کے بعد بادشاه نے پہلی کارروائی یہ کی کہ ملا بدایونی کو حکم دیا کہ اس قسم کے نا معقول عالموں کو آئنده بادشاه کی مجلس میں آنے نہ دیں- اس کے باوجود علماء کی حرکتیں بند نہ ہوئیں- ان کی باتیں بادشاه کے لئے ایمانی قوت کے بجائے بدگمانی اور برگشتگی میں اضافہ کا سبب بنتی رہیں- علماء کا یہ حال تها کہ ایک دوسرے کے ضد میں کوئی عالم ایک چیز کو حرام کہتا اور دوسرا اس کو حلال بتاتا- ان چیزوں نے بادشاه کو شک میں ڈال دیا- اس کی حیرانی بڑهتی چلی گئی- یہاں تک کہ اصل مقصد ہی سامنے سے جاتا رہا-
درباری علماء میں سے ایک ملا عبداللہ سلطان پوری تهے- ان کا سرکاری لقب مخدوم الملک تها- انهوں نے مختلف طریقوں سے جو دولت جمع کی تهی اس کا حال ملا بدایونی نے ان الفاظ میں لکها ہے " ان کا انتقال ہوا تو بادشاه کے حکم سے ان کے مکان کا جائزه لیا گیا جو لاہور میں تها - اتنے خزانے اور دفینے ظاہر ہوئے کہ ان خزانوں کے تالوں کو دہم کی کنجیوں سے بهی کهولنا ممکن نہ تها- حتی کے سونے سے بهرے ہوئے چند صندوق مخدوم الملک کے خاندانی قبرستان سے برآمد ہوئے جنهیں مردوں کے بہانے سے زمین میں دفن کیا گیا تها "-
شاه عبدالقدوس گنگوہی کے پوتے ملا عبدالنبی تهے جو اکبر کے زمانہ کے سب سے بڑے عالم سمجهے جاتے تهے- پورے ملک کے خطباء اور ائمہ کے درمیان جاگیر تقسیم کرنے کا انهیں اختیار تها- شہنشاه اکبر ان کا اتنا زیاده احترام کرتا تها کہ ان کی جوتیاں سیدهی کرتا تها- مگر مزکوره مخدوم الملک اور ملا عبدالنبی کے درمیان رقیبانہ کش مکش شروع ہوئی- ایک نے دوسرے کو جاہل اور گمراه ثابت کرنے کے لئے رسالے لکهے- ایک نے دوسرے کے بابت لکها کہ چونکہ انهیں بواسیر ہے اس لئے ان کے پیچهے نماز نا جائز ہے - دوسرے نے لکها کہ تم اپنے باپ کے عاق کئے ہوئے بیٹے ہو اس لئے تمهارے پیچهے نماز جائز نہیں- اس قسم کی لا یعنی بحثوں سے شاہی کیمپ صبح و شام گونجتا رہتا تها-
شہنشاه اکبر ابتداء نہایت دین دار تها اور دینی شخصیتوں سے بڑی عقیدت رکهتا تها- مگر دین کے نمائندوں کی خرافات کو مسلسل دیکهنے کے بعد وه دین سے بیزار ہو گیا اور دینی شخصیتوں سے بهی- علماء کا یہ حال تها کہ جانوروں کی طرح آپس میں لڑتے- ایک عالم ایک فعل کو حرام بتاتا اور دوسرا عالم اسی فعل کو حلال قرار دیتا-
ملا بدایونی لکهتے ہیں :
اکبر اپنے زمانہ کے علماء کو غزالی اور رازی سے بہتر سمجهتا تها- جب اس نے ان کی پست حرکتوں کو دیکها تو حال پر ماضی کو قیاس کر کے سب کا منکر ہو گیا-
اس کے بعد اکبر کے دربار میں علماء کا وقار ختم ہو گیا- ابو الفضل اور فیضی جیسے لوگ دربار شاہی میں اہمیت اختئار کر گئے- اکبر کو علماء کی باتوں کی کوئی پرواه نہیں رہی- ابوالفضل اکبر کے سامنے علماء کا مزاق اڑاتا اور اکبر اس کو سن کر خوش ہوتا- ملا بدایونی کے الفاظ میں : کسی بحث کے درمیان اگر ائمہ مجتہدین کی کوئی بات پیش کی جاتی تو ابوالفضل اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتا کہ فلاں حلوائی، فلاں کفش دوز اور فلاں چرم ساز کے قول سے تم میرے اوپر حجت قائم کرنا چاہتے ہو-
اسباق تاریخ
مولانا وحیدالدین خان۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں