اتوار، 21 جون، 2020

Aik Pegham Mulk Dushmano kay Lie

  حاصل مطالعہ

فوج کو لیکچر دینے والے دانشگردوں کے نام

27 دسمبر 1979: افغان فوجی وردیوں میں ملبوس روسی خفیہ ادارے کے جی بی اور جی آر یو کے کمانڈوز اپنے ٹھکانوں سے نکلے اور انہوں نے صدارتی محل سمیت کابل کی اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرکے افغان صدر حفیظ اللہ امین کو قتل کر دیا۔ چند منٹوں کے اندر اندر افغان حکومت بغیر کسی بڑی مزاحمت کے دھڑام سے گر گئی۔

کچھ ہی دیر بعد ریڈیو کابل سے ایک اعلان نشر ہوا جس میں کہا گیا کہ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما ببرک کارمل نئی افغان حکومت کے سربراہ ہوں گے اور روس نے انہی کی ایما پر یہ فوجی آپریشن کیا ہے۔
سویت یونین برف پوش پہاڑوں سے اٹھا افغانستان آگیا صرف اسکا  حدف پاکستان تھا 

اس وقت کے صدر پاکستان نے امریکی صدر کو فون کیا کہ اگر سویت یونین سے اپنے بدلے لینے ہیں تو بتائیے ۔امریکی صدر نے حامی بھری ۔جنرل ضیاء الحق شہید نے کہا ہماری تین شرطیں ہیں پہلی اسلحہ دو گے کہاں استمعال ہوا نہیں پوچھو گے ۔امداد کا کوئی حساب نہیں ہوگا ۔اور پاکستانی  ایٹم بارے خاموش رہو گے۔امریکی مان گئے

اس وقت سرخوں نے بہت شور مچایا وہی الزام لگا امریکی غلامی کا ۔امریکہ فنڈز لینے کا واویلا 
پھر وقت نے دیکھا سویت یونین ٹوٹا اور شہید ضیاء الحق کو مرد مومن کا خطاب ملا اور تنقید کرنے والوں کے حصے میں لعنت آئی۔مشورے دینے والوں کو شرمندگی ہوئی اور بھاشن دینے والے مٹ گئے۔

وقت گررتا گیا

امریکہ میں نائن الیون حملوں کے ڈراموں کے بعد اکتوبر 2001 میں امریکہ  افغانستان میں آ ٹپکا

نائن الیون حملوں کے دوران پاکستان میں فوجی حکومت تھی اور جنرل پرویز مشرف آرمی چیف اور ملک کے صدر بھی تھے۔
افغانستان کے ساتھ طویل سرحد اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک ہونے کی بدولت امریکہ نے پاکستان سے تعاون طلب کیا۔
اس دوران یہ خبریں بھی عام رہیں کہ اُس وقت کے امریکی نائب وزیرِ خارجہ رچرڈ آرمٹیج نے پاکستان کو تعاون نہ کرنے پر 'دھمکی دی کہ بمباری کے ذریعے اسے پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا۔'
اس سے قبل پاکستان امریکہ کا ساتھ افغانستان میں ہی لڑی جانے والی سویت یونین کے خلاف جنگ میں ساتھ دے چکا تھا۔
افغانستان کا پڑوسی ملک ہونے کے باعث امریکہ کو پاکستان کی مدد درکار تھی۔ لہٰذا اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش نے پاکستان سے مدد طلب کی۔
پرویز مشرف نے بھی مختلف مواقعوں پر انٹرویو کے دوران اس دھمکی کی تصدیق کی۔ البتہ رچرڈ آرمٹیج نے 2006 میں امریکی ٹی وی 'این بی سی' نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس کی تردید کی تھی۔
رچرڈ آرمٹیج نے کہا تھا کہ پاکستان سے صرف یہ کہا گیا تھا کہ کیا وہ امریکہ کے ساتھ ہے یا نہیں؟
پاکستان نے بظاہر اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی پاکستان میں فوجی حکومت کی مخالف مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے بھرپور مخالفت کی۔

البتہ جنرل پرویز مشرف نے اس فیصلے کو پاکستان کے وسیع تر مفاد میں قرار دیا۔ پرویز مشرف نے کہا تھا کہ "امریکہ سے محاذ آرائی کی صورت میں پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
"افغانستان میں پاکستان کی کامیابی کے پیچھے جنرل مشرف کی مغرب کیلئے دوغلی اور پاکستان کیلئے ناگزیر حکمت عملی تھی ۔11 ستمبر کے بعد امریکی بپھرے ہوئے تھے پوری دنیا ان کے ساتھ سوگ میں مصروف تھی وہ افغانستان ایک حکمت عملی کے تحت آرہے تھے ۔ کیا اس بدمست جنگی مشین کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ؟ اس وقت امریکیوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ اور بعد میں امریکیوں کو دھوکہ دینے کا فیصلہ دونوں ٹھیک تھے ۔ان فیصلوں کی بھاری قیمت ادا کی گئی ہے لیکن اس جنگ نے دہشت گردی کے بدترین دور میں پاکستانی معیشت کو زندہ رکھا ۔8 اکتوبر کا خوفناک زلزلہ آیا اور دو بدترین سیلاب آئے ۔توانائی کا بدترین بحران رہا لیکن افغان جنگ کی وجہ سے آنے والے امریکی ڈالروں نے پاکستانی معیشت کو بھی دیوالیہ نہیں ہونے دیا ۔امریکی افغانستان میں پھنسے مرے اور اپنی معیشت کو بھی ستیا ناس کروایا
پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ امریکی جنرلز اور سابق خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے برملا کہا کہ پاکستان نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا 
اور پھر مشہور ہوا کہ پاکستان نے امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دی 
تنقید کرنے والوں ،امریکی غلام کہنے والو ۔فنڈز لینے کا طعنہ دینے والوں کے حصے میں پھر لعنت آئی

وقت گزرتا گیا۔۔۔۔۔۔۔

مقبوضہ کشمیر پلوامہ میں حملہ ہوا اپنی عوام کو خاموش کرانے کے لیے بھارتی فوج نے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستان ایئر فورس کے ایکٹو ہونے اور پیچھا کرنے پر پے رول گرا کر چلتے بنے ۔
پھر پورا 26 فروری کے  یہاں طوفان اٹھا ۔پاک فوج کو بزدلی کے طعنے دیے جانے لگے ۔ لبرلز ،لفافے ،سرخے ،سیاستدان سبھی 
پاک فوج پر بھونکنے لگے
کہا جانے لگا کہ اتنا بجٹ لیتے پھر بھی کچھ نہیں کر رہے۔لنڈے کے دانشور پاک فوج کو مشورے دینے لگے۔موسمی محب وطن پاک فوج پر تنقید کرنے لگے
۔پھر 27 فروری کو ساری دنیا نے دیکھا کہ پاک فوج نے نا صرف لائن آف کنٹرول کراس کیا بلکہ ہندوستانی فوج کا تڑا نکال کر آگئی اور دو ہندوستانی طیارے مار گرائے ایک پائلٹ ہلاک اور ایک گرفتار کیا تب بھی لیکچرز دینے والوں کے حصے میں لعنت آئی

پھر وقت گزرتا گیا۔۔۔۔۔۔۔ 

اور بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی پھر دانش گردوں نے کی لیکچر شروع کر دے ۔اور تو اور چین کی لداخ میں پیش قدمٹ پر بھی فوج کو مشورے دینے شروع ہوگئے ہیں۔
مگر لنڈے کے دانشوروں کو ہر پالیسی بتائی نہیں جاتی ۔آنے والے وقتوں میں کامیابی ہی فوج کی کامیابی پالیسیوں کی گواہی دیتی ہیں
لنڈے کے دانشوروں کو صرف لیکچر جھاڑنے آتے ہیں

مگر ایک بات ہمیشہ کی طرح سن لو یہ پاک فوج ہے ۔یہ بڑھکیں نہیں مارتی یہ پلانگ کرتی ہے اور دشمن کو گھٹنوں پر لا کر کھڑا کرتی ہے۔
یقین نہیں تو دیوار برلن کے ٹکڑوں اور وائیٹ ہاؤس کی دیواروں سے پوچھ لو ۔ابھی نندن سے پوچھ لو
آپریشن ضرب عضب میں ہزاروں عبرت کا نشان بننے والے دہشت گردوں سے پوچھ لو۔

آج کل جہاں دشمن اور اسکے آلہ کار پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں وہیں محب وطن پاکستانی انکا منہ توڑ جواب دینے میں۔ایسے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ واقع ہی عظیم جذبے کے مالک ہیں جو برے سے برے وقت میں بھی افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
مگر اس جنگ میں کچھ  ایسے بھی لوگ سامنے آئے ہیں جو پہلے بظاہر حب الوطنی کا برچار کرتے ہیں مگر آہستہ آہستہ اپنی اصلیت دکھانا شروع ہوجاتے ہیں 

انکا طریقہ واریت نرالا ہے جس کو سمجھے 

سب سے پہلے وہ لوگ قوم پرستی اور حقوق سے شروع کرتے ہیں۔ شروع میں کہتے کہ ہم ریاست اور افواج کے ساتھ ہیں مگر ریاست ہمارے حقوق نہیں دے رہی۔

آہستہ آہستہ یہ لوگ ان وسائل پر بات کرتے ہیں کہ یہ ہمارے علاقے کے ہیں دوسرے صوبے والے انکو کھا ریے۔

پھر کبھی کسی دہشتگرد کی تصویر اپلوڈ کر کے کہتے ہیں کہ آخر ریاست کو سوچنا چاہیے کہ ان طالب علموں نے ہتھیار کیوں اُٹھائے؟!

پھر وہ کہتے کہ فوج پر ہماری جان قربان مگر ہم کچھ جنرلز پر تنقید کریں گے یہ ہمارا حق ہے۔

پھر کہیں گے کہ یہ فوج کے بڑے آفیسرز سکون سے رہ رہے بچارے ہمارے سپاہیوں کی حالت دیکھو 

آج کل ان لوگوں نے نیا طریقہ اپنایا ہے کہ یہ لوگوں دلوں میں زہر بھرنے کے لیے پوسٹ کرتے ہیں کہ فوج کشمیر کے لئے کچھ نہیں کر رہی چین دیکھو کافر ہے پھر بھی وہ لداخ میں گھس گیا۔اگر ایسا ہے تو بھارتی ایجنسیوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف اپنے میڈیا کے زریعے باجوہ ڈاکٹرائن کیمپین کیوں چلوائی۔

کبھی کہیں گے فوج پر یہ الزام لگا ہے کہ پاک فوج کو خود کو اس سے کلئیر کرنا چاہیے۔ 

یہ محب وطن پاکستانیوں کو کہتے ہیں فوج سے ہمیں بھی محبت ہے مگر ہم تمہاری طرح پالشے نہیں 
یہ تھی لوگو کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور خود کو محب وطن کہلوانے والوں کی نشانیاں

ان کو جواب دینے کی صورت میں بوٹ پالشی کا طعنہ دے کر یہ لوگ بھاگ جائیں گے۔ان کو پالشی فوبیا ہو گیا ہے۔

ایسے لوگوں کو پہ پہچانیں ۔یہ آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہنوں میں زہر بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا تو جان بوجھ کر یا نادانی میں پہلے انکو پیار سے سمجھائیں
کیونکہ لوگوں کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنا ملک دشمنوں کا راستہ ہموار کرنا ہی ہے۔ہم حالت جنگ میں ہیں 

حب الوطنی کی آڑ میں میٹھے لہجوں میں زہر اگلنے والوں سے ہوشیار رہیے۔

نواب مبین حسن۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...