جمعہ، 11 دسمبر، 2020

Hamara Show Baaz Maashray aur Doulat ki Ghair Munsifana Yaqseem, ہمارا شو باز معاشرہ اور دولت کی غیر مناسب تقسیم

 صدائے درویش

 " ہمارا شو باز معاشرہ اور دولت کی غیر مناسب تقسیم"


افلاس، غربت میں بے توقیری یا پیسے کی بنیاد پر  انسان کا عزت و وقار  در اصل ہماری معاشرتی طبقاتی تقسیم کے پیدا کردہ مسائل ہیں، مفلسی بغیر کسی شک کے انسان کو کفر تک لے جاتی ہے، مفلس کی معاشرے میں عزت اور بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور یہی سب سے بڑی سچائی ہے۔


یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ جس معاشرے کو بھی برباد کرنا ہو اس میں مفلسی ڈال دی جائے تو وہ معاشرہ گراوٹ کی ہر حد کو عبور کرتا چلا جائے گا, مفلسی چاہے معاشی ہو یا معاشرتی، دونوں ہی نقصان دہ ہوا کرتی ہیں۔


علامہ سر محمد اقبال رحمت اللہ کا قول ھے کہ مفلسی "ام الخبائث" ھے۔

اللہ سب کو اس سے محفوظ رکھے، افلاس میں سب سے خطرناک قسم اخلاقی مفلسی ھے کہ اخلاقی طور پر مفلس معاشرے میں پیسہ اور دکھاوا ھی انسانی عزت اور جاہ و جلال کی علامت گردانا جاتا ھے، آج ہم اسی کا بہت ہی بری طرح سے شکار ہیں، جرائم کے تیزی سے بڑھنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ کوئی زمانہ تھا کہ بڑے کہتے تھے کہ " پیسہ تو کنجروں کے پاس بھی ہوتا ہے" لیکن عزت نہیں۔ 

لیکن! اس دورِ رست خیز میں یہ مثال بھی غلط ثابت ہو چکی، جس کے پاس پیسہ ہے اسی جو جھک کر سلام، مفلس کے مقدر میں دائمی دھکّے۔ کہاں گیا وہ معیار جس میں شرافت ہی عزت و تکریم کی بنیاد ہوا کرتی تھی؟


کسی دور میں دولت کو شو بازی کیلئے نہیں بلکہ خوف سے زمین میں دبا دیا جاتا تھا کہ کسی کو اندازہ تک نہ ہو کہ کسی کے پاس پیسہ ہے یا کوئی مالدار ہے، آج دولت روڈوں، پارکوں اور malls وغیرہ میں سر عام بھنگڑے ڈال رہی ہے تو دوسری طرف افلاس زدہ اور بھوکے لوگ کچرا دانوں تک سے اپنا رزق تلاش کرتے یا بھوکا پیٹ بھرتے نظر آتے ہیں، استغفر اللہ و اللہ و اکبر!


فیصل آباد میں دلہن کو ماں باپ کی طرف سے 11 کلو سونا پہنانا، ملتان میں دولہا کے سونے کے جوتے، گوجرانوالہ میں شادی کی ایک شاہانہ تقریب میں اربوں کا خرچہ یا سمبڑیال کے نزدیک ایک برات میں ڈالرز کی برسات، کسی شادی میں جہیز میں ہر طرح کا مال مویشی دیا جانا یا پھر دولہا کو اسلامی میں قیمتی تحائف اور بنگلہ، گھر کے دوسرے افراد کو گاڑیوں کا دیا جانا، یہ سب کے سب دولت کے بیجاء اسراف اور جھوٹی نمود و نمائش کے ہی زمرے میں آتے ہیں تو دوسری طرف اسلامی احکامات کے خلاف بھی، اسلام میں دولت کا بیجاء اسراف کرنے والوں کو "شیطان کے بھائی" قرار دیا گیا ہے۔ خوشی کے موقع پر بیشک اخراجات کریں لیکن ایک حد تک، تاکہ اس میں نمود و نمائش یا "دکھاوا" بلکل بھی نہ ہو، ڈالرز لوٹتے ہوئے غرباء کی جو چھینا جھپٹی میں حالت ہوئی وائرل شدہ ویڈیو اُسکی بہترین عکاس تھی۔ پیسوں سے کھیلنے والو! خدا کیلئے ہوش کے ناخن لو، دولت کے دکھاوے سے باز آجاؤ۔


ہماری سوسائٹی کا فریضہ ہے کہ افلاس زدہ فرد، افراد یا گروہ کی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچائے، ورنہ اگر بھوک چھین کر کھانے پر مجبور ہو گئی تو بہت بڑا معاشرتی تصادم اور المیہ بھی ہو سکتا ہے کہ طبقہ اشرافیہ اس ٹکراؤ کا متحمل ہو ہی نہیں سکے گا اور نہ ہی افلاس اور بھوک سے متاثرہ گروہ کا مقابلہ کر پائے گا، تاریخ عالم ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔


جی.ایم.  چوہان

10.12.2020.

جمعہ، 4 دسمبر، 2020

ھمارے محسن وعظیم مسلم ہیروز اور اکابرین کی کردار کشی کی مہم اور مذموم مقاصد

 صدائے درویش

ھمارے محسن وعظیم مسلم ہیروز اور اکابرین کی کردار کشی کی مہم اور مذموم مقاصد

میرے دوستو!

وطن عزیز میں عرصہء دراز سے ایک طرح کی مہم جاری ہے کہ تمام "مسلم ہیروز اور اکابرین" کو مسلمانوں کے نجات دھندا نہیں یا محسن نہیں، بلکہ ظالم و جابر اور حملہ آور ثابت کیا جائے اور مقامی راجوں اور مہراجوں کو مظلوم اور سچا ثابت کیا جائے، اُنہیں ہی مقامی ہیروز ثابت کیا جائے، یہ بلکل ویسے ہی ہے جیسے "لارنس آف عربیہ" نے عربوں کے دلوں میں مسلم اجتماعیت کے خلاف عرب قومیت کا بیج بو کر انہیں "سلطنتِ عثمانیہ" کے خلاف استعمال کرکے مسلمان یونٹی کی علامت اور مثال اور سینکڑوں سالوں پر محیط مسلم سلطنت کو توڑ کر مسلمانوں کی طرح کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا تھا۔


آج پھر انہیں کے ایجنٹس ہیں جو پاکستان بھر میں متحرک ہو کر پاکستان میں نسل اور قوم پرستی کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں کہ ایک نظریئے کے تحت قائم ہونے والے ملک کو (خاکم بدہن) ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اسے ختم کردیا جاتے۔جو جو اصحاب، گروہ یا تنظیمیں اس مکروہ عمل کا حصّہ ہیں وہ آج ان تمام عرب ممالک کا حشر دیکھ لیں جو ایک ایک کرکے ایک یہودی غاصب ملک اسرائیل کو تسلیم کرتے چلے جا رہے ہیں، اسرائیل کو ہی اب اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔ 


میرے دوستو!


اگر اسلام دنیا بھر میں ایک اکائی کی صورت میں ایشیا، افریقہ اور مشرقی یورپ میں (سلطنتِ عثمانیہ کی طرح) پہلا ہوا ہوتا تو انکو کبھی بھی کبھی ہم سب کے آقا و مولیٰ کی شان کے خلاف گستاخی پر مبنی خاکوں اور کبھی شعائر اسلام کا مذاق اڑانے اور اپنی مذموم و مکروہ ریشہ دوانیوں کو جاری رکھنے کا حوصلہ ھی نہیں ہونا تھا۔


اسلام تو اجتماعیت کا درس دیتا ہے، تقسیم در تقسیم کا نہیں، جو لوگ وطنِ عزیز میں مختلف رُوپ میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کر رہے ہیں وہ سب انہی شیطانی قوتوں کے پیروکار ہیں جنہوں نے "سلطنتِ عثمانیہ" کو توڑ کر ملت اسلامیہ کی طاقت کو توڑا تھا۔ جیتنے بھی ملک طاغوت کے آلہء کار بنے تھے آج اُنکا حشر ہم سب کے سامنے ہے، ایک ایک کرکے سب پکے ہوئے آم کی طرح اسلام اور پاکستان ملک اسرائیل کی جھولی میں گرتے چلے جا رہے ہیں، ہمارے لبرل اور نام نہاد دانشور قوم پرست طبقے کو اللہ سمجھنے کی توفیق دے کہ وہ پاکستان میں مقامی لوگوں کو ہیروز قرار دے رہے ہیں وہ ایسا نہ کریں، یہ مکروہ عمل کسی بھی طرح ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہیں، وہ سب اسی راستے پر چل رہے ہیں جن پر وہ لوگ چلے تھے جنہوں نے بالآخر ذاتی مفادات کو ترجیح دیکر مسلم اتحاد کو توڑ کر ہی دم لیا تھا اور آج کمزور و بے بس ہو کر انہیں "چرنوں" میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں، لیکن آنے والا وقت بتائے گا کہ وہ گھاٹے کا سودا کرچکے ہیں۔


اس مملکت خدا داد اور اپنی آزادی اور اس آزادی کے رکھوالوں کی قدر کیجئے، یہی ہم سب کے بہترین مفاد میں ہے ورنہ ایک بار پھر دائمی غلامی ہمارا مقدر بن سکتی ھے۔


آج آخرِشب کیلئے آپ سب کو میرا یہی حقیر سا پیغام ہے۔


آپ سب کی دعاؤں کا طلبگار:-


غلام محمد چوہان۔

03.12.2020

جمعرات، 3 دسمبر، 2020

Baba Bullayh Shah ki Aik Hidayat Aik Waqia

 حاصلِ مطالعہ۔

بابا بّلھے شاہ کی ایک حکایت ایک واقعہ ایک حقیقت

ایک دن ایک جٹ بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا-

کہنے لگا "دنیا داری زیادہ نہیں جانتا، عشق حقیقی سمجھنا ہے-"

بابا جی نے کہا " یہ بتاؤ کے دنیا میں سب سے زیادہ محبت کس سے کرتے ہو؟"


جواب دیا-


"اپنی بھینس سے کرتا ہوں-"

بابا جی نے کہا-

"آج سے تمھارا سبق یہی ہے کہ اسے دیکھتے رہو، چھ مہینے تک-"

بندہ خوش ہوگیا-


چھ مہینے کے بعد حاضر ہوا تو بابا جی نے پوچھا کہ "کون؟"

اس نے کہا "جٹ"-


بابا جی نے پھر حکم کیا کیا-

جاؤ اور چھ مہینے بعد آنا-


جس دن وہ بابا جی کو ملنے آیا تو دروازے سے سر ٹکرا کر واپس ہو جاتا اندر نہیں جا رہا تھا-


بابا جی نے اس سے پوچھا-

"بھائی! اندر کیوں نہیں آتے؟"

کہنے لگا-


"بابا جی! اندر کیسے آؤں، میرے دونوں سینگ اس دروازے میں پھنس جاتے ہیں-"


بابا جی نے ہنستے ہوئے کہا-


"جاؤ! آج تمھارا سبق پورا ہوا-


"رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی"


عشق حقیقی یہی ہے کہ اپنی ذات کی نفی ہو جائے.

22.11.2820

Aqal k Andhay Aandhay ajkay Log

صدائے درویش . آخرِشب

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

آج کا انسان دانشمند یا اناپرست خودغرض


السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ!

میرے دوستو!


ہمارے اس معاشرے کی بہت بڑی خرابی ہے کہ یہاں ھر کوئی خود کو عقلِ کل سمجھتا ہے، دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ ہمیشہ خود کو تھوڑا احمق، نکمّا اور بے عقل ھی رہنے دیا جائے یا سمجھا جائے تو بہتر ہے، بھرے برتن میں کوئی نادان ہی پانی ڈالتا ہے، پانی کم ہوکر جب تک زمین وتّر پر نہ آجائے تو وہ فصل پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتی، بہترین بیج بھی اس میں پھینک دیا جائے تو ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر طلب صادق ہے تو خود کو خالی سمجھنا سیکھ لیں ورنہ آگے بڑھنے کا سفر رُک سکتا ہے، نیا پانی ڈالتا اور پیالہ پیالہ بھر کسی کے کام آتا رہے، کسی کی پیاس بجھاتا رھے تو مٹکے میں موجود پانی کا پانی کبھی بھی باسی نہیں ھوتا، اسے کائی نہیں لگتی قابلِ استعمال رہتا ہے، نجس نہیں سمجھا جاتا، مٹکا ہمیشہ بھرا اور پاک و صاف رہتا ہے۔


خالی رہنا سیکھ لیں، بھرا ہوا نہیں، عاجزی و انکساری ہی پھلدار ہونے کی نشانی ہے، کانٹے دار درخت پر پھول تو لگ سکتے ہیں، پھل نہیں۔


کیا کبھی کسی دوست نے اُجاڑ کوئیں دیکھے ہیں؟


جب تک کنواں پانی تقسیم کرتا رہے پاک و صاف سمجھا جاتا ہے، علم و دانش اور دولت بھی ایک طرح سے پانی کا کنواں ہی ہوا کرتی ہے، اسے بانٹتے رہنا ہی بہترین عمل ہے، فیض جاری ہی رہنا چاہئے، اگر بانٹنے کا عمل رُک جائے تو کنواں غیر آباد ہوجاتا ہے، بلآخر سوکھ کر ہمیشہ کیلئے ختم ھوجاتا ھے ۔


دوسروں کے دُکھ بانٹنا سیکھئے، یہی انسانیت ہے، عبادت ہے، محبّت ہے، اور بہترین توشہء آخرت بھی، 


آج آخرِشب میں فقیر کی پٹاری میں یہی چند الفاظ ہیں، زندگی بخیر، مزید باتیں پھر سہی۔


طالبِ دعا:-


غلام محمد چوہان۔

26.11.2020

بدھ، 2 دسمبر، 2020

Naiki Aur Baddi

صدائے درویش

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

نیکی اور بدی کی جنگ اور اسلامی تعلیمات

میرے دوستو!

اگر ہم تاریخ عالم پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نیکی اوربدی میں صدیوں سے جنگ جاری و ساری ہے، صرف اُسکی شکل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

اگر ہم صرف "ھندو میتھالوجی" کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کل یگ چل رہا ہے، کب سے چل رہا ہے اسکا کسی کو بھی علم نہیں۔ ہندو دھرم کے عقائد کے مطابق کالکی اوتار آئیں گے بدکاروں کے خلاف ہتھیار اٹھا کر انہیں ختم کریں گے تو یہ "کل یگ" ختم ہوگا، ایسا ہی اسلام میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں احادیث مبارکہ اور روایات ملتی ہیں، کب آئیں گے اور مختلف فتنوں کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے، بدی کو شکست دیں گے اور ہر طرف اسلام کا بھر ست دور دورہ ہوگا، شانتی ہی شانتی ہوگی، لیکن کب نزول ہوگا، کچھ علم نہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ شائید اب آپ علیہ السلام کی آمد کا وقت قریب ہے۔


میرے دوستو!


پہلےعرض کر چکا ہوں کہ ازل سے ہی نیکی اور بدی میں جنگ جاری ہے، اب ہم "عصرِ حاضر" پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں وہ کچھ دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے کہ "الحفیظ و الامان۔" کچھ واقعات تو ایسے ہوئے ہیں کہ دیکھ اور سن کر روح کانپ اٹھتی ہے، بیساختہ ذہن میں آتا ہے کہ "ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا" لیکن ویسا ہو چکا ہوتا ہے۔


میں جب اپنے بچپن کے ماحول کو یاد کرکے عصرِ حاضر پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ہر طرح سے زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے، بیساختہ خود سے کہہ اٹھتا ہوں کہ يار وہی دور اچھا تھا، جیسے میں سوچ کر آج سے 50,40 سال پہلے کے دور کو اچھا سمجھتا ہوں، مجھے یاد ہے میرے والدین اور دیگر عزیز و اقارب گئے وقتوں کو بھلےوقت کہہ کر یاد کیا کرتے تھے، اور جس وقت کو میں آج اپنا بہترین وقت سمجھتا ہوں، اسے وہ اسے دورِپرفتن کہا کرتے تھے۔ شائید اُنکے اجداد ہمارے بڑوں کے بھلےوقتوں کو انتہائی بُرا وقت سمجھتے رہے ہوں۔ میرے ایک بہت اچھے ہندو دوست اسے کال کا چکّر" کہا کرتے تھے، شائید ہو بھی۔


حضرت آدم علیہ السلام کے نزول کے بعد جب دنیا میں پہلا قتل ہوتا ہے، بھائی کو بھائی اقلیمہ کی خاطر مار ڈالتا ہے تو یہ کل یگ تب سے ھی شروع ہوگیا تھا جو ہنوز جاری ہے، کب تک جاری رہے گا، کچھ پتہ نہیں کچھ اندازہ نہیں۔


یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ جب بھی برائی اور ظلم استبداد کو کسی بھی قوم میں حد سے زیادہ عروج حاصل ہوا، وہاں اللہ کے نیک بندے، نبی اور اوتار اُترے ہیں، ظلم و ستم اور وقت کے خدائی دعوے کرنے والوں کے خلاف صف آراء ہوتے ہیں شکست دیتے ہیں۔ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) انبیاء کرام کے سلسلے کی آخری کڑی ہیں، آپکی بعثت کے ساتھ ہی اللہ رب العزت کی طرف سے انبیاء کرام کا آنا رُک گیا ہے، یہی ہمارے ایمان کی بنیاد اور عقیدہ ہے۔


آنحضرت کے دنیا سے وصال کے بعد پھر سے جو دنیا خصوصاً عالمِ اسلام کی جو حالت ہوتی ہے اُسے پڑھ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، خصوصاً سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی المرتضیٰ مرتضیٰ کا دورِ خلافت اور پھر سانحہء کربلاء، تفصیل میں جانا ممکن نہیں، آپ سب اصحاب کو سب اندازہ ہوگا کہ تب کیا ہوا، پھر کیا ہوتا چلا گیا اور اب کیا ہو رہا ہے۔


موجودہ حالات میں مجھے اور آپکو جو مسائل اور آسانیاں درپیش ہیں وہ ہمیں اجداد کو نہیں تھیں اور اسی طرح سے جو چیلنجز، آسانیاں اور آرائش ہمیں ہیں وہ آنے والی نسلوں کو نہیں ہونگی، دور جدید کے مسائل آنے والوں کے لئے ہم سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔


جو مذہبی اور اخلاقی اقدار ہمارے اجداد کے دور میں تھیں وہ اب نہیں ہیں، آنے والا وقت کیسا ہوگا، نئی نسل کیا کیا کچھ بھگتے گی، اس کا بھی اندازہ لگانا بہت مشکل سا عمل ہے۔ اندازہ ہے کہ انکی مصروف زندگی میں سے اگر اُنہیں کچھ سوچنے کیلئے فارغ وقت ملا تو وہ ہمارے اس دور کو اچھا وقت کہیں کہ جو ہمارے بڑے وقت گزار گئے وہی اچھا وقت تھا، ہم بُرا وقت گزار رہے ہیں۔ یہی کال کا چکّر ہے اور یہ بھی کہ انسان کسی بھی حال میں خوش نہیں رہتا۔


میرے ساتھیو!


اس وقت جو ہمیں سب سے بڑا سماجی مسئلہ درپیش ہے وہ ہمارا اخلاقی انحطاط ہے، اگر ہم اخلاقیات میں دیگر اقوامِ عالم سے پیچھے رہ جاتے ہیں تو ہم یقینی طور پر مذہبی طور پر بھی سب سے پیچھے رہ جائیں گے کیوں کہ "مذہب اور اخلاق" دونوں ہی لازم و ملزوم ہیں۔


آج کے دور کے حساب سے جو کچھ face کررہے ہیں اُن میں ہمارا اخلاقی طور پر دیوالیہ پن صاف عیاں ہے، آپ پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرونک میڈیا اور عام طرزِ زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں شدّت سے اخلاقیات کی کمی محسوس ہوتی ہے، صرف کمی کی بات کر رہا ہوں ہم مسلمانوں یا ہمارے مشرقی معاشرے سے خدا نخواستہ بلکل ختم ہونے کی ہرگز بات نہیں کر رہا۔ 


میرے بھائیو میرے ساتھیو!


اس دورِپرفتن میں ہم اگر اپنے سماجی و مذہبی اقدار و عقائد اور اخلاقی مسائل کو مزید روبزوال ھونے سے بچا لیں تو یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہوگی، میرا ایمان ہے کہ خطرات صرف مسلمان کو درپیش ہیں اسلام کو نہیں کیونکہ اس دین حق کی حفاظت اللہ رب العزت نے کرنی ہے اور وہ کرے گا بھی، اپنی بقاء یا فناء کا فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں ہے، ہم سب پر لازم ہے ک ہم سب خود کو عملی طور پر مومن ہونا ثابت کریں صرف مسلمان نہیں،، میرا آج آپ سب کیلئے آخرِ شب یہی پیغام ہے۔۔


اللہ ہم سب کو کہنے اور کر گزرنے کی عملی توفیق عطا فرمائے۔


طالبِ دعا:-


غلام محمد چوہان۔

27=11=2020.

منگل، 1 دسمبر، 2020

Social Media ka Ghalat Istemal

صدائے درویش

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات اور سوشل میڈیا کاغلط استعمال، ھماری ذمہ داریاں


السلام علیکم!


آج میں آپ سب کا زیادہ وقت نہیں لونگا اور نہ ہی کوئی لمبا چوڑا "بھاشن" دینے کا ارادہ ہے، ایک ہی پوائنٹ پر آپ سب سے بات ہوگی، وہ ہے سوشل میڈیا اور اسکا ناجائز استعمال۔ 


آپ سب دوست جانتے ہیں کہ یہ فیس بک کی دنیا ہے جس میں مخلص اور سچّے لوگ یا دوست خال خال ہی ملا کرتے ہیں، ورنہ کثرت ایک سراب کے سوا کچھ بھی نہیں, یہ بھی حقیقت ہے کہ اس فورم کو ایسا بنانے والے بھی ہم خود ہی ہیں، کوئی دوسرا نہیں۔


ہم برصغیر کے لوگ اس سوشل میڈیا کا ناجائز فائدہ بھی خوب اٹھاتے ہیں، فیس بک کے بانی نے کبھی خواب میں بھی اسکا وہ استعمال نہیں سوچا ہوگا جس برے طریقے سے ہم اسکا استعمال کررہے ہیں۔


دیکھا جائے تو فیس بک ایک طرح سے ایک "انٹرٹینمنٹ" پلیٹ فارم ہے، مگر اسکا جس طرح سے ہم استعمال کررہے ہیں وہ بھی ہم سب کے سامنے ہے۔ سارے دن کا تھکا ماندہ انسان جب سوشل میڈیا پر آتا ہے تو اُسے یہاں آکر دوستوں سے مل کر خوش ہونا چاہئے، نہ کہ بھانت بھانت کی بولیاں سن کر ڈسپرس اور افسردہ و پریشان۔


کوئی سیاست کو لئے بیٹھا ہے تو کوئی مذہبی معاملات کو تو کوئی کسی کی ذاتیات کو، ہر کوئی ایک دوسرے کی کردار کشی پر اپنا فریضہ سمجھ کر کمربستہ ہے۔ ہر کوئی خود کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانے میں مصروف ہے۔ بات یہاں تک ہی رہتی تو پھر بھی بہتر تھا، اس وقت کثرت ایسی ہے جو اس فورم کو "جنسی تحریک" پیدا کرنے اور لوگوں کو اس طرف مائل کرنے کیلئے بھی سرگرم عمل ہے، لوگوں سے ان باکس میں آکر ایسی باتیں اور تصاویر کیساتھ ساتھ ذاتی ننگی ویڈیوز بھی شئیر کرتے ہیں کہ دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔


دوستو!


اس بات کو یاد رکھیں، ہم اگر ہندو، سکھ، عیسائی یا مسلمان ہیں تو اسکے ساتھ ساتھ ہم " مشرقی لوگ " بھی ہیں، ہماری بھی کچھ روایات ہیں جن میں شرم و حیاء اور حفظ مراتب کا خیال بھی ہے، لوگوں کی کبھی عزتیں ساجھی ہوا کرتی تھیں، آج وہ حالت ہے کہ لوگوں کا مقدس رشتوں سے بھی یقین آٹھ چکا ہے، لوگ اب کسی پر یقین کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے خائف ہیں، ایسا کچھ ہوا بھی ہے کہ بندہ بندے سے خوف زدہ ہو جائے، حقیقت کم اور دھوکا زیادہ ہے، قدم قدم پر دھوکہ، فریب اور چیٹنگ کا سامنا ہو تو کون کسی پر اعتبار کرے گا اور کیوں۔


میرےساتھیو!


دوستی بھی ایک طرح کا مقدّس سا رشتہ ھی ھے، اس میں اگر ھم کسی کے ساتھ دو نمبری یا دھوکہ بازی کریں گے تو تو اس مقدّس رشتے کا بھی وقار مجروح ہوگا، دوست بنیں اور دوست بنائیں، میں اس سے کسی کو بھی منع نہیں کرتا، نہ ہی مجھے کرنا چاہئے، بس دوستی کے نام پر کسی کے بھی ساتھ چیٹنگ مت کریں، خصوصاً خواتین کیساتھ۔ 

خواتین سے بھی ملتمس ہوں کہ وہ بھی کسی ایسی حد کو مت عبور کریں جس سے بعد میں انہیں پچھتاوا ہو۔ 

عزتِ نفس جسے عرفِ عام میں "Self respect" بھی کہتے ہیں اُسکا ضرور خیال رکھیں، اپنی بھی اور دوسروں کی بھی، کیونکہ میرے خیال میں دنیاوی زندگی میں عزت سے بڑھ کر کوئی چیز ہے ہی نہیں، عزت چاہے مرد کی ہو یا کسی خاتون کی وہ عزت ہی ہوا کرتی ہے، اپنی عزت و وقار کو بھی محفوظ رکھیں اور اپنے ان باکس کی تحریم کو بھی، میری آپ سب سے آخرشب یہی التماس ہے۔


آپ سب کا:-

غلام محمد چوہان۔

25.11.2020.

اتوار، 29 نومبر، 2020

Afwahon ka Bazar Aur Watnay Aziz ki Mushkilaat

 صدائے درویش

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

افواھوں کا بازاراوروطنِ عزیزکی مشکلات

میرے دوستو!


بدقسمتی سے وطنِ عزیز ان دنوں مختلف انواع و اقسام کی افواہوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، کوئی اپنے وی لاگ یا تبصرے میں کچھ کہہ رہا ہے تو کوئی کچھ، کوئی ملکی اندرونی حالت پر بات کررہا ہے تو کوئی پاکستانی خارجہ پالیسی پر تنقید، کوئی ہمیں فوج کے خلاف اُکسا رہا ہے تو کوئی موجودہ حکومت کی داخلی، خارجی اور معاشی ناکامیوں پر، کہیں قوم پرست ایکٹو ہیں تو دوسری طرف کچھ مذہبی رہنما ریاستِ پاکستان کے بجائے مسلکی اور فقہی بنیادوں پر دوسرے ممالک کے حق میں سوشل میڈیا پر زہر اگل رہا ہیں تو کوئی opposition کی طرف سے ریاستی اداروں کی ساکھ کو عام پاکستانی کی نظر میں خراب کرنے اور دفاعی افواج اور عوام کو آمنے سامنے لانے کے ملک دشمن غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ھے، سب کچھ آپ بھی روزآنہ کی بنیاد پر دیکھتے  ہی ہونگے۔ ہر کوئی اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے، ملک و قوم یا عام پاکستانی کے گھمبیر مسائل کا کسی کو بھی خیال تک بھی نہیں، حکومتِ وقت کو بھی نہیں، شائید انکو اپنے مسائل سے اتنی فرصت تک نہیں کہ وہ عام بندے کیلئے بھی کچھ سوچیں، انکی زندگیاں آسان بنائیں،  کوئی طویل المقاصد "روڈ میپ" دے سکیں تاکہ تیزی کیساتھ بدلتے ہوئے عالمی حالات کا ساتھ دینے کیلئے پاکستانی سیاسی قیادت کوئی " طویل المدّتی" لاہ عمل تیّار کر سکے تاکہ ملک اپنی ذاتی پالیسیوں پر چل کر ملک کی صحیح سمت کا تعین کر سکیں۔


ان بھانت بھانت کی بولیوں کا سب سے زیادہ شکار عام پاکستانی ہے، خواص کو کسی بھی طرح کی کوئی ضرورت ہی نہیں کہ وہ بہترین ملکی مفادات کیلئے کسی بھی طرح کا کوئی کارنامہ ہائے نمایاں سرانجام دے کر آنے والی نسل کو وہ بہتر مستقبل کی ضمانت فراہم کر سکیں، اگر اشرافیہ خوش ہے تو انکے لئے عام بندہ جائے بھاڑ میں, دور رس قومی مفادات کے حامل پروگرامز، پالیسیز اور عام شہری کی بھلائی اور فلاح و بہبود بھی۔


میرے بھائیو!


اس دور میں کچھ خاص لوگوں کے علاوہ ہر پاکستانی "شش و پنج" اور frustration کا شکار ھے کہ پتہ نہیں آنے والا وقت کیا ہوگا اور ہمیں کیسے کیسے رنگ دکھلائے گا۔


ڈپریشن اور فرسٹریشن نے عام بندے کو اس حد تک مایوس اور چڑچڑا کردیا ہے کہ وہ درست بات کو بھی درست سمجھنے کیلئے تیار نہیں، موجودہ حالات نے ہمیں ہر طرح کی بيقینی کا شکار کردیا ہے۔


فقہی، گروہی، فروعی, مسلکی اور سیاسی مسائل پر ہماری کثرت ایک دوسرے سے اُلجھی رہتی ہے، دوستیاں انہی مسائل کی بنا پر دشمنیوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں، جن کے لئے ہم ایک دوسرے سے "دست و گریبان ھر کر ھر اخلاقی حد کو عبور کرتے چلے جا رہے ہیں، وہ سب کے سب تو ایک ہیں، انکے ذاتی مفادات بھی ایک، انکے باہمی جھگڑے ھم سب کیلئے محض دکھاوا ہی ہیں، حقائق اس کے برعکس ہیں۔


میرے دوستو!


یقین جانئے جو جو کچھ ہوتا ہے، جن جن وجوہات کی بنیاد پر ہورہا ہے وہ تو عام شہری کا مسئلہ ہی نہیں نہیں ہے، جان،مال، عزت و وقار کیساتھ جینا اور اپنے بنیادی آئینی حقوق اور ریاست کیساتھ دائمی وفاداری کی بات کرنا ہی ہم سب کیلئے مناسب اور بہترین عمل ہے۔


میرے دوستو!


آج ہم سب آخرِشب میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم سیاسی اور فقہی مسائل سے اپنے پیاروں کا دل نہیں دکھائیں گے، آپس میں دست و گریبان ہونا چھوڑ دیں گے، عزت و احترام دیں گے اور دوسرے سے اسی کی توقع بھی رکھیں گے، یہی بقاء کا راستہ ہے، کسی بھی طرح کی افواہوں پر بلکل بھی کان نہیں دھریں گے، اپنے اپنے ذاتی اعمال کو درست کرکے پھر اجتماعیت کی طرف بڑھ کر سچائی، ایمانداری، دیانتداری اور ملکی وفاداری پر مشتمل ایک معاشرہ قائم کریں جو کہ ہماری آنے والی نسلوں کیلئے بھی مشعلِ راہ ہو،  ورنہ جو ہونا ہے وہ نوشتہءدیوار ہے۔


آپ سب کا:-


غلام محمد چوہان۔

23.11.2020.

اتوار، 22 نومبر، 2020

Kor Chasham, کورچشم

حاصلِ مطالعہ- منقول 

میرے دوستو!

عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو

آج آخرِشب میں یہ کاپی پیسٹ حاضر خدمت ہے، مجھے امید ہے آپ سب کو بہت پسند آئے گی, یہ کہانی پڑھنے کے بعد مجھے آج کچھ لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی، ایسے لگ رہا ھے جیسے میرے تمام الفاظ اس کہانی کے سامنے گونگے ہو چکے ہیں، اگر بات سمجھ میں آ جائے تو نامعلوم لکھاری کو خراج تحسین پیش کر دیجئے گا۔


طالب دعا:-

غلام محمد چوہان،

17.11.2020.


کورچشم


سنا ہے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی، اور آپ نے ڈر کے مارے اسے طلاق دے دی تھی"برگد کے درخت کے نیچے کرسی پر بیٹھے ایک خاموش طبع بوڑھے سے ایک منچلے نے استہزائیہ کہا. ساتھ ہی قریب بیٹھے نوجوانوں کی ٹولی نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو ہنس کردیکھا.


"اللہ بخشے اسے،بہت اچھی عورت تھی." بنا ناراض ہوئے، بغیر غُصّہ کئے بابا جی کی طرف سے ایک مطمئن جواب آیا.

مسکراہٹیں سمٹیں، ایک نوجوان نے ذرا اونچی آواز میں کہا "لیکن بابا جی لوگ کہتے ہیں وہ بڑی خطرناک عورت تھی، کیا نہیں؟ بابا جی کچھ دیر خاموش رہے پھر کہنے لگے.

کہتے تو ٹھیک ہی ہیں، وہ عورت واقعی بہت خطرناک تھی اور حقیقتا میں نے ڈر کے مارے اسے طلاق دی تھی۔


"یہ بات تو مردانگی کے خلاف ہے، عورت سے ڈرنا کہاں کی بہادری ہے؟ نوجوان جوشیلے انداز میں بولا۔


"میں عورت سے نہیں ڈرتا تھا، میں تو "اس" سے ڈرتا تھا جس تک اس کی رسائی تھی، پرسکون جواب۔


جوانوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا.


ایسی عورتوں کو تو.جہنم میں ہونا چاہیئے."لا حولا ولا قوۃ" کہاں آپ جیسا شریف النفس انسان کہاں وہ عورت، اچھا کیا چھوڑ دیا "نوجوان کے لہجے میں غصہ تھا، بوڑھے کی مجسس زندگی کا پٹارا کھل کر سامنے آگیا تھا. 


تجسس ختم ہوا، اب سب باری باری منتشر ہونے لگے. جانے والوں نے عنوان پڑھ لیا تھا، کہانی خود بنانی تھی.جو رہ گئے تھے، وہ وہی تھے جو اصل کہانی جاننا چاہتے تھے۔


میں بھی ایسا ہی سوچتا تھا کہ اسے جہنم میں ہی ہونا چاہیئے تھا، تب ہی میں نے اسے جہنم جیسی زندگی دی تھی"بوڑھی آنکھوں میں اضطراب اترا.


یہ تب کی بات ہے جب میں سرکار کے ہاں سو روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا، میری ماں چاہتی تھی کہ میری شادی ہوجائے. رشتہ ڈھونڈا گیا، ایک مونگ پھلی فروش کی بیٹی میری ماں کو پسند آئی، سلیقہ مند، خوبصورت اور ایک دم خاموش طبع. مجھے اس رشتے پر اعتراض تھا کہ وہ ایک مونگ پھلی بیچنے والی کی بیٹی تھی۔ مزدور کی اولاد کو پیٹ کی فکر رہتی ہے، تربیت کی نہیں،بتربیت تو بڑے گھرانوں میں کی جاتی ہے جہاں افلاس آنکھوں کے روشنی چھیننے سے قاصر ہوتا ہے.وہ کیا تربیت دے گی میری اولاد کو؟ لیکن وہ لڑکی میری ماں کو ایسی پسند تھی کہ اماں اس کے علاوہ کسی کا نام نہیں سننا چاہتی تھیں.


پھر وہ بیاہ کر میرے گھر آگئی، رخصتی کے وقت اس کے باپ نے مجھے کہا،

"میری بیٹی سیدھی سادھی ہے، اسے دنیاداری کا کوئی خاص پتا نہیں، اگر کہیں کوئی چوک ہوجائے تو معاف کردینا، یوں ھے بڑے دل والی، اپنے "سائیں"  کو خوش رکھے گی، وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی میری ماں نے بتایا تھا.سلیقہ مند، سگھڑ اور تابعدار. "بابا جی کی وہی گھسی پٹی بابوں والی داستان ہوگی، یہ سوچ کر دو نوجوان اٹھ کر چلے گئے.


میری باہر دوستوں کے ساتھ صحبت کوئی اچھی نہیں تھی ،ملازمت کے اوقات میں کھانا گھر سے باہر کھاتا، دوستوں میں بیٹھتا، رات گئے تک محفل چلتی پھر گھر جاتا. وہ کیا کھاتی تھی کیا پیتی تھی کس حال میں رہتی تھی مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی.انہی دنوں میری ماں بھی دنیا سے رخصت ہوگئی.


ایک روز میں  جوئے میں بھاری رقم ہار کر جب تھکا ہارا گھر آیا تو کہنے لگی" آپ تو کھانا باہر کھا لیتے ہیں، مجھے بھوک لگتی ہے، ہوسکے تو  ایک ہی بار مہینے کا راشن ڈلوا دیا کیجیئے، روز روز بازار سے خریداری کی صعوبت نہیں اٹھانی پڑے گی. "کیا؟ اس پھونگ پھلی بیچنے والے کی بیٹی کی اتنی اوقات کہ مجھ سے مطالبہ کرسکے؟ مجھے طیش آیا.


ہو ناں تم کسی بہت بڑے باپ کی بیٹی کہ تمہیں پورے مہینے کا راشن اور خرچ چاہیئے، اپنی اوقات دیکھی ہے؟  غصے میں آکر اس پر ہاتھ اٹھایا اور مغلظات بھی بکے، میں نے یہ نہیں سوچ سکا کہ آخر اسے زندہ رہنے کے لئے روٹی تو ہر حال میں چاہیئے تھی۔


وہ جسمانی اعتبار سے کافی کمزور تھی، مار برداشت نہیں کرسکتی تھی، پشیمانی تھی یا کیا وہ دو دن تک بستر پر پڑی رہی. مجھے اس کی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی.


پھر اس نے گھر میں ہی سینا پرونا شروع کردیا، ہاتھ کا ہنر اس کے  کام آیا یوں اس کی روٹی کا انتظام ہوگی، اور میں یہ سوچ کر پہلے سے بھی زیادہ بے پرواہ ہوگیا.


ایک روز ایک ہمسائے نے مجھے روک کر کہا "دن میں جب آپ گھر نہیں ہوتے تو آپ کے گھر سے باتوں کی آوازیں آتی ہیں" میرے سوا میری غیر موجودگی میں کون آتا تھا.جس سے وہ اتنی آواز میں باتیں کرتی تھی؟ غصہ حد سے سوا تھا، بس نہ چلتا تھا کہ اسے جان سے ماردوں، لیکن میں بس ایک موقع کی تاک میں تھا.


ایک رات پچھلے پہر  کسی کے بولنے کی آواز پر میری آنکھ کھلی،  چاندی رات میں صحن میں پڑی ہر شے بالکل واضح طور پر دکھائی دیتی تھی، میں اٹھ کر دروازے تک آیا، اب آواز زیادہ واضح تھی.وہ کہ رہی تھی۔


"سائیں! صبح ایک روٹی کے لئے آٹا گھر میں موجود ہے، وہ ایک روٹی کھا کر چلا جائے گا، یہ سوچے بنا کہ میں سارا دن بھوکی رہوں گی میری روٹی جب تک تیرے ذمے تھی تو عزت سے ملتی تھی، میرے سائیں! تو نے اپنے نائب کے ہاتھ دی تو روٹی کیساتھ بے عزتی اور اذیت بھی ملنے لگی، مجھے اب روٹی تو ہی دے، تیرا بنایا نائب تو خائن نکلا "وہ میری شکایت کررہی تھی"     لیکن کس سے؟؟؟ کون تھا جو اسے روٹی دیتا تھا مجھ سے بھی پہلے؟

میں نے باہر آکر دیکھا وہ صحن کے بیچ چارپائی پر ہاتھ میں سوئی دھاگہ اور فریم لئے خود سے باتیں کررہی تھی. وہاں کوئی بھی نہ تھا، میرے پیروں سے زمین نکل گئی، وہ خدا سے میری شکایت کررہی تھی.وہ اس لمحے مجھے کوئی اور ہی مخلوق لگی، وہ بہت کم بولتی تھی لیکن وہ کس کے ساتھ اتنا بولتی تھی، آج مجھے سمجھ آیا تھا. وہ تو بہت بڑے باپ کی بیٹی تھی.کیسی عورت تھی جو افلاس کے ہوتے بھی "خدا شناس" تھی.میرا جسم خوف سے کانپ رہا تھا.


دن چڑھتے ہی میں نے سامان باندھا اور اسے اس کے باپ کے گھر چھوڑ آیا، سسر نے  طلاق کی وجہ پوچھی تو میں ڈرتے ہوئے کہنے لگا،

" یہ بڑی خطرناک عورت ہے، بڑے دربار میں میری شکایتیں لگاتی ہے. مجھے ڈر ہے کہ بادشاہ کو کسی دن تاؤ آگیا تو میرا حشر نہ کردے "حقیقت یہ تھی کہ میں اس کیساتھ انصاف نہیں کرسکا تھا.


اس کا باپ گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا. میرے پلٹنے پر کہنے لگا " میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ اسے دنیاداری نہیں آتی، وہ تو بس "سائیں" کو خوش رکھنا جانتی ہے, اس کی مراد خدا سے تھی اور میں خود کو سمجھا تھا.


جب میں واپس گھر آیا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ رات اس نے یہی تو مانگا تھا، تُو خود مجھے روٹی دے، تیرا نائب تو خائن نکلا اور آج نان نفقے کا اختیار مجھ سے چھین لیا گیا.


میں بے تحاشہ رویا، اس کا سائیں بہت بڑا تھا، اس کی رسائی جس تک تھی وہ تو دوجہانوں  کا رب تھا، وہ جس کی ایک روٹی مجھ پر بھاری تھی وہ اس کے لئے کیا نہیں کرسکتا تھا، میں واقعی ڈر گیا تھا.میں آج بھی ڈرتا ہوں کہیں میرے حق میں اس نے کوئی بددعا نہ کردی ہو.


ٹھیک کہتے ہیں لوگ! کہاں میں کہاں وہ؟ "بوڑھی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی.


میں  "کور چشم" اسے پہچان نہیں سکا، میں نہیں ڈرتا تھا، حالانکہ ڈرنا چاہیئے تھا ،اس کے سائیں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ "عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو" کہانی کے اختتام تک ایک جوان بابا جی کے پاس بیٹھا تھا.

کہانیاں بہت سے لوگ جانتے ہیں لیکن حقیقت تک پہنچنے والا کوئی ایک ہی ہوتا ہے۔

ہفتہ، 21 نومبر، 2020

Mulki Sayasi Suratehal ka Aik Jaiza

" بسم اللہ الرحمٰن الرحیم"

صدائے درویش


"ملکی سیاسی و انتظامی حالات پر ایک نظر"


جس ملک کے سیاسی ایوانوں اور جلسہ گاہ کے میدانوں میں ملکی مسائل، داخلی معاملات، خارجہ پالیسی، معاشی استحکام، ملکی تعمیر و ترقی، عام بندے کی فلاح و بہبود اور ملکی مستقبل کے بجائے حزبِ اقتدار اور حزب اختلاف ایک دوسرے کی کردار کشی، ٹانگیں کھینچنا، پگڑیاں اچھالنا، سیاسی مخالفین پر انتقامی مقدمات بنانا ہی رہ گیا ہو، اس ملک کے مجموعی سیاسی حالات ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، لاقانونیت، اجارادری اور غلط حکومتی پالیسیز کی بناء پر دولت گردش کرنے کے بجائے کئی دہائیوں سے مخصوص "مافیاز" کے ہاتھوں میں ہو، مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہو، لوگ بھوک کے ہاتھوں خودکشیاں کررہے ہوں، ہر سطح پر "کرپشن" اور رشوت ستانی کا دور دورہ ہو، عدالتوں جھوٹی گواہیاں اور انصاف بِکتا ہو، قلم بکتے ہوں، دانشور بِکتا ہو، جہاں صرف پیسہ ہی ترجیح ہو، ملکی مفاد نہیں۔ جس نظام میں "طبقہء اقتادریہ و اشرافیہ" سب ٹھیک جان کر حکومتی ایوانوں میں مزے لوٹ رہے ہوں تو "ایسے سسٹم پر حیف، ایسے نظام پر تف"


ہر طرف عوامی سطح پر بيقینی کی کیفیت ہو، عام شہری خود کو کسی بھی طرح سے محفوظ نہیں سمجھتا ھو، لاقانونیت کا دور دورہ ہو، جس کے ہاتھ جو آیا وہ لے بھاگا ہو، جب سیاستدانوں کی پہلی ترجیح اقتدار اور ذاتی مفادات ہوں، ملکی وسائل سے عام شہری کی فلاح و بہبود کے بجائے ملکی دولت بیرونِ ملک ذاتی اکاؤنٹس پہنچادی ہو تو اس ملک کی سیاسی قیادت پر تین حرف اور "انا للہ وانا الیہ راجعون"


ریاست کی مثال بھی ایک طرح سے گھر کی سی ہوتی ہے، جب سیاستدان اور عوام کی اُسکی جڑیں کھوکھلی کرنا شروع ہو جائیں تو اسکی وہی حالت ہونی ہے جو اس وقت اس ملک کی ہے، ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے اور مستقبلِ قریب میں اس سے نکلتا ھوا نظر نہیں آتا۔ 


لیکن!


یاد رکھیں ہر عروج کو زوال تو بہرحال ھے ھی، دیکھیں جب آتا ہے، کب محب وطن افراد اور سیاسی قوّتیں آگے بڑھ کر اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالتی ہیں اور کھوکھلے نعروں کے بجائے وطنِ عزیز کو اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل سمجھتی ہیں۔ منظر ہوں اس وقت کا اس دن کا، شدّت سے منتظر کہ جب قومی مجرموں کو عدالتوں سے مثالی سزائیں ملیں گی کہ آئندہ کبھی بھی کوئی فرد، افراد یا ادارے ملکی آئین و قوانین کو "موم کی ناک" سمجھ کر ذاتی مفادات کے حصول کے لئے استعمال نہیں کرسکیں گے، جب عام پاکستانی بھی عدالتوں سے فوری انصاف حاصل کر سکے گا، جب عام پاکستانی کے دُکھ، تکالیف اور مسائل کا ملکی قیادت کو بھرپور احساس ہوگا، جب طبقہء اشرافیہ اور آپ شہری میں کسی بھی طرح کا کوئی فرق نہ ہوگا اور جب حاکمِ وقت عام شہری کو جواب دہ ہوگا۔ میں شدّت سے منتظر ہوں اس وقت کا جب وطنِ عزیز صحیح معنوں میں "پاکستان ہو " قائد اعظم اور علامہ سر محمد اقبال کا پاکستان" دیکھیں میرا یہ خواب کب پورا ہوتا ہے یا پورا ہوتا بھی ہے یہ نہیں۔


آپ سب کا:-


غلام محمد چوہان۔

18.11.2020

پیر، 16 نومبر، 2020

Khushhali Kaisay, Akhri Shab

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

صدائے درویش 

آخرشب

خوشحالی کیسے؟

میرے عزیزو میرے دوستو!


ہم نماز ہر میں اللہ تعالیٰ سے آخر میں یہی دعا مانگا کرتے ہیں کہ

 " ربّنا اتنا فی الدنیا حسنہ و فی الآخرۃ حسنہ وقنا عذاب النار۔


میرے دوستو!


میرا ایمان ہے کہ اگر میری، آپکی اور ہم سب کی دنیا بہتر ہے تو یقینی طور پر ہماری آخرت بھی بہتر ہوگی، حیرت ہورہی ہوگی کہ کیسے؟ کیونکہ کثرت تو آخرت کی بہتری کی خواہش مند ہوا کرتی ہے، دنیا کی نہیں۔


ابھی بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔


دوستو!


ہمارے اعمال احسن سے ہی ہماری دنیا بہتر ہوگی، اگر عمل نیک ہیں تو ہمارا ہر قدم بہتری اور انسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے اٹھے گا، دنیاوی زندگی کی بہتری کیلئے ہمارا ہر لحاظ سے تونگر اور خوشحال ہونا پہلی شرط ہے۔ علامہ سر محمد اقبال رحمت اللہ علیہ نے افلاس کو "اُم الخبائث" کہا تھا، مفلسی ذہنی ہو یا معاشی يا معاشرتی انسان کو کفر تک لے جا سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اللہ رب العزت سے آخرت کی بہتری سے پہلے دنیاوی پہتری کی ہی طلب کرتے ہیں، مفلسی سے اللہ کی پناہ طلب کرنا "سنّت رسولِ مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) بھی ہے۔


خوشحالی کیسے؟


بہت باریک سا نقطہ ہے، دنیاوی خوشحالی کے لئے ہمیں اسلامی طرزِ حیات میں "فلسفہء حرام اور حلال" کو سمجھنا ہوگا، کبھی ہم نے کبھی غور کیا کہ جو نوالہ ہم حلق سے نیچے اتار رھے ہیں وہ ہمارے "رزق حلال" سے ہی ہے؟ کہیں اُس لقمے میں ذرا سا بھی حرام تو شامل نہیں، کیا وہ لقمہ کسی کے حلق سے تو نہیں کھینچا گیا، کیا اس لقمے کو حاصل کرنے کیلئے کسی کی حق تلفی تو نہیں کی گئی؟ ہم سیر ہوکر کھا رہے ہیں لیکن ہمارے عزیز و اقارب، دوستوں یا اہلِ محلّہ یا گرد و نواح میں کوئی شخص ایسا تو نہیں جو ایک نوالے کیلئے بھی ترس رہا ہو۔


ہم اللہ سے " صراط مستقیم" پر چلنے کی دعا تو کرتے ہیں، لیکن اس پر صدقِ دل سے عمل پیرا نہیں ہوتے، یہاں ہی وہ سب سے انفرادی اور اجتماعی خوفناک اور تباہ کن خرابی ہے جو ہماری دنیا تو بہتر کرتی ہی ہے مگر آخرت کی دشمن ہے۔


میرے دوستو!


عام زندگی میں جب "سیدھے راستے" پر چلنے کی تیاری کا ارادہ کرتے ہیں تو اسی وقت ہمارا #نفس ہم پر تیزی سے حملہ آور ہوتا ہے، ہمیں اس راستے سے بھٹکانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے جو " صراط مستقیم" ہے، جو اللہ کے نزدیک بہترین اور پسندیدہ راستہ ہے، جس کی پہلی سیڑھی "رزق حلال" کا حصول ہے۔ 


قناعت وہ بہترین ہتھیار ہے جس سے ہم نفس کے شر سے بچ سکتے ہیں، تھوڑے میں راضی رہ کر اپنی زندگی گزار سکتے ہیں، اسے تھوڑے میں سے ہی " تقویٰ" کے ہتھیار سے کسی بھوکے کا پیٹ بھر سکتے ہیں۔ 


میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی دنیاوی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے آگے مت بڑھیں، کلامِ الٰہی میں فرمان الٰہی کا مفہوم ہے کہ "میں نے اسکو اتنا ہی دیا جتنی س نے کوشش کی" صدق یا اللہ العلمین صدق، لیکن آگے بڑھتے ہوئے صرف اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ ہم کسی کو روند کر تو آگے نہیں بڑھ رہے، کسی کی حق تلفی تو نہیں کر رہے، اپنا پیٹ بھرنے کیلئے کسی سے اسکا اور اُسکے بچوں کا نوالہ تو حلق سے نہیں کھینچ رہے؟


اگر اس طرح کے عمل کرکے ترقّی اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں تو یہی حقوق_Iلعباد کی سیدھی خلاف وری ہے اور اللہ رب العزت کے رزاق ہونے سے صاف انکار بھی، حلال سے جو آپ کما سکتے ہیں ضرور کمائیں لیکن اس کے دیئے ہوئے میں سے اُنکا حصّہ نکلنا مت بھولیں جو اللہ کے دیئے ہوئے میں سے آپ سے لینے کے حقدار ہیں، اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو میں، آپ یا ہم یا سارا معاشرہ سب کے سب قانونِ فطرت کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونگے اور اللہ رب العزت کے قانونِ تقسیم کے بھی, جو حلال طریقے سے ملا ہے اسی شاکر رہیئے، حسبِ توفیق اُسکے دیئے میں سے دینا سیکھئے یہی توکل ہے، سانس کا کیا بھروسہ صاحب! کل کی کیا فکر، یہی تقویٰ ہے میرے دوستو۔


دنیاوی زندگی کو اللہ رب العزت کی سب سے بڑی اور عظیم نعمت سمجھو، دنیا ہی دار العمل ہے، پُل صراط ہے جس پر ہم چل رہے ہیں جو بال سے بھی باریک اور تلوار سے بھی زیادہ تیز ہے۔ جس پر چلتے وقت ہر قدم بہت احتیاط کے ساتھ اٹھانا ہے کہ " جنّت یا دوزخ کی آگ یہیں سے لیکر جائیں گے" ایک بار پھر کہوں گا کہ اگر ہم اس دنیا میں "حلال و حرام" کو سمجھ گئے تو اسلام اور اسلامی تعلیمات و طرزِ حیات کو سمجھ جائیں گے، خدمات کو ترجیح دینگے، عبدادات تو اسلام میں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ 

آخرت تو دنیاوی زندگی اور ہماری امتحان گاہ کا رزلٹ ہے، جو بویا ہوگا وہی وہاں کاٹیں گے بھی، سانس کی ڈوری ٹوٹتے ہی ہمارے سب عمل رک جانے ہیں، پھر روزِ محشر سزاء یا جزاء، جنت یا دوزخ، تیسری چیز تو ہے ہی نہیں، میرے عزیزو! اگر ڈرنا ہے تو اللہ رب العزت کی عطا کردہ اسی زندگی سے ڈریئے، آخرت سے خوف کس بات کا اور کیوں؟


اللہ ہم سب کیلئے آسانیاں پیدا فرمائے اور دوسروں کیلئے آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق دے۔


طالبِ دعا:-


غلام محمد چوہان۔

15.11.2020. 

ہفتہ، 14 نومبر، 2020

Akhri shab, LOC Per Bharti Ishtial Angezian Aur Barhti hoi Bharti Dehshatgardi

صدائےدرویش
آخرِشب

 لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ

میرے دوستو!


 آئے دن ہمیں الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہمیں ایسی اندوہناک خبریں ملتی رہتی ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ، کبھی وحشیانہ گولہ باری سے کئی بیگناہ شہری شہادت کا درجہ پاتے ہیں، بہت سے زخمی اور ہمیشہ کیلئے معذور بھی ہو جاتے ہیں تو کبھی پاک آرمی کے جوان و افسران وطن کی حفاظت پر اپنی جان نچھاور کرتے رہتے ہیں، پاکستان جوابی کاروائی بھی کرتا ہے، انکے مورچوں کو نشانہ بھی بناتا ہے، دشمن کو منہ توڑ جواب بھی دیتا ہے۔ لیکن بھارتی فوج کی طرح کنٹرول لائن کے اُس پار جہاں ناجائز بھارتی قبضہ ہے وہاں سول آبادی پر کبھی بھی فائرنگ اور گولا باری نہیں کرتا۔


ایسا کیوں ہے:-


 لائن یا لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف کشمیری مسلمان آباد ہیں جس وجہ سے پاک فوج کسی بھی طرح کا جارحانہ اقدام نہیں اٹھاتی کیوں کہ اس طرف بھی مسلمان ہی آباد ہیں اور لائن آف کنٹرول کے اُس پار بھی مسلمان کشمیری ہی آباد ہیں۔ جب کہ انڈین آرمی کو اس کی کوئی پرواہ نہیں، لائن آف کنٹرول کے اس یا اس پار اگر کوئی شہید یا زخمی ہوتا ہے تو وہ مسلمان ہی ہوگا۔


جموں کی سرحد پر بھارت لائن آف کنٹرول پر جارحیت کیوں نہیں کرتا، کیوں کہ لائن کے اُس پار لائن اف کنٹرول پر کثرت کیساتھ بھارتی سکھ یا ہندو آباد ہیں۔ مسلمان نہیں۔


اللہ بھارتی ظلم اور بربریت کے خلاف ڈٹے ہوئے کشمیری حرّیت پسندوں کی کوششوں کو کامیابی عطا فرمائے جو اپنے وطن کی آزادی کیلئے اپنی جان ، مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں دیکر ایک تاریخ رقم کررہے ہے۔ ہم سب کی دعا ہے کہ ہمارے کشمیری بھائی، بہنوں اور بچوں کو اپنی امان میں رکھے اور جلد از جلد اُنکے لئے بھی آزادی کا سورج طلوع ہو۔ ہم سب پاکستانی کشمیریوں کی مورال سپورٹ کرتے ہیں اور ان شاء اللہ اسی طرح سے کرتے بھی رہیں گے۔ کیوں کہ دنیا بھر کے مسلمان اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) کے فرمان کے مطابق "جسدِ واحد" کی طرح ہیں، جسم کا کوئی بھی حصّہ تکلیف میں ہو تو اسکی تکلیف کو سارا جسم محسوس کرتا ہے۔


میری دعا ہے کہ دیگر مسلمان ممالک کی حکومتوں کو بھی ایسا سوچنے اور غاصب بھارتی حکومت پر اپنا دباؤ بڑھانے کی توفیق دے، انکے ساتھ مل کر رنگ رلیاں منانے کی نہیں۔


آمین یارب العالمین!


آپ سب کا:-


غلام محمد چوہان۔

13.11.2020

Iqbal Day 2020, یومِ اقبال اور اقبال کا فلسفہء خودی

صدائے درویش


"یومِ اقبال اور اقبال کا فلسفہء خودی"


میرے دوستو!


آج 09 نومبر ہے آج کے روز ہی علامہ سر محمد اقبال رحمت اللہ علیہ پاکستانی پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے محلے " چوڑی گراں" میں پیدا ہوئے، زیادہ تفصیلات میں جانا مناسب نہیں کیوں آپ دوست اس کے بارے میں پہلے سے ہی خوب جانتے ہونگے۔


مجھ سے پہلے ہی ہزاروں نہیں لاکھوں اقبال شناس اپنے اپنے انداز میں نذرانہء عقیدت اور آپکی خدمات کو خراج تحسین پیش کر چکے ہونگے اور ان شاء اللہ کرتے ہی رہیں گے، یہ چند الفاظ میری طرف سے بھی، آپکی عظمت کو اسلام کرنے اور آپکے پیغام کو اپنے عام فہم اور سادہ سے انداز میں آپ سب دوستوں تک پنچانے، آپکا قرض اتارنے کیوں کہ  آپ شاعر مشرق اور "حکیم الامت" جو ٹھہرے۔


میں آپکے کلام میں موجود "خودی" کے موضوع پر تھوڑی سی بات کرنا پسند کروں گا، آپ رحمت اللہ علیہ نے جس خودی کا ذکر کیا ہے وہ "متکبرانہ خودی" نہیں بلکہ "خودداری" ہے، اگر فرد، افراد، گروہ، قوم یا اقوام میں یہ وصف پیدا ہو جائے تو اسے دنیا کی کوئی قوّت بھی کسی مقام و موقع پر نیچا نہیں دکھا سکتی شکست نہیں دے سکتی، خودداری کی بنیاد ہی "تقویٰ" ہے۔


علامہ سر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کلام میں " مومن" کی صفت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے،


"ہو حلقہء یاراں تو بریشم کی طرح نرم،

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن۔"


میرے دوستو!


مضمون کی طوالت کی وجہ سے زیادہ لکھنے سے معذور ہوں، زیرِ نظر شعر میں   علامہ سر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جس مقام کا ذکر کیا ہے وہ مقام ہم حاصل کرتی سکتے ہیں، لیکن کس طرح؟

آپ ہی اپنے کلام میں جواب بھی دیتے ہیں۔


سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا،

لیتا جاتے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔


فلسفہء خودی پر بہت واضح مؤقف:-


"اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی،

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔"


" مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے،

خودی نہ بیچ، فقیری میں نام پیدا کر"


"نہیں تیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گنبد پر،

تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر"


نوجوانوں کے لئے پیغام:-


"عقّابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں،

نظر آتی ہے انکو اپنی منزل آسمانوں میں۔"


ہم سب بڑے ذوق و شوق سے ہر سال "یومِ اقبال" تو مناتے ہیں لیکن صد افسوس کہ کلامِ اقبال رحمت اللہ علیہ کی روح کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔


مومن کے خواص پیدا کرنے کیلئے اقبال رحمت اللہ علیہ کا واضح پیغام۔


"کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں،

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں"


اللہ رب العزت ہم سب مسلمانوں کو اقبال رحمت اللہ علیہ کے پیغام کو سمجھنے کی توفیق دے، ایک دن کو مخصوص کرکے بہت بڑی بڑی تقریبات منانے سے کچھ نہیں ہوگا، عمل ضروری ہے، عمل۔


"عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنم بھی،

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے"


"وما توفیقِ الا باللہ"


طلبِ دعا:-

غلام محمد چوہان،

09.11.2020

پیر، 9 نومبر، 2020

Ahle Maghrib Muslims Kay Jazbaat say Khailna Band Kron

 صدائے درویش


"عید میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) کے پر مسرّت موقع پر دنیا بھر کیلئے ایک پیغام"


محمّد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) تبلیغِ دِین کیلئے طائف تشریف لے جاتے ہیں، كفار اور منافقین آپ علیہ صلوۃ والسلام پر اتنے پتھر برساتے ہیں کہ آپ کے نعلین مبارک آپ کے مقدّس لہُو سے بھر جاتے ہیں، اپنے محبوب کی بیحرمتی دیکھ کر غضب الہٰی جوش میں آتا ہے، حضرت جبرئیل امین تشریف لاتے ہیں کہ اے اللّٰہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) آپ حکم فرمائیں، اللہ کے حکم سے ابھی اس ہستی کو ہی صفحہِ ہستی سے مٹا دیتے ہیں۔


آپ فرماتے ہیں نہیں، ہوسکتا ہے "اہلِ طائف" کی نسلوں میں سے ہی کوئی ایمان کے آئے۔


مکّہ پاک میں ایک کافر بڑھیا آپ علیہ صلوۃ والسلام پر روزآنہ جسمِ اطہر پر غلاظت پھینکی ہے، جب چند دن نہیں پھینکی تو آپ اُسکا دریافت فرماتے ہیں تو پتہ چلتا ہے وہ بڑھیا بیمار ہے، آپ اُسکی عیادت کو جاتے ہیں, یہ ہیں ہمارے نبی رحمت۔


فتحِ مکّہ کے وقت آپ علیہ صلوۃ والسلام لشکرِ اسلام کو ہدایت فرماتے ہیں کہ مکہ میں داخل کے وقت کسی بچے، بوڑھے، خواتین پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے، باغات ویران نہ کئے جائیں، کسی کی کسی بھی طرح کی املاک کو نقصان نہ پہنچا جائے، یاد رہے کہ آپ مکّہ مکرمہ میں ایک فاتح کے طور پر داخل ہوئے تھے، دنیا بھر میں فاتحین اپنے مفتوحہ علاقوں پر جس طرح ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑا کرتے تھے تاریخ کے اوراق میں سب کچھ ایک سیاہ باب کی طرح محفوظ ہیں۔


قربان جائیں ہم اپنے آقا و مولیٰ پر، آپ نے ہر موقع پر خود کو "رحمت اللعالمین ثابت کیا، کتنے واقعات بیان کروں، اک عمر درکار ہے آپکی تعریف و اوصاف بیان کرنے کیلئے۔


اسلام دشمنو!


جو قوم راستے کے پتھر اور کانٹوں کو بھی ہٹانے کو کار ثواب سمجھتی ہو، وہ دہشتگرد اور دنیا کے امن کے لئے کیسے مستقل خطرہ ثابت ہو سکتی ہے؟


مسلمانوں پر زندگی تنگ کرنے والو میرے سوال کا جواب دو، جب یورپ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا اس دور میں دنیا بھر کی فلاح و بہبود کیلئے علم و دانش اور تحقیق و ایجادات کے میدان میں کس قوم کے عظیم فرزندوں نے سب چراغ جلائے تھے جس سے تم سب آج تک فوائد اٹھا رہے ہو، کیا وہ محمدی نہیں تھے، اُمتِ مسلمہ سے تعلق نہیں تھا، کیا وہ سب پُرامن نہیں تھے؟


دنیا بھر میں انسانیت اور انسانیت کے علمبردارو سنو!


ہم مسلمان اس رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) کی اُمت ہیں جس نے آج سے 1400 سال پہلے غلاؤں تک کے حقوق بھی متعین کر دیئے تھے۔


ہم امن پسند مسلمانوں کو عالمی امن کیلئے خطرہ ثابت کرنے والو مجھے جواب دو کہ " جنگِ عظیم اوّل و دوئم " کی شروعات کسی اسلامی ملک سے شروع ہوئی تھی یا دنیا بھر کیلئے یہ آگ تم سب نے خود بھڑکائی تھی؟

کیا 07 سمندر پار سے دنیا کے ممالک کی آزادی اور خود مختاری کو ہم سلب کرتے ہیں

کیا مختلف الزامات کی آڑ میں دنیاء اسلام پر چڑھ دوڑنے کیلئے "نیٹو افواج" ہماری ہیں؟


جواب ہے ہماری نہیں سب کی سب تمہاری ہیں، سنو! جارحیت پسند تم ہو، دہشتگرد تم ہو، مسلمان یا اُمتِ رسولِ عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) نہیں۔


یقینی طور پر تم سب کے پاس میری کسی بھی بات کا کوئی جواب نہیں ہے۔


ہمارے جذبات سے کھیلنا بند کرو، یاد رکھو ہم مسلمان اگر اپنی کچھ خود ساختہ خامیوں اور قابو پالیں تو ہم " من حیث القوم" تم  سے کہیں زیادہ بہتر اور مُہذب بھی ہیں, 


غلام محمد چوہان۔

30.10.2020.

جمعہ، 30 اکتوبر، 2020

Aik Khula Pegham Subkay Naam

 صدائے درویش 


"ملکی سرکردہ اداروں کے سربراہان، تمام سیاستدانوں، مذہبی اور لسانی قیادت اور صحافیوں کے نام کھلا پیغام"


خدا کیلئے موجودہ ملکی حالات کو دیکھیں، ملک دشمنوں کے عزائم کو سمجھیں پھر کچھ لکھیں اور بولیں تو بہتر ہے، سب سے پہلے پاکستان کی سلامتی پھر آپکے کالم اور سیاستدانوں کی تقاریر وغیرہ بھی سن لیں گے، سیاسی، مذہبی اور فوجی قیادت کے لئے ضروری ہے کہ وہ ملکی اور قومی سلامتی کو ہر حال میں مُقدم رکھیں، یقینی بنائیں، جرنلسٹ حضرات بھی اس بات کو اپنی پہلی ترجیح سمجھیں تو بہتر ہے، ورنہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حالات ہم سب کے سامنے ہیں۔


بیشک عمران خان عوام سے کئے ہوئے کسی بھی وعدے پر پورا نہیں اترا، حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں ہی اپنے قومی فریضے کو سمجھیں، ضد، اقتدار اور انا پرستی کسی بھی طرح سے پاکستان اور پاکستانی عوام کے حق میں بہتر نہیں۔ نہ ہی کبھی رہی ہے، سانحہء مشرقی پاکستان مثال ہے۔

پاکستان ہی پہلی اور آخری ترجیح ہونی چاہیے اقتدار کی کرسی نہیں، صحافت بھی ہوتی رہے گی لیکن سب سے پہلی ملک اور ملکی سلامتی، ورنہ سب کے سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے، بھارت کی آئے دن ملنے والی دھمکیوں اور اسکے مکروہ عزائم سے عام پاکستانی اور لیڈرشپ کو ہمہ وقت آگاہی دیتے رہیں کہ کچھ گروہ کیوں بھارت اور اسرائیل کے آلہء کار بن کر ملک میں انارکی پھیلا رھے ھیں۔ صحافی کا یہ سب سے ترجیحی ٹاسک ہونا چاہئے، یہی قلم کی عصمت ہے ورنہ سب کچھ ایک دھوکے کے سواء کچھ بھی نہیں۔


ہم آہستہ آہستہ جس طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں "قلم قبیلے" کا اوّلین فرض ہے کہ عام آدمی اور اہلیانِ سیاست اور مختلف اداروں کی توجہ اس طرف دلاتے چکے جائیں، ورنہ خاکم بدہن "نہ رہے گا بانس اور نہ رہے گی بانسری" مجھ جیسے کم فہم کو اگر اس بات کا ادراک ہے، وطنِ عزیز کی سلامتی کی فکر دامن گیر ہے تو اسی طرح سے اہلِ قلم اور صحافی حضرات کو ہونی چاہئے۔


آج کے پشاور بم دھماکے اور آئے دن الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر انڈین چیلنجز کو سامنے رکھ کر تمام پاکستانی صحافی برادری اور الیکٹرانک/ پرنٹ میڈیا اپنا اپنا کردار ادا کریں کیونکہ عوام کی کثرت انکو ہی سنتی اور "follow" بھی کرتی ہے، یہی وقت کی ضرورت ہے، آج ہی، کل کس نے دیکھا یا دیکھنا ہے۔


اللہ وطن عزیز کی حفاظت اور سلامتی کی خاطر ہر شعبہ زندگی کے فرد، افراد اور گروہوں کو توفیق بخشے کہ ہم متحد اور یکجاء و یک جان ھو جائیں، ایک قوم ہو کر وطن عزیز کی سلامتی کیلئے "اللہ اکبر" کہہ کر اٹھ کھڑے ہوں۔ اللہ ساتھ دینے والا ہے اور ان شاء اللہ ضرور دیگا۔


اکیلی افواج ہی نہیں، اقوام بھی جنگیں لڑا کرتی ہیں، متحد اور یکجاء ھوکر، قومی سلامتی کے ذمّے دار اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ھو کر، جنگِ 1965ء اس کی بہترین مثال ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ نے جو ہمیں "اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم" کی تین تلواریں عطا کی تھیں انہیں استعمال کرنے کا اس سے بہترین وقت اور موقع کبھی بھی نہیں آتے گا، آئیں آگے بڑھیں اور اپنے اپنے حصّے کا فرض آج ہی ادا کرنا شروع ہو جائیں، آج نہیں تو کبھی بھی نہیں کی بنیاد پر۔


طالب دعا:-


آپ سب کا:-

غلام محمد چوہان۔

24.10.2020.

جمعرات، 29 اکتوبر، 2020

Hazrat Eesa A.S. Ki Haysiat wa Muqam

صدائے درویش 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حثیت و مقام

میرے دوستو!

عیسائیوں کی نظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حثیت و مقام کیا ہے، آپ انکی کتب کا مطالعہ کرکے دیکھیں۔ جو اپنے نبی کی عزت و احترام نہیں کرتے وہ ہمارے آقا علیہ السلام کی کیوں کر کریں گے۔

 کسی زمانے میں ایک انگلش فلم دیکھی تھی اس میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کا کردار بھی تھا، فلم کے مطابق آپ نیو یارک کی گلیوں میں بھوکے پیاسے پھر رھے ھوتے ھیں، اس کردار کے مطابق وہاں کے لوگ آپکو پہچانتے تک بھی نہیں، فلم کے سین کے مطابق جب آپ بھوک و پیاس سے بے تاب ہو کر ایک گھر کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں تو ان پر ترس کھا کر ایک "سیاہ فام" عورت انکو کھانے کا ایک ڈبّہ دیتی ھے جس نعوز باللہ "ڈاگ فوڈ" لکھا ہوا تھا۔

 

عیسائی ممالک اور یہودیت کو اسلام سے نفرت ہے، اور آپ علیہ السلام کی ذاتِ با برکت سے بھی۔


کیوں ہے؟ 


آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) دنیا میں آخری نبی کی حثیت سے تشریف لا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو اللہ کے حکم سے منسوخ فرماتے ہیں ، ہر الہامی مذہب میں شریعت کا یہی اصول ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اسلام صرف مقامی کفر اور بت پرستوں کو ہی نہیں بلکہ یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت کی تعلیمات کو بھی کو چیلنج کرتا ہے، خدا کی وحدانیت کی پرچار کرتا ہے، عیسائیت کے بنیادی عقیدے  "تثلیت" کی بلکل نفی کرتا ہے، اللہ کے "وحدہٗ لاشریک" ہونے کی تعلیم دیتا ھے، یہودیت کو چیلج کرکے تمام انسانوں اور انسانیت کے مساوی ہونے کا کھلا اعلان کرتا ہے۔ آپ تاریخ کا مطالعہ کریں کہ قصور ہمارا بھی ہے، ہم  انکو اسلام کا صحیح چہرہ دِکھا ہی نہیں سکے، اسلام سلامتی اور شخصی آزادی کا نام ہے، آزادی لیکن اخلاقی حدود و قیود کیساتھ۔ اسلام ہی سب سے پہلے انسانوں کے حقوق متعین کرتا ہے، پڑوسیوں، بیویوں، خواتین حتٰی کہ غلاموں تک کے بھی، محمد الرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) دنیا کو "قرآن حکیم" کی صورت میں پہلا مربوط قانون اور زندگی گزارنے کے جملہ طریقے بھی بتاتا ہے، آپ سب دوست نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) کا آخری خطبہء حج ملاحظہ فرمائیں، دنیا بھر کے انسانی حقوق پر بھاری ہے۔ آپ علیہ السلام اللہ کے آخری نبی کے طور اگر اللہ کی وحدانیت کو اوّلین ترجیح سمجھتے ہیں اور اللہ تعالی بھی اُنکے مقام کو اتنا بلند کرتے ہیں کہ جو مقام و مرتبہ کسی نبی کو اس سے پیشتر ملا ہی نہیں تھا۔


آپ ہالینڈ میں "صوفی تحریک" کا مطالعہ کریں، "شہاب نامہ" میں اس تحریک کا مفصّل احوال موجود ہے۔ پورا ویسٹ اسلام فوبیا کا شکار ہے، انکو خدشہ ہے کہ اسلام کہیں مغرب کا سب سے بڑا مذہب نہ ثابت ہو، ہو بھی سکتا ہے اگر ہم اپنے اخلاق و کردار سے خود کو مومن ثابت کر سکیں تو، یہی وہ نکتہ ہے جسے ہم مسلمان دنیا بھر میں خود کو مومن ثابت کرنے میں ناکام ہیں۔


اسلام میں جبر بلکل بھی نہیں ہے، بدقستمی سے ہم مسلمانوں کے دنیا بھر کو اسلام کا ایک ہی رخ دکھایا ہے، جبر جبر اور جبر، جبکہ اسلامی تعلیمات میں تو جبر تم کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔


جہاد تو آخری حربہ ہے، دعوتِ اسلام، جزيہ اور اسلام کی "سپرامیسی" اور اللہ تعالی کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرو، مملکت کی اطاعت کرو، مملکتِ اسلامیہ "ذمیوں" کی جان، مال و عزت آبرو کی حفاظت کرے گی، اگر یہ نہیں منظور تو لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔


یہی اسلام اور اسلام کا پیغام ہے، اسلام کی اصل روح وحدانیت ہے اور وحدانیت کی روح حُب رسولِ مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو کبھی بھی اللہ رب العزت اور اسکے فرشتے آپ علیہ السلام پر درود و سلام نہ بھیجتے آور مومنین کو بھی اس صالح عمل کی تلقین مت کرتے۔


حُب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) ہی مومن کی میراث ہے، نشانی ہے، جسے کبھی ہم خود اور دنیا بھر کی شیطانی طاقتیں ہمارے دلوں سے نکال دینے پر ہمہ وقت مصروف عمل ہیں، خاکے بنا کر تو اسلام دشمن صرف اپنی اب تک کی کامیابی یا ناکامی کا گراف چیک کرتے رہتے ہیں۔

علامہ اقبال ؒ نے جوابِ شکوہ میں کیا خوب فرمایا ھے:

کی محمد سے وفا تو نے تو ھم تیرَے ھیں
یہ جہاں چیز ھے کیا لوحُ قلم تیرَ ھیں

عشقِ محمدی (صلی اللہ علیہ و آلہِ و اصحابہِ و بارک و سلم) ھی سب کچھ ھے۔ 

آپ سب کا:-


غلام محمد چوہان۔

28.10.2020

جمعہ، 23 اکتوبر، 2020

Khususi Duaon Ka Ehtemam Karen

  صدائے درویش 

خصوصی دعاوں کا اھتِمام کریں

"ہائی بریڈ وار" کی شکل میں سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں منفی قیاس آرائیاں، پروپیگنڈہ اور افواہیں عروج پر ہیں، پاکستانی عوام کو مایوسی اور بلآخر خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ نمازِ جمعہ کے بعد ملکی سلامتی و بقاء کیلئے خصوصی دعائیں کریں۔


ملکی سلامتی کے ادارے فوری نوٹس لیں، ورنہ دیر ہو جاتے گی، یہی وقت ہے ملک کی سلامتی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے، آئین و قانون کے تحت ملے ہوئے اختیارات کو بروئے کار لایا جائے، غیر یقینی کی صورت حال سے ملک کو نکلا جائے۔ ملکی عزت، آزادی، بقاء اور وقار کو ہر قیمت پر بحال کیا جائے تاکہ عام پاکستانی اس گاؤں مگوں کیفیت سے باہر نکل سکے۔


سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ وہ سوشل، الیٹرانک، اور پرنٹ میڈیا پر وفاق اور صوبوں یا اداروں کے ٹکراؤ کی جو کہانیاں، تبصرے اور منفی قیاس آرائیاں چل رہی ہیں اس پر ریاست کی بقاء اور سلامتی کیلئے آئین و قانون سے ملے ہوئے اختیارات کا استعمال کرے، ملک ہے تو سب کچھ ہے، ورنہ کچھ بھی نہیں۔


جی۔ایم چوہان

23.10.2902

منگل، 20 اکتوبر، 2020

Doure Hazir k Askari Taqazy Aur Ham

 صدائے درویش


"حالاتِ حاضرہ، عصری تقاضے اور ہم"


ہمارے لبرل لوگ اور مذہبی عناصر اس ساری بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جن " مسنگ پرسنس" یا دیگر امور کو issue بنا کر یہ سب احتجاج کرتے ہیں، سڑکوں پر نکلتے ہیں، یا حقوقِ نسواں اور شخصی آزادی کے نام یا مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت اور انتشار پھیلاتے ہیں انکا اصل ہدف یا اہداف ہیں کیا، وطنِ عزیز کو غیر مستحکم کرنا، فرض کریں ہم "گمشدہ افراد" کی بازیابی کو ھی لیتے ھیں۔ ہو سکتا ہے کچھ افراد انٹی اسٹیٹ ایکٹیویٹیز کی وجہ سے کسی ادارے کی تحویل میں ھوں، باقی ماندہ ایران، افغانستان اور بھارت میں ہیں جہاں انکو ملک دشمن کارروائیوں میں حصّہ لینے کیلئے بھرپور تربیت دی جاتی ہے، پھر وہ پاکستان میں داخل ہوکر اپنے دیئے گئے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، اب آزادیء نسواں کی بات تو اسکی آڑ میں جو معاشرے میں گند پھیلایا جا رہا ہے یا تحریر و تقریر کی آڑ میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے جو زہر پھیلایا جا رہا ہے وہ بھی اب سب پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے۔


کٹر قدامت پسند نیشنلسٹ دینی جماعتیں، قوم پرست گروہ، لبرلز اور ملکی اور غیر ملکی NGO's سب کے سب بیرونی فنڈنگ پر چلتے ہیں اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ملک میں ہر سطح پر نفرت کا بیج بو رہے ہیں، یقین جانئے اُن سب کا دین و ایمان پیسہ ہے جن میں اس وقت پنجابی اور مہاجر لبرل اور قوم پرست سر فہرست ہیں۔ سندھیوں، بلوچوں اور پٹھانوں کی بھی کچھ قوم پرست تنظیموں کو باہر سے فیڈ کیا جاتا ہے لیکن انکی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا منصوبہ ہو پاکستان کو ہمیشہ غیر مستحکم رکھنا ہے، اگر یہ ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھتا ہے تو یقینی طور پر ان ممالک کی عین منشاء اور مفادات کی تکمیل کیلئے کام نہیں کرے گا جو وہ چاہتے ہیں، نیز کمزور پاکستان ہی ہمارے ازلی دشمن بھارت مفاد میں ہے تاکہ امریکہ اور اسرائیل بھارت کو جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ اس سارے کے سارے خطّے میں "کنگ" بنا کر سب ممالک کو دبا کر رکھ سکیں۔ اس وقت خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں Un-declared war جاری ہے اور ملک دشمن قوتیں اسے تب تک جاری رکھیں گی جب تک خدا نخواستہ افواجِ پاکستان De-moral نہیں ہوتیں، یہی ان سب کا اصل ہدف ہے۔ 

روس بھی ابھی تک پاکستان کے ہاتھوں اٹھائی جانے والی ہزیمت کو نہیں بھولا، "One Road One belt" کی مخالفت اس لئے بھی نہیں کر رہا کہ روس کا نظریاتی پارٹنر چین اب وہ کام انجام دینے جا رہا ہے جسےسر انجام دینے کیلئے "سرخ ریچھ" طاقت کے زعم میں مبتلاء ہو کر افغانستان پر چڑھ دوڑا اور چند سالوں میں ہی اپنے ہی حصے بخرے کروا بیٹھا تھا۔ چین اب گرم پانیوں تک رسائی حاصل کررہا ہے جو کہ روس کے بھی مفاد میں ہے۔


اس وقت چین ہی دنیا کا واحد ملک ہے جو معاشی لحاظ سے عالمی استعماری طاقتوں اور نظام (کیپٹلزم) کیلئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو رہا ہے، عالمی استعماری نظام کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ آئندہ آنے والے دور میں کوئی بھی دوسری طاقت انکو چیلنج کرے۔


پاکستان بھی اس وقت دوہری چکّی میں پس رہا ہے، اندرونی حالات انتہائی دگرگوں ہیں، اپوزیشن صرف حکومت مخالف ہی نہیں بلکہ عدلیہ اور فوج مخالف بھی ہو چکی ہے اور ببانگ دہل ہر فورم پر اسکا اظہار بھی کر رہی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستانی سیاسی اور ملٹری قیادت اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے دباؤ میں ہے، فوج اندرونی خلفشار کو کنٹرول کرنے کیلئے آئے دن بقاء وطن کی اس جنگ میں اپنے خون کے نذرانے دے کر نئی تاریخ رقم بھی کر رہی ھے اور چند نا عاقبت اندیش سیاستدانوں اور چند مذہبی گروپس کی تنقید کا نشانہ بھی بن رہی ہے۔ 


میرے دوستو!


اقتدار کی اس جنگ یا رسّہ کشی یا سانڈوں کے ٹکراؤ ( حزبِ اقتدار اور اپوزیشن الائنس) میں عام غریب اور مفلوک الحال طبقہ ہی پس رہا ہے، مہنگائی، اور بدعنوانی کا آکٹوپس پہلے سے کہیں زیادہ پورے ملک کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ حکومتی ارکان اوروزراء کو شاید وزیرِ اعظم صاحب کی طرف سے ایک ہی ٹاسک ملا ہوا ہے کہ اپنی تمام توپوں کا رخ حزبِ اختلاف اور انکی احتجاجی تحریک کی طرف موڑ کر رکھیں، ملکی انتظامی امور اور عام شہری کی فلاح و بہبود پر کسی بھی طرح کی کوئی توجہ نہ دیں، چناچہ ہر طرح کے کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں اور عام بندے کی زندگی اجیرن، یہ ہم سب کیلئے لمحہء فکریہ ہے، اب ہمیں ہماری اپنی بقاء کا چیلنج درپیش ہے۔


ملکی تاریخ کے سب سے اہم منصوبہ "پاک-چین" راہداری پر بھی کام انتہائی سست ہو چکا، یوں لگ رہا ہے کہ جیسے یہ اہم منصوبہ ہمارے آپس کے اختلاف کی بنا پر ہمارے پڑوسی ممالک ایران اور افغانستان منتقل ہو جائے گا، اگر خاکم بدہن ایسا ہوا تو ہم بحیثیت قوم ایک عظیم تاریخی نقصان کر چکے ہونگے۔ یاد رہے کہ پڑوسی ملک ایران چین کے ساتھ چند ماہ پہلے ایک معاہدہ کر چکا اور "بندر چاہ بہار" اپنے وسیع تر قومی مفاد میں بھارت سے واپس لے چکا ہے جو کہ اگر ملک میں یہی رسّہ کشی جاری رہی تو مستقبل قریب میں "گوادر پورٹ" کا نعم البدل ثابت ہو سکتی ہے اور اس کا قوی امکان بھی ہے، اسلام ہے ایرانی قیادت کو جو فائلوں اور اسمبلیوں کی قراردادوں میں الجھے بغیر چند ہی دونوں میں "ایران اور چین" معاہدے پر دستخط کرکے اپنے ملک میں اس پر کام بھی شروع کر چکی ھے۔


شنید ہے کہ چین بھی افغانستان میں سڑکوں اور ریلوے نیٹ ورک کو ایران سے ملانے کیلئے اپنا پیپر ورک مکمل کر چکا ہے تاکہ براستہ افغانستان اور ایران وہ بندر "چاہ بہار" تک اپنی رسائی حاصل کرسکے۔


ہم تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں، افواجِ پاکستان تو ملکی دفاع، سلامتی و بقاء کیلئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے، اب ہماری باری ہے، سیاستدانوں، اعلیٰ افسران اور فرقہء اشرافیہ کی نہیں، صرف ھماری کہ ھمارا اور ھماری نسلوں کا مستقبل اسی ملک سے وابستہ ہے، ہمارا جینا اور مارنا اسی مٹّی سے وابستہ ہے۔


مجھے صدر "ضیاء الحق" مرحوم کے کہے ہوئے الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ "ملکی بقاء اور دفاع کیلئے اقوام آگے بڑھ اپنا اپنا حصّہ ڈالا کرتی ہیں، افواج تو صرف اُنکے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑی ہوئی ہوتی ہیں۔


آج وہ وقت آ چکا کہ سول سوسائٹی کا ہر فرد آگے بڑھے اور بقاء و دفاع وطن میں حصّہ ڈال کر اپنا قومی فریضہ انجام دے، ہم کو اس ملک نے کیا نہیں دیا اور ہم نے اس کی بقاء، سالمیت اور تحفّظ کیلئے اب تک کیا کیا ہے؟ 

ملکی سیاستدانوں، اربابِ اختیار اور الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا اینکرس اور تبصرے کرنے والے دانشوروں سے میرا بہت سادہ سا سوال ہے، اگر کسی میں ذرا کا ضمیر زندہ ہوا تو جواب نفی میں آئے گا کہ ہم نے سوائے زبانی جمع خرچ کے اب تک کوئی ایسا کام میں ہی نہیں کہ جس پر ہم سر اٹھا کر فخر کر سکیں۔


میرے دوستو! 


یہی آگے بڑھنے اور مثبت سمت کی طرف قدم اٹھانے کا درست وقت ہے ورنہ آنے والا وقت ہمیں من حیث القوم کبھی بھی معاف نہیں کرے گا، آئیں آگے بڑھیں اور وطنِ عزیز کی نظریاتی اساس اور افواجِ پاکستان کے خلاف جو لوگ سوشل میڈیا پر ٹن دہی سے  کام کررہے ہیں ہم سب اس " ہائبرڈ وار" کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں،


آپکا:-

غلام محمد چوہان۔

19.10.2020

جمعرات، 8 اکتوبر، 2020

Hamara Wajood Aik Virus Say Bhi Kamter

 

آخرِشب

ھمارہ وجودایک وائرس سے بھی کمتر ھے

میرے دوستو!

وائرس سب چھوٹا جاندار ہے، جو کہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ عام خورد بین بھی اسکو نہیں دیکھ سکتی، خاص طرح کی دوربین ہی اسے دیکھ پاتی ھے۔


پوری کائنات میں میرا، آپکا اور ہم سب کا وجود بھی کسی بھی طرح سے ایک وائرس کے برابر بھی نہیں ہے، سات زمینیں اور ساتھ آسمان  وُسعت اتنی کہ ستارے سے دوسرے سیارے يا کہکشاں تک ہزاروں نوری سال کا فاصلہ۔


اس سادہ اور آسان سے پیمانے سے خود کو پرکھ کر دیکھیں تو ہمیں ہمارا وجود ایک " وائرس " سے بھی کم نظر آئے گا، کاش اسکا ادراک وقت کے ہر فرعون ہو جائے۔


انسان بہت مضبوط ہے، توانا ھے، مگر کتنا کمزور کہ آنے والے سانس کا بھی اندازہ نہیں کہ آنا بھی ہے یا نہیں, قدم کا بھی پتہ نہیں اٹھنا بھی ہے یا نہیں، اے انسان تو اترتا کس بات پر ہے؟ تیرا ہے کیا؟ ہر عروج کو زوال ہے، عروج چاہے جوانی، خوبصورتی، بادشاہی یا عزت و اور دولت کا ہو بہر حال اسے زوال ہے۔


سب بڑائیاں صرف اللہ کیلئے ہیں، باقی وہ ہے، دیگر سب کچھ فانی ہے، اتنی بڑی وسیع و عریض کائنات بھی جس میں انسانی وجود ایک باریک سے ذرّے سے بھی کم ہے، تکبّر یا بڑائی کس بات کی؟


اوّل مٹّی آخر مٹّی, مٹّی سچ ہے باقی سب ایک طرح کا نظر کا فریب۔


اللہ رب العزت نے ہمیں دنیا میں زندہ رہنے کی جو مہلت دی ہے، آئیں آج اقرار کریں کہ اسے بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے گزاریں گے، دنیا بھی اچھی اور ان شاء اللہ آخرت بھی۔


اللہ ہم سب کو دنیاوی اور اخروی کامیابیاں عطا فرمائے، سب کیلئے آسانیاں تقسیم کرنے کی ہمت دے، ہمیں اس راستے پر چل نکلنے کی توفیق بخشے جو اسکے پسندیدہ بندوں کا راستہ ہے۔


اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے، ہر رات سونے سے پہلے سب کو معاف کرکے سوئیں، پتہ نہیں سونے کے بعد دوبارہ سے جاگنا بھی ہے یا آج کی رات کی نیند ہمارے لئے ابدی نیند ثابت ہوئی ہے۔


آپ سب کا:-

غلام محمد چوہان۔

03.10.2020

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...