منگل، 30 جون، 2020

Ghus kay Maarengay, Bharat ki Mazmoom Dhamkian aur Pakistan

 صدائے درویش 

گھس کےماریںگےکی بھارتی دھمکیاں اورپاکستان

میرے دوستو!

جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کافی عرصے سے بھارتی سیاستدان، ریٹائرڈ اور حاضر سروس جنرلز، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر  گھس کرماریںگے  کی دھمکیاں دے رہے ہیں مختلف ٹیبل ٹاکس میں وہ منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے سے انداز میں ایسا ہذ یان اکثر بکتے رہتے ہیں۔ جس میں انکا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سرفہرست ہے۔


گزشتہ سال بھارت نے پاکستانی فضائی حدود کی جو خلاف ورزی کی وہ اسی کی ھی  ایک کڑی تھی، پھر دفاع وطن پر مامور پاک فضائیہ نے جو انکا حشر کیا وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ موجودہ سول حکومت  نے بھی حسب سابق انکے " پائیلٹ مہاشے"  کو بغیر کچھ حاصل کئے یا منوائے بھارتی حکومت اور مودی کے بیانات کے بعد گھٹنے ٹیک کر فوری طور پر ابھینندن کو بھارتی حکومت کے حوالے کر دیا، اس طرح سے ایک "ترپ کا پتہ" ہمارے ہاتھ سے با آسانی نکل گیا، جسکا کم از کم مجھے اب تک ملال ہے۔ گزشتہ سول حکومتیں بھی ایسے ھی عمل کرتی رھی ھیں اور انکا رویّہ بھی بھارتی حکومت کے ساتھ زیادہ تر معذ رت خواہانہ ہی رہا ہے، کارگل کی چوٹی پر افواج پاکستان کا قبضہ اور پھر پسپائی اُسکا بہترین ثبوت ہے۔ واضح رہے کہ 1971ء تک کارگل پاکستان کے نقشے پر تھا جسے معاہدہ شملہ میں بھارت کا حصّہ تسلیم کر لیا گیا۔ جو دفاعی امور سے واقف ہیں وہ  کارگل کی اہمیت  سے ضرور واقف ہونگے۔


اب ہمارے ازلی دشمن بھارت نے 1962ء کے بعد ایک بار پھر سے چین سے منہ کی کھائی، اپنے فوجی ماروائے، علاقہ گنوایا، نیپالی حکومت نے بھی اس موقعے کو غنیمت جانا اور اپنا کافی علاقہ بھارتی تسلط سے آزاد کروا لیا ۔ ان واقعات کے بعد اس بات کا قوی امکان موجود تھا کہ بھارت اور مودی سرکار اپنی خفّت مٹانے کے لئے پاکستان میں اپنے کارندوں کے ذریعے  اپنے مذ موم عزائم کو پورا کرنے کیلئے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں تیزی لائے گا، وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ وطن عزیز کے مختلف حصوں میں بم دھماکے، بلوچستان میں بارودی سرنگوں کے دھماکے، اپر(بالائی) سندھ کے ضلع گھوٹکی میں بم دھماکے اور پھر کل  کراچی اسٹاک ایکسچیج پر منظم حملہ بھی سب کے سب اسی کڑی کا سلسلہ ھیں جس میں قیمتی سول اور ملٹری فورسز کی جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا، یہاں ہی وہ نکتہ پوشیدہ ہے جسے  گجرات کا قصائی اور پوری کی پوری بھارتی دہشتگرد سرکار گھس کے ماریں گے کا راگ الاپتی ہی نہیں بلکہ ملک اور بیرونِ ملک میں موجود اپنے کارندوں سے کام بھی لیتی ہے، اپنے مذموم مقاصد بھی حاصل کرتی ہے۔

الحمدللہ!

وطن کے رکھوالوں نے کراچی واقعے کا کئی روز پہلے ہی سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا تھا، وقوعہ کے دن کراچی اسٹاک ایکسچینج کے فرض شناس گارڈزاورسندھ پولیس نے دیشتگردوں کا جانفشانی سے مقابلہ کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر ہمارے ملک کے کاروباری مرکز کو کوئی بہت بڑا نقصان پہنچنے سے اللہ تعالی کے فضل سے بچا لیا۔ ہمّت اور بہادری کی ایک داستان رقم کرکے حملہ آوروں کو صرف 8 منٹس میں جہنّم واصل کردیا۔ میرا اور پوری قوم کا مادر وطن پر اپنی جان نچھاور کرنے والے شہید بیٹوں اور بہادری سے جم کر مقابلہ کرنے والے غازیوں کو سلام۔ 
 
دوستو!

ابھی خطرہ ٹلا نہیں بھارت مزید بھی بہت کچھ کرے گا، خصوصاً ملک میں جاری تخریبی کارروائیوں کو مزید تیز کرنا اور اُسکے بعد جس میں بین الاقوامی سرحد کو عبور کرنا بھی شامل ہے، وہ ایسی حرکت کب اور کہاں سے کرے گا،  وطن کے رکھوالوں کو اس کا بخوبی علم ہے۔

اگر بھارتی حکومت نے ایسا کیا تو انکو ہماری طرف سے ایسا جواب ملے گا کہ جنونی اور دھشتگرد بھارتی حکومت ہی نہیں بلکہ انشاء اللہ اُنکے  سینا پتی اور فوج مُدّ توں یاد رکھ کر افواج پاکستان اوراُنکے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی پاکستانی قوم کے لگائے ہوئے زخموں کو کئی دہائیوں تک چاٹتے رھیں گے۔

اس وقت ہمیں ہر سطح پر اتحاد کی ضرورت ہے۔ آئیں وقت کی نزاکت کو مد نظر رکھ کر باہمی اتحاد اور یگانگت کا عملی مظاہرہ کرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔

احقر العباد:-
غلام محمد چوہان،
30.06.2020

Hadees Shareef say Aik Rewayat ka Mafhoom

صد ا ئے د رویش

حدیث شریف سے ایک روایت کا مفہوم ہیکہ:-


ایک صحابی نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کی "یا رسول اللہ!
میرے کچھ دوست احباب اور کچھ رشتہِ دار مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں اور کچھ مجھے بہت دق کرتے، لڑتے جھگڑتے اور پریشان کرتے ہیں، میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیوں؟

آپ نے مسکرا کر جواب دیا "عالم ارواح میں جو روحیں تمہاری روح کے پاس تھیں اور جو تم سے محبت بھی کرتی تھیں وہ اب دنیا میں بھی پیار کرتی ہیں اور جو وہاں تمہیں دق کرکے لڑتی جھگڑتی تھیں وہ اس دنیا میں بھی آ کر لڑائی جھگڑا کرتی ہیں، یہ مسئلہ عالم ارواح کا ہے، یہ یہاں کا نہیں"

صدق یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم)

 اب ہم غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو ہم نے دیکھا ہی نہیں ہوتا لیکن پہلی ملااقات میں ہی یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم نے اسے کہیں دیکھا ہے، بیساختہ جی چاہتا ہے کہ ہم اس کے پاس بیٹھیں، قربت حاصل کریں اور بات چیت بھی کریں۔

میں عام زندگی میں فقیر حقیر اکثر یہ سوچتا تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں میں سے خود بخود اپنائیت کی خوشبو کیوں اٹھتی ہے، کیوں کوئی انجانا سا چہرہ اپنا اپنا سا لگتا ہے کہ اس سے جیسے صدیوں کی شناسائی ہو؟

یہ حدیث مبارکہ پڑھنے کے بعد میری یہ گرہ بھی کھل گئی تھی۔

طالب دعا:-

جی۔ایم چوہان۔
October 28, 2019


پیر، 29 جون، 2020

HAQ Kia hay - حق کیا ہے۔؟

منقول - حاصل مطالعہ

حق کیا ہے۔؟

مسلم شدت پسند کہتے ہیں کہ لبرلز کو ختم کرنا حق ہے۔
لبرلز کہتے ہیں کہ دین اسلام اور مسلمانوں پر سنگین تنقید کرنا حق ہے۔
شیعہ کہتے ہیں کچھ اصحابہ کرام کو برا بھلا کہنا اور منع کرنے والوں کو آل بیت کا منکر کہنا حق ہے۔
سنی کہتے ہیں اہل تشیعوں کو انکے اس طرز عمل کی بنیاد پر کافر کہنا قتل کرنا اور گالیاں دینا حق ہے۔
دیوبندی کہتے ہیں ۱۲ ربیع الاول پر جشن منانے والوں اور درباروں پر جانے والوں کو گالیاں دینا حق ہے۔
جبکہ بریلوی کہتے ہیں ایسا کرنے سے منع کرنے والوں کوگالیاں دینا اور منکر کہنا حق ہے۔ 
یہ تمام گروپس فرقے یا کمیونٹیز اپنی اپنی جگہ "حق" ہی کی بات کررہے ہیں تو پھر کریں کیا؟؟
یہاں سے "ریاست اور حکومت" کا کردار شروع ہوتا ہے جب مختلف گروپس کے اپنے اپنے حق سے شرانگیزی ، خانہ جنگی اور لڑائی جھگڑے کا اندیشہ ہو تو حکومت کو ایک لائن بنانی چاہیئے , کُچھ ضابطہ اخلاق بنانے چاہیئیں, ایک قانون بنانا چاہیئے کہ
لبرلز دین اسلام کا مزاق نہیں اڑائیں گے۔
شدت پسند لادین حضرات کے قتل کا فتوی جاری نہیں کریں گے۔
شیعہ حضرات جلیل القدر اصحابہ کو برا نہیں کہیں گے۔
سنی حضرات شیعہ لوگوں کا کافر نہیں کہیں گے۔
۱۲ ربیع پر جائز حدود کو کراس نہیں کیا جائیگا۔
اور اس قانون پر عمل درآمد کرواتے ہوئے کریک ڈاؤں کرنا چاہیئے۔
لیکن یہ کریک ڈاؤن لبرلز اور لادین حضرات تک محدود نہیں رہنا چاہیئے بلکہ ان تک وسعت دینی چاہیئے جو 
آصحابہ کرام کی توہین کرتے ہیں
جو شیعہ کمیونٹی کو قتل کرنے کا درس دیتے ہیں
جو داعش، بوکو حرام، حزب اللہ، پاسداران انقلاب، حماس اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو اپنا رہبر مانتے ہیں۔
جو سپاہ محمد اور لشکر جھنگوی کی بیعت کا کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں۔
اور جو احمدیوں کو پاکستانی ریاست کا شہری ماننے اور سانس لینے کا حق دینے کو بھی تیار نہیں اور اسکا کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں۔
نوٹ : ان تمام حق کہنے والوں کو انکے حال پر نہیں چھوڑا جاسکتا کیونکہ
لبرلز اسلام کی توہین کریں گے تو شدت پسند انہیں گالیاں بھی دیں گے ماریں گے بھی۔
شدت پسندوں کے پرتشدد رویے پر طاقتور لبرلز بدلے میں انہیں بھی ماریں گے۔
شیعہ اصحابہ کرام کو اعلانا گالیاں دیں گے تو سنی ان کے قتل کے فتوی بھی دیں گے اور کچھ عمل بھی کریں گے۔
سنی جب قتل و غارت کریں گے اور یزید کو عزت دیں گے تو طاقتور شیعہ بھی پورا پورا بدلہ لیتے ہوئے انہیں ضرور ماریں گے۔
نتیجتا پورے ملک میں ہر طرف آگ اور قتل و غارت (اور پاکستان اس طرف بڑھ بھی رہا ہے) لہذا ریاست کا فوری اور سخت ایکشن ہماری بڑی ضرورت بن چکا ہے اب جو کام شروع ہوا ہے اللہ کرے کہ یہ اپنے اختتام تک پہنچے کسی سیاسی یا مسلکی مک مکا کا شکار نہ ہوجائے۔
نجم نامہ

اتوار، 28 جون، 2020

Zaroorat Mand Ki Zaroorat Puri Karnay Ka Hukam, Hikayate Roomie

حکایات

ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کا حکم

حکایات رومی سے ایک حکایت

ایک یہودی کے پاس ایک مسلمان ہیرے تراشنے کا کام کرتا تھا۔ جو اپنے کام میں ہنر مند اور حد سے زیادہ ایماندار تھا۔ یہودی اس سنار کی کاریگری سے بے تحاشہ نفع کمانے کے باوجود اُسے مناسب معاوضہ ادا نہ کرتا تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ بمشکل اپنے گھر کا خرچہ پورا کرتا تھا۔ یونہی کام کرتے کرتے اس نے عمر گزار دی۔ اس کی بیٹی جوان ہو گئی وہ اپنی قلیل آمدنی میں سے کچھ بھی جمع نہ کر سکا۔ بیٹی کی شادی کے لئے سنار کاریگر نے یہودی سے کچھ رقم بطور ادھار مانگی کروڑ پتی یہودی نے رقم دینے سے معذوری ظاہر کر دی۔ مسلمان کاریگراپنی قسمت کو برا بھلا کہتا ہوا گھر لوٹ آیا۔ رقم ادھار نہ ملنے پر بیوی نے سخت ناراضگی اور طعنوں کے تیر برسا کر الگ استقبال کیا۔ پریشان حال بیچارہ ساری رات سوچتا رہا اب کیا ہو گا۔ دوسرے دن وہ دکان پر کام کے لئے نہ گیا۔ بعد میں یہودی سنار کے بلانے پر جب وہ دکان پر پہنچا تو اس کے ہاتھ میں ایک پوٹلی تھی۔ جو اس نے یہودی کے سامنے کھول کر رکھ دی۔ اس میں قیمتی ہیرا دیکھ کر یہودی سوالیہ نگاہوں سے مسلمان کاریگر کی طرف دیکھنے لگا۔
کاریگر بولا مالک یہ ہمارا خاندانی ہیرا ہے۔ اسے بیچنے کی اجازت نہیں آپ اسے گروی رکھ کر مجھے کچھ رقم دے دیں۔ میں آپ کو رقم لوٹا کر اپنا ہیرا واپس لے لوں گا۔ یہودی راضی ہو گیا۔
مسلمان کاریگر نے قرضے کی رقم سے بیٹی کی شادی کر دی۔ پھر دن رات کام کر کے قرض کی رقم آہستہ آہستہ ادا کرنے لگ گیا۔ قرضے کی آخری قسط ادا کرنے کے بعد مسلمان کاریگر نے اپنے ہیرے کا مطالبہ کیا ۔ یہودی نے وہ ہیرا لا کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ ہیرا تراشنے والے کاریگر نے ہیرا لے کر پانی میں رکھ دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہیرا گھُل کر ختم ہو گیا۔ ہیرا تراشنے والے کاریگر نے کہا مالک یہ مصری کی ڈلی تھی۔ جسے میں نے اپنے فن سے ہیرے کا اس طرح سے روپ دیا تھا کہ آپ جیسا سنار بھی دھوکہ کھا گیا۔ آپ نے میری عاجزی اور درخواست پر قرضہ نہ دیا۔ جس کی وجہ سے مجھے یوں آپ سے رقم نکلوانی پڑی میں مسلمان ہوں اس لئے بھاگا نہیں آپ کی پائی پائی ادا کر کے سرخرو ہو گیا۔ افسوس کہ آپ نے میری قدر نہ کی۔ اس لئے ملازمت چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ کاریگر یہودی کو پریشان چھوڑ کر چل دیا۔
(حکایات رومی سے)
اللہ تعالٰی کا حکم ہے کہ ضرورت مندوں کی ضروریات کو پورا کیا جائے، ایسا کرنے سے معاشرے سے برائیاں ختم ہو جاتی ہیں۔


ہفتہ، 27 جون، 2020

Shaadi, Jeyhez aur Hamara Maashra

صدائے درویش

 شادی، جہیز اور ہمارا معاشرہ

پاکستان اور ہندوستان کے اُن علاقوں میں جن بھی ہندو تہذیب و تمدن ابھی تک باقی ہے یا وہ اقوام جو ہندو سے مسلمان ہوئیں وہ اس رسم کو اب تک کچھ تو خوشی اور کچھ مقروض ہوکر بھی ایک سماجی ضرورت اور اہم رسم سمجھ کر مجبوراً بھی چلا رہے ہیں۔

ہندوستان کے وہ علاقے جن میں ہندو کلچر کے اثرات نہیں تھے یا ہیں، وہ اب بھی جہیز نام کی کوئی چیز نہیں دیتے، سندھ، بلوچستان اور کے۔پی۔کے اور قبائلی علاقہ جات میں آج بھی لڑکی کو بھیڑ بکری کی طرح مول تول کرکے کچھ ورثاء یا ماں باپ معاوضہ لیتے ہیں، جب کہ تمام عرب ممالک میں یہ چلن عام سا ہے۔

سندھ میں بیٹی کے پیسے وصول کرنے والی  رسم ختم ہونے کو ہے، وہ صرف اب رشتے کے بدلے رشتہ ہی لیتے ہیں، کچھ قبائل ہیں جو دلہن والوں کی طرف اٹھنے والا سارا خرچ دولہا والے اٹھاتے ہیں۔

البتہ! سندھ کے پڑھے لکھے لوگ تو اب "وتّے ستّے" کی سماجی خرابیوں کو سمجھ چکے ہیں سو وہ لوگ اس سے اب اجتناب کررہے ہیں اور لڑکے لڑکیوں کی شادیاں بغیر کسی شرط و شرائط کے خاندان اور خاندان سے باہر بھی کرتا شروع ہو چکے ہیں جو کہ میرے نزدیک ایک یہ ایک طرح کی خوش آئند بات ہے، حسب حیثیت جہیز یا بیٹی کو گفٹ بھی کر رہے ہیں۔

پنجابی فیملیز اور ملک بھر کی اردو بولنے والی فیملیز ( یا وہ لوگ جو ہجرت کرکے پاکستان آئے) وہ تو اب "وتّا ستّا" بھی ترک کر چکے اور بیٹی کی قیمت وصول کرنا بھی گناہ عظیم اور گالی جانتے ہیں۔

لیکن!

بدقسمتی سے دونوں اقوام میں اب جو خاندان سے باہر رشتا نہ کرنے اور  ہم پلّہ ھونے کی وباء اور فیشن چل نکلا ہیں اس وجہ سے لڑکے اور لڑکیوں کی عمریں گھر بیٹھے بیٹھے ہی ڈھل رہی ہیں جو کہ کہیں زیادہ خطرناک بات ہے۔

رہی جہیز کی بات تو اگر ماں باپ اپنی خوشی سے اپنی استطاعت کے مطابق اگر بیٹی کو کچھ گفٹ کرتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں، بس لڑکے والے انکو اپنی ڈیمانڈز سے مجبور نہ کریں، جیسا کہ ہندو کلچر میں آج بھی ڈنکے کی چوٹ پر ہورہا ھے۔

جہیز آپ اور ہم سب کے اقا و مولیٰ نبی رحمت نے (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) نے اپنی پیاری بیٹی خاتون جنت سیدہ فاطمۃ سلام علیہا کو بھی دیا تھا۔ علماء کرام سے پوچھ چکا کہ جہیز دینے میں کوئی قباحت نہیں، صرف سادگی ھو دکھاوا نہ ہو اور جبراً بھی وصول نہ کیا گیا ہو۔

بات سے بات نکلی تو عرض کرتا چلوں کہ چند ماہ پہلے پاکستان کے شہر فیصل آباد میں ایک شادی ہوئی تھی جس میں دلہن کو 111 تولے سونا، دولہا کے ہر بھائی کو ایک کورولا کار اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ دیا گیا، تفصیل دینا مناسب نہیں، یہ دکھاوا ہے اور ہمارے معاشرے کے کے لئے "سم قاتل" بھی۔

ویسے بھی سرپرستوں کی باحمی اتفاق سے نکاح کو آسان بنانا ضروری ہے جس میں لڑکی اور لڑکے کی باہمی رضا مندی بھی شامل ہو وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے، ورنہ ہماری سماجی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

طالب دعا:-
غ۔م چوہان۔
May 28, 2020۔

جمعہ، 26 جون، 2020

Ghar Ki Khushiyon Ko Ghar He Men Dhoonden

صدائے د رویش

گھر کی خوشیوں کو گھر ھی میں تلاش کریں ،وہ یقیناگھر ھی میں ملیں گی باھر نہیں۔

Ghar Ki Khushiyun Ko Ghar He Men Talash Karen، Wo Bahar Nahi Milen Gi


ایک آدمی سڑک پر اسٹریٹ لائٹ کے نیچے جھک جھک کر کچھ دیکھ رہا تھا ـ پاس سے گزرنے والے نے  ہمدردی سے پوچھا لالہ کیا ڈھونڈ رہے ھو ؟ کہنے لگا یار چابی کھو گئ ہے ،، وہ بندہ بھی اس کے ساتھ جھک کر چابی ڈھونڈنے لگ گیا اور جب کافی دیر تک نہ ملی تو اس آدمی سے نارمل انداز میں پوچھا ’’ اندازاً گری کس جگہ تھی ؟ ‘‘ گھر کے صحن میں کہیں گری تھی ،، اس بندے نے دھیمے سے جواب دیا ،، ظاھر ہے ہمدرد کا تراہ نکل گیا ،، اس نے کہا ابے میں اتنے ضروری کام سے جا رہا تھا اور تُونے مذاق مذاق میں میرا وقت برباد کر دیا ،،
نہیں یار میں نے مذاق نہیں کیا اصل میں گھر میں اندھیرا تھا ، تو میں نے سوچا یہاں روشنی ہے یہاں تلاش کر لیتے ہیں ،، 

آپ کے لئے یہ لطیفہ ھو گا مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے پڑھے لکھے ، وکیل ،ڈاکٹر، انجینئر اور بزنس مین اکثر و بیشتر اپنی خوشیوں کو وہاں ڈھونڈنے کی بجائے جہاں ان کو گنوایا تھا ، باہر کی چکاچوند میں ڈھونڈتے پائے جاتے ہیں ـ گھر کی خوشیوں کو گھر میں ہی ڈھونڈیں  وہ یقیناً وہیں ملیں گی ، وہاں سے کوئی باہر والا اٹھا کر نہیں لے گیا ،، چاہے کتنا وقت گزر گیا ہو ،، کوئی ایک جملہ ،، کوئی ذرا سی مسکراہٹ ، کوئی نکی جِنی ہاں ، کوئی شرمندہ سے مسکراھٹ ایک سوئچ کا سا کام کرے گی اور گھر خوشیوں سے بھر جائے گا۔“
__________________


خیر اندیش:
غلام محمد چوھان

جمعرات، 25 جون، 2020

South Asia kay Khittay ki badalti surate hall, Hamary Parosi Aur Ham

 صدائے درویش 


خطّےکی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت ہمارے پڑوسی ممالک اورہم


 قیام پاکستان کے بعد خارجہ پالیسیز مرتّب کرنے میں جو غلط ہوا سو ہوا اب ہم اسے دہرانا نہیں چاہیں گے،  ہمارے پڑوسی مسلم ملک افغانستان اور افغان حکومت کو بھی اب پاکستان کے بارے میں اپنی قومی پالیسیز تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف ووٹ دینے کے باوجود بھی پاکستان کی مشرقی سرحد ہمیشہ محفوظ تھی، میں اس مفروضے کو ہمیشہ ہی غلط کہتا ہوں۔ جنگ ہتھیاروں سے ہی نہیں لڑی جاتی، کسی بھی ملک کی پالیسیز بتاتی ہیں کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ کتنا مخلص ہے، اوپن باؤنڈری کا سب سے زیادہ فائدہ افغانستان کو تھا اور سے زیادہ نقصان اسٹیٹ آف پاکستان کو، میں افغانی یا پاکستانی عوام کی نہیں State to state relations ship کی بات کر رھا ھوں، افغانستان میں بیس سے زیادہ انڈین سفارت خانے وہاں کیا کر رہے ہیں؟ یہی حال ایران کا ہے، انڈیا کو بندر چاہ بہار دیدی، RAW کو پاکستان کے خلاف کھل کر کام  کرنے کا موقع دیا۔ کبھوشن یادیو بھی ایرانی پاسپورٹ پر ھی پاکستان آیا کرتا تھا، دوسری طرف سعودیہ بھارت میں مودی کو بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری دے رہا ہے، کیوں اور کس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے؟

امیر خلیجی ممالک اپنی ذات میں مگن اور پاکستانی افرادی قوت کے بجائے بھارتی افرادی قوت کو ترجیح دے رہا ہے، جبکہ انکی منڈیاں بھی بھارتی اشیاء سرف سے بھری پڑی ہیں، مندر بن کر پوجا ھو رھی ھے۔

ھمارے خلاف پلاننگ بہت خراب ہے، یہی وجہ ہے کہ میں حکومتِ وقت اور عام پاکستان کو بار بار کہتا ہوں پاکستانی بن کر ہر فیصلہ کرو، پاکستانی بن کر سوچو تو ہی ہم بقاء کی جنگ لڑ سکتے ہیں جیت بھی سکتے ہیں۔

افغانستان کے بھی ایک سے زائد چہرے ہیں، اگر طالبان یا افغانستان کے پشتون علاقے پاکستان کے ساتھ ہمدردی یا نرم گوشہ رکھے ہیں تو ہم پاکستانیوں نے بھی اس بات کا پورا پورا حق ادا کیا ہے، اس وقت افغان مہاجرین کی کثرت پاکستان کے شہری ہیں، انکی نسل اعلیٰ پوسٹوں پر فائز، کاروبار میں صف اوّل پر اور جائیدادیں خرید کر پاکستان میں بہترین زندگی گزار رہے ہیں، جہاں تک طالبان حکومت کی بات تو حکومت پاکستان کی کبھی بھی کوئی مضبوط پالیسی بنی ہی نہیں ہے، سعودی نے Yes کہہ دیا تو یہاں بھی Yes۔ مضبوط پالیسی ہے ہی نہیں کہہ اصولوں کی بنیاد پر قائم رہ کر اس پر عمل کرکے ہم ساری دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکیں، اپنی منوا سکیں، خطّے میں اور بین القوامی پر اپنی اھمیت جتا سکیں، یہی پوری اُمّت مسلماں کا حال ہے، فقط پاکستان ہی نہیں۔
افغانستان کا ایک حصہ پشتون، دوسرا فارسی بولنے والا اور تیسرا شمالی اتحاد ہے، اب آپ موازنہ کریں کہ کون کتنا اس ملک کا وفادار ہے اور پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ھے۔

سرحد محفوظ ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی پڑوسی ملک دوسرے پڑوسی ملک کے شر سے بھی محفوظ رہ سکتا ہو۔ 
ایسا ھی ھمارے ساتھ ایران اور بھارت بھی عرصہء دراز سے کر رہا ھے، آج کشمیر کو انڈین یونین کا حصّہ بنایا اور گلگت بلتستان کو خالی کرنے کی بھی دھمکی دے رہا ہے، یہ سب ہماری داخلی کمزوریوں کی وجہ سے ہے، ورنہ " بنیہ اور اسکی یہ جرات"

یہی وہ موقع ہے کہ ہم کو ہر حال میں خود کو پاکستانی ثابت کرنا ہوگا، یہ جوش نہیں ہوش کا وقت ہے جوش کا نہیں، اگر ہم ایسے ہی ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوتے رہے تو " انّا للّہ و انّا الیہ راجعون" دوستوں کو یاد ہوگا کہ کوئی دو سال پہلے ایک دوست نے مجھ سے پاکستان کے مستقبل کا پوچھا تھا تو میرا جواب تھا ملک تیزی سے مہابھارت کی طرف سے بڑھ رہا  ہے کچھ سوچ سمجھ کر ھی کہا تھا۔

بھلا ھو چین کا جو حالات کا رخ دیکھ کر لداخ میں انڈیا کے قدم روک چکا، کشمیر کو اپنا آئینی حصہ بنانے سے اکّہ دکّہ فورمز پر ذکر کر لینے سے ملک اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔ چین اور بھارت کے مابین کنفلیکٹ پر ہمارے ملک نے اور ہماری وزارتِ خارجہ نے تو مجرمانہ خاموشی کی انتہاء کردی تھی، چین نے کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ تو کیا ہے، پاکستان نہیں۔
 اب بھی سنہری موقع ہے ہمارا ازلی دشمن سانپ (بھارت) چین اور نیپال سے دانت کھٹے ہونے کے بعد اس وقت ھر طرح کے نفسیاتی دباؤ میں ہے، پاکستان لابنگ کرکے پوری دنیا کو بھارت اور اسکی پشت پناہی کرنے والوں کے چہرے اور مکروہ عزائم دنیا بھر کو دکھا سکتا ہے، ایک بار یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو دوبارہ سے نہیں ملے گا۔

خیر اندیش:-

غلام محمد چوہان،
22.06.2020

Asre Haazir Aur Islam Mukhalif Propaganda Aur Ham

صدائے درویش

اثر حاضر اور اسلام مخالف پروپیگنڈہ اور ہم

میرے دوستو! میرا مشاہدہ ہے کہ اکثر لوگوں کی سوچ بھی اپنی نہیں، مرعوب رہتے ہیں اغیار سے، ایسے لوگ ہمارے ہاں بھی موجود ہیں، دنیا بھر کا شیطانی الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا اسلام کو جبر کا دین اور تلوار کے زور پر پھیلا ہوا مذہب جتلانے میں ہمہ وقت مصروف ہے، ٹائم لائن کے قریب بلکل مشرق میں ایک دنیا کے نقشے پر ایک چھوٹا سا ملک ہے " فیجی" وہاں تک تلوار یا ہتھیاروں سے لیس کونسا مسلمان فاتح پہنچا تھا؟ 
الحمدللہ! فیجی کی ٪40 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے

تاریخ مسخ کی جا رہی ہے، تاریخ کی کتب میں سے مسلمانوں کی دریا دلی، مذہبی رواداری کو غائب کیا جا رہا ہے کیوں کے یہودیت اور عیسائیت دونوں مذاھب اسلام سے خائف ہیں، بدنام کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، اسلام یہودیت اور عیسائیت کے مقابلے میں سب سے کم عمر مذہب ہے۔

اسلام کی سب بری خوبصورتی ہی یہ ہے کہ اسلام کے پیروکار یا ماننے والے اسلام سے پہلے کے دونوں مذاھب اور اُن پر نازل ہونے والی کتب اور جتنے بھی انبیاء کرام معبوث ہوئے انکو ہم مسلمان سچا مانتے ہیں۔

اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے دوسرے ادیان کے فنانشل 
سسٹم جو کہ سود پر Depend کرتا ہے اُسے واشگاف الفاظ میں چیلنج کیا ہے، سب سے بڑی تکلیف ہی انکو یہی ہے۔

اب آتے ہیں نظام حکومت کی طرف، دنیا کے دونوں مذاھب مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا دیکھنا تک بھی گوارہ نہیں کرتے، اگر کرتے تو سلطنت عثمانیہ کو توڑنے میں پیش پیش نہ ہوتے،  کمزور سی "خلافت عثمانیہ" اس بات کی مظہر تھی کہ اتحاد بین المسلمین میں ہی طاقت ہے، خدا کرے دُنیا بھر کے مسلمان سربراہانِ مملکت اور ملوکیتی نظام کے حامل یہ بات اچھی طرح سے زھن نشین کر لیں تو بہتر ھے۔

اب آتے ہیں دیسی اور ولایتی لبرلز کی طرف تو انکو روس کے ٹوٹنے کے بعد اسلام کا وہی چہرہ دکھایا گیا جو انکے پیر و مرشد انکو دیکھانا چاہتے تھے، دنیا بھر کو بھی  مسلسل یہی جتایا گیا گیا کہ مسلمان صرف لڑنا بھڑنا ھی جانتا ھے، مسلمان ایک طرح کی خونخوار قوم ہے جس کے پاس اخلاقیات نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور یہ ثابت کر چکے ہیں کہ عالمی امن و سلامتی کیلئے صرف مسلمان قوم ہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔

یہ اسلام پر ایک طرح کا خطرناک الزام ہے، اگر ہم اخلاقیات کے معاملے میں خدا نخواستہ پست ہوتے یا مذہبی رواداری کے ہم حامل نہ ہوتے دنیا بھر میں تو جوجو علاقے اسلام کے زیر نگیں رہے وہاں آج دوسرے مزاہب کے لوگ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتے، اسپین، ہندوستان اور مشرقی یورپ اسکی سب سے بڑی مثال ھیں۔

اسپین میں جب مسلمان کمزور ہوکر اپنی حکومت گنواتے ہیں تو وہاں کے عرب اور مقامی مسلمانوں کے ساتھ ملکہ ازابیلہ نے فرانس کے ساتھ مل کر عرب النسل اور مقامی اندلسی مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے، ختم نہیں ہوا، البتہ! ہماری نئی نسل سے اُسے چھپا لیا گیا ہے۔ مذہبی رواداری اور اخلاقیات کی آپکو ایک اعلیٰ مثال دیتا ہوں کہ جب 

صلاح الدین ایوبی بیت المقدس کو فتح کرنے کیلئے محاصرہ کرتے ہیں تو ایک دو بدو معرکے میں عیسائی جنرل رچرڈ شیر دل کی تلوار ٹوٹ جاتی ہے تو سلطان اُسکی گردن بھی اڑاتا، بلکہ اُسے اپنی تلوار پیش کرتا ہے، رچرڈ کے بیمار ہونے پر اپنا شاہی طبیب علاج کیلئے اُسکے لشکر میں بھیجتا ہے، اس پر شب خون نہیں مارتا۔ یہ ہیں اعلیٰ اسلامی اقدار جن سے وہ مسلمان نسل کو ہر حالت میں دور رکھنا چاہتے ہیں، سب کچھ چھپا رہے ہیں، آج دنیا بھر کا میڈیا مسلمانوں کو دہشتگرد ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے، جہاں بھی  کوئی  امت محممدیہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خون بہاتا ہے، دنیا اسے ستائشی نظروں سے دیکھتی ہے، کیوں کہ کچھ ہمارے اعمال اور بہت سا اُنکا منفی پروپیگنڈہ، ہم مسلمان دنیا بھر کی اقوام کی نظر میں عالمی امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنتے ھوئے نظر آ رہے ہیں، جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

پاکستانی لبرلز کیوں خلافت طرز حکومت یا خلافت عثمانیہ یا مسلمانوں کی نشاتہ ثانیہ کی کیوں مخالفت کرتے ہیں، اس کے موضوع پر مجھے بہت زیادہ لکھنا پڑے گا، کیوں کہ یہ کوئی عام موضوع نہیں، یہاں کے دیسی لبرلز بھی خلافت یا مسلمانوں کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جانے سے ویسے ہی خوف زدہ ہیں جیسے اُنکے پیر و مرشد۔ 

عربوں کو اسلام یا امت رسول سے اب کوئی سروکار نہیں، وہ مکمل طور پر پریکٹیکل، خود غرض اور اپنی ذات میں مست ھین، امت یا امت کے مسائل گئے بھاڑ میں، آج خون مسلم پانی سے بھی زیادہ ارزاں ہے، کشمیر ہو یا روہنگیا، عراق، شام، لنبان، فلسطین ہو یا چین و یمن، مسلمانوں کا بے دریغ خون بہایا جا رہا ہے، لیکن اس مسئلے پر مسلمان دنیا بھر کے کسی بھی فورم پر آواز اٹھانے کو تیار ہی نہیں، (انّا للّہ و انّا الیہ راجعون)۔

میری تحریریں میرے ذاتی خیالات ہوتے ہیں ان سے کسی کا بھی متفق ہونا ضروری نہیں۔

احقر العباد:-
غلام محمد چوہان۔
09.05.2020

بدھ، 24 جون، 2020

Mera Jism Meri Marzi, Bigri Naslen Aur Ham Aur Hamari Zumedari

 صدائے درویش

بگڑی نسلیں, میرا جسم میری مرضی اور ہم اور ھماری ذمہ داریاں

آج ہم جس خطرناک صورت حال سے دوچار ہیں اس کو پیدا کرنے اور مزید پیچیدہ کرکے ہمیں اس اسٹیج تک پہنچانے کیلئے سب سے پہلے طویل جدوجھد کے بعد ایک ماحول پیدا کیا گیا جو مذہب اور روایات کو نشانہ بنا رہا تھا، لبرلز کے نام اور  مادہ پرست گروپ اور نام نہاد حقیقت پسند بنے اور ہم مذہب کیساتھ ساتھ روایات سے بھی دور ہوتے چلے گئے پھر ایک طرح سے قدامت پسند اور ترقی پسندی کے نام پر سوشل اؤر الیکٹرونک میڈیا پر جنگ چلی، نتیجتاً پبلک پلیسز پر نازیبا لباس کی نمائش، بےراہ روی اور والدین سے بد کلامی وغیرہ ایک طرح کا فیشن بن گیا، بچے والدین اور سرپرستوں سے دور ہوتے چلے گئے۔

جو بیج بویا گیا تھا وہ اس وقت مذہب کے خلاف ہی نہیں، ہماری مشرقی روایات کا بھی سر عام مذاق اڑا رہا ہے، انسان تغیّر پذیر ہے، تبدیلی آتی ہے جسے قبول کرنا پڑتا ہے، لیکن بد قسمتی سے اب تبدیلی نہیں بےحیائی آئی ہے اور اُسے پورے طمطراق کے ساتھ معاشرے میں پھیلایا بھی جا رہا ہے۔
ایک اور خاص بات کہ ہماری اپنی ذاتی سوچ اور فکر ہے ہی نہیں کہ سب کو سن کر خود کسی بھی طرح کا کوئی فیصلہ کر سکیں کہ ہمارے لئے مجموعی طور پر کیا غلط ہے اور کیا درست، حالانکہ اللہ رب العزت نے انسان کو عقل سلیم عطا کر رکھی ہے کہ وہ خود بھی برے بھلے کی تمیز کر سکیں، لکیر کے فقیر کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔

جو پیدا جڑ پکڑ چکا اس نے میٹھا یا کڑوا پھل تو ضرور دینا ہے، اب یہ ہمارے کلی اختیار میں ہے ہم اس کو تلف کرتے ہیں یا کھانے کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
گناہ میں لذت ہے یہی وجہ ہے کہ نئی نسل تیزی کے ساتھ اُسکی طرف راغب ہے،  کچھ پیڈ آنٹیاں ہیں جو انکو motivate کرنے میں سرفہرست ہیں۔
اللہ سب کو راہ راست دکھائے یہ طاقت سے دبا دینے والا مسئلہ نہیں، اگر کی گئی تو لوکل اور پورا انٹرنیشنل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پاکستان کے ساتھ ایک نیا محاذ کھول دیگا، پہلے بہت کھلے ہوئے ہیں۔
اس کا واحد حل صبر و تحمل کے ساتھ اس وبا کا مقابلہ کرنا ہے۔

اب ہمارا اور civil society' کا فرض ہے کہ ہم ہر طرح سے اس mind set کا اخلاقی قوت سے مقابلہ کریں، تشدّد کا راستہ اپنا خودکشی کے مترادف ہوگا، اپنے بچوں کی ذہنی تربیت کی ابتداء ماں کی گود سے ہو اسکولوں سے نہیں۔
اگر ہم اس فحاشی اور بے رہ راوی کے سامنے مضبوط بند نہ بند سکے تو یہ سیلاب ہماری جملہ مذہبی اور ثقافتی روایات کو بہا کر لے جاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
ہر فورم پر اس ذہنیت کی پرامن طریقے سے مذمت کرنا میرا آپکا ہی نہیں، ہر مکتبہء فکر کے فرد افراد یا گروہ کا اولین فریضہ ہے، ہم پر واجب ہو چکا کہ اپنے عمل سے اس بھٹکی ہوئی نسل کو سیدھے راستے کی طرف لائیں جو ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے کیلئے بلکل تیار ہے، ڈنڈے سے سیدھا نہ کیا جائے، ورنہ برے نتائج سامنے آئیں گے اچھے ھر گز نہیں۔
مذہب کے ساتھ ساتھ ہماری مقامی روایات کو بھی سنبھالنا ضروری ہے جب ہم ہر ایک کی بہو، بہن اور بیٹی کو اپنی عزت سمجھا کرتے تھے، پھر سے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہونا ہوگا isolate بلکل بھی نہیں۔
اللہ ہم سب کو توفیق دے جو ہم کہہ رہے ہیں وہ کر بھی دکھائیں، ورنہ آنے والی نسلیں اور تاریخ ہم کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔

جو بچیاں یا بچے اس مکروہ mind set کا شکار ہو چکے ھیں واپس لانا بیحد ضروری ہے ورنہ یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ عورت سے ہی نسل پیدا ہوتی اور آگے چلتی ہے، صد افسوس کہ باپ  حرام ایئر حلال کی تمیز کئے بغیر صرف پیسے بنانے والی مشین بنا، ماں نے اولاد کو نہ پیار دیا نہ سینے سے لگایا اور نہ ہی کثرت نے اپنا دودھ پلانا مناسب سمجھا، اولاد کو نوکرانی اور آیا یا چلڈرن ہومز کے سپرد کر دیا کہ ہم اپنا فرض پورا کر چکیں۔ میں نے کسی دور میں کسی دانشور کا قول پڑھا تھا " تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں بہترین نسل دونگا"  اب اگر ہم ماں کی گود کو پھر سے اچھی اور نیکی کا سبق دینے والی پہلی درسگاہ بنا سکے تو ہی بہتری ممکن ہے ورنہ دائمی تباہی ہمارا مقدر ثابت ہوگی۔

آپ سب کا:-
غلام محمد چوہان۔
March 07, 2020

منگل، 23 جون، 2020

Sindh Kay Udho Das Ki Sakhawat aur ham

حاصل مطالعہ

شکارپورسندھ کےاودھو داس کی سخاوت کا قصہ اور ھم

دیکھاوہ، نمائش، ریاکاری

قیام پاکستان سے قبل اودھو داس سندھ کے امیر کبیر لوگوں میں شامل تھا۔اس کی ماں بیمار ہوئی تو ڈاکٹروں نے کہا کہ سندھ میں موجود اسپتالوں میں اس بیماری کے علاج کی سہولت میسر نہیں ، اس کا علاج بمبئی کے اسپتال میں ہی ہوسکتا ھے ۔
 اودھو داس والدہ کو بمبئی لے گیا اور علاج کرایا،ماں کی حالت بہتر ہونے پر گھر واپس لے آیا اور چند روز بعد ماں سے پوچھا کہ آپ کی طبعیت کیسی ھے جس پر اس کی ماں نے جواب دیا کہ:
 میں تو اودھو داس کی ماں ہوں،یہاں علاج ممکن نہیں تھا تو بمبئی کے اسپتال میں علاج ہوگیا مگر سندھ میں بسنے والی ان ماؤں کا کیا ہوگا جن کے بیٹے اودھو داس کی طرح دولت مند نہیں۔
اودھو داس اپنی والدہ کی اس بات سے متاثر ہوا اور اس نے ماں کو بتائے بغیر شکار پور میں اس زمانے کا ایک جدید اسپتال تعمیر کرایا اور والدہ کو ساتھ لے کر اسپتال پہنچا کہ ماں اب فیتا کاٹ کر افتتاح کرو، یہاں سندھ میں بسنے والے غریبوں کا مفت علاج ہوگا ۔ 
ماں نے دیکھا کہ اسپتال کے مرکزی دروازے پر اس کے بیٹے اودھو داس کا مجسمہ نصب تھا ۔ ماں اودھو داس سے مخاطب ہوئی کہ یہ مجسمہ تم نے اسلیے نصب کرایا ھے کہ تمہارے سخی ہونے کے چرچے ہوں، اس مجمسمے کی یہاں  موجودگی تک میں افتتاح نہیں کرسکتی ۔
 اودھو داس نے مجسمے کو ہٹوا کر اپنے نام کی تختی بنوائی اور اسے داخلی راستے پر زمین میں دفن کرادیا کہ جو بھی اسپتال میں داخل ہوگا وہ میرے نام کو پیروں تلے روندتا ہوا داخل ہوگا ۔ اس کے بعد اودھو داس کی ماں نے اس فلاحی اسپتال کا افتتاح کیا ۔

 آج جب میں سوشل میڈیا پر غریبوں کو راشن دیتے وقت فوٹو سیشن کراکے ان کو رسوا اور اپنی مشہوری کی پوسٹیں دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ کاش ھم لوگ بھی اودھو داس کی ماں اور اودھو داس کی طرح سوچیں 

(منقول)۔


Mohtram aur Muqaddas Rishton ka Videos Msgs men Social Media per Mazaq Urana

Social Media
چھوٹی سی بات

محرم اور مقدّس رشتوں کا تسلسل سے مذاق 

میں چند ماہ سے تواتر کے ساتھ فیس بک پر ایسی ویڈیوز دیکھ رہا ہوں جن میں محرم اور مقدّس رشتوں کا تسلسل سے مذاق اڑایا جا رہا ہے، جن میں صرف اور صرف جنسی زیادتی اور پھر گناہ آلودہ زندگی پر مائل کرنے کے علاوہ کچھ ہوتا ہی نہیں۔

باپ،  سگے چچا اور سگے ماموں کا اپنے محرم رشتوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر اُن سے گناہ آلودہ زندگی گزارنے پر یعنی بدکاری پر مجبور کرنے کے علاوہ اور کوئی پیغام ہوتا ہی نہیں، ایسے لگتا ہے کہ خون کا خون سے اعتبار ختم کیا جا رہا ہے، باپ، چچا اور ماموں سے بچی محفوظ نہیں، لیکن ایسی کوئی بھی وڈیو اپ لوڈ نہیں ہوتی جس میں غیر محرم رشتے پر اعتماد اور اعتبار نہ کرنے کا پیغام دیا جا رہا ہو، یہ کیسی awareness ہے جو نئی نسل کے بچوں کے اذہان میں زہر گھول رہی ہے؟

میں مانتا ہوں کہ ایسی درندگی کے واقعات ضرور ہوتے ہونگے ک جب انسان انسان سے وحشی بنتا ہے تو وہ مقدّس ترین رشتوں کی پہچان تک بھی بھول جاتا ہے۔

ایک اور بھی چلن عام ہو چکا کہ مالکن کس طرح سے اپنے ملازم کو اپنی مکروہ خواہشات کے تکمیل کے لئے ٹریپ کرکے اُسے جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ یہ مکروہ عمل بھی ہمارے ہی معاشرے کا ایک حصہ بن چکا ہے، لیکن سب تو ایسے نہیں کہ سب کو ایک نظر سے دیکھا اور ہانکا جائے۔

کچھ بیرونی ممالک کے نشریاتی ادارے بھی بلوغت کو پہُںچ کر نو عمر بچوں میں ہوتی ہوئی تبدیلیوں بتاتے ہوئے Awarenees کے نام پر ہی تمام اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جن کو ہمارا مشرقی معاشرہ اور کوئی بھی مذہب سر عام ڈسکس کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

ایسی پوسٹس سے ہمارے معاشرے میں نئی نسل کا جنسیات اور جسنی عمل کی طرف راغب ہونے کا عمل تیز ہو گیا ہے کہ آئے دن کوئی نہ کوئی واقعہ سوشل کی زینت بنتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

 کیا کیسی پوسٹس کو نظر انداز کرنا چاہئے؟

یہ میرا آپ سب سے آج ایک چھوٹا سا سوال ہے، اُمید ہے میرے تمام دوست اپنی قیمتی آراء سے نوازیں گے کہ ان سب کا کیسے سد باب کرکے نوجوان نسل کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

احقر العباد:-
جی۔ایم چوہان،
February 12, 2020

پیر، 22 جون، 2020

"Khabardar Apko Cameray Ki Aankh Dekh Rahi Hay" aik Public Notice

صدائے درویش
چھوٹی سی بات

خبردار آپکو کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے

میرا اور گروپ کے کافی دوستوں کا مشاہدہ ھوگا کہ بہت سے پبلک پلیسز یا حساس مقامات پر لکھا ھوا ھوتا ہے کہ 
"خبردار آپکو کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے"

کئی مرتبہ یہ پڑھ کر حیرت بھی هوتی ہے کہ کیمرے کی آنکھ کا تو ھم کو خوف ہے، لیکن!
اس آنکھ کا ھم کو بالکل بھی خوف نہیں جو ھماری ہر حرکت کو 24 گھنٹے دیکھ رہی ہے، جس آنکھ کو نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔

اللّه سے نہیں ڈرتے کیمرے کی آنکھ سے جان جاتی ہے، اس سے بھی ذیادہ حیرت اس بات پر هوتی ہے کہ اتنی سیکورٹی ھونے کے باوجود بھی جرائم ھوتے ھیں، بلکہ ان کی شرح روز بروز بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔

میرا خیال ہے اگر انسان اللّه اور کیمرے کی آنکھ سے ذیادہ اپنے ضمیر کی آنکھ سے ذیادہ ڈرے تو ھو سکتا ہے بہت خاطر خواہ نتائج حاصل ھوں، اسکے لئے صرف ھمیں اپنے ضمیر کو مردہ ھونے سے بچانا ھوگا۔

میرا ایمان اور کامل یقین ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک محتسب موجود ھوتا ہے، ضمیر کی صورت میں، جو انسان کو اپنے غلط یا صحیح ھونے کا ہر عمل سے پہلے احساس ضرور دلاتا ہے۔

آئیے اپنے ہر عمل کو اپنے کیمرے سے دیکھنے کی عادت کو فروغ دیں، جرائم ختم تو نہیں، یقینی طور پر کم ھونا ضرور شروع ھو جائیں گے۔

" کسی پر بھی انگلی اٹھانے سے پہلے، کوئی بھی غلط کام کرنے سے پہلے اپنے اندر کی آواز کو صرف غور سے سنیں، اندر کی آواز اپکا بہترین مشیر ثابت ھو سکتی ہے، پھر اسکی ماننا یا نہ ماننا آپکی اپنی صوابدید پر ہے, کسی اور کی بلکل بھی نہیں۔

خیر اندیش:--
جی۔ایم چوھان۔
October 07, 2019

2 Qaumi Nazarya, Pakistan aur Akhand Bharat

صدائے درویش


دو قومی نظریہ، اکھنڈ بھارت اور پاکستان۔


دنیا میں اس وقت قومیت کی تشکیل کے دو تصوّر ہیں، پہلا نظریہ اسلام اور دوسرا مغرب زدہ قومی نظریہ۔

اسلام میں قومیت  کا تصّور مذہب سے ہے، جب کہ مغرب میں، نسل، زبان اور ثقافت سے۔

اسلام رنگ و نسل کو رد کرتا ہے، اسلام میں کلمہ طیبہ قومیت کی تشکیل کی بنیاد ہے۔

مضمون کی طوالت کی توہ سے یہاں مزید لکھنا مناسب نہیں سمجھتا!

مضمون لکھنے کی اصل وجہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان کا قیام ہے، جس کی 07 دہائیاں گزر جانے کے باوجود بھی ایک مکتبہ فکر بہت کرو فر کے ساتھ مسلسل مخالفت کرتا چلا آ رہا ہے اور پاکستان کے قیام کو غلط ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔

اس مکتبہ فکر کا خیال ہے کہ اگر ہندوستان مذہبی بنیاد پر تقسیم نہ ہوتا تو آج بر صغیر میں مسلمان قوت میں ہوتے اور پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت ہونی تھی، نہ کہ ہندو کی، ہو سکتا ہے ایسا معجزہ ہو ہی جاتا لیکن! واقعات بتا اور اشارے دے رہے ہیں کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔

بنیادی بات یہ ہے کہ اگر دو" قومی نظریہ " یا قیام پاکستان مسلمانوں کو کمزور کرنے کی سازش ہوتا تو ہندو ذہنیت اور انکی نمائدہ جماعت "انڈین کانگریس" اور اسکے حواری قیام پاکستان کے مواقف ہی کرتے، مخالفت ہرگز نہیں، کیونکہ مسلمانان ہند کی قوت ٹورنی مقصود تھی۔

مسلم لیگ کے قیام سے قائد کی مسلم لیگ میں شمولیت تک، پھر تحریک پاکستان،  قرارد لاھور جو بعد میں قرارداد پاکستان کہلائی اور قیام پاکستان تک کانگریس پاکستان کے قیام کی مخالفت کرتی ہی نظر آتی ہے۔

قیام پاکستان کے وقت باؤنڈری کمیشن، پھر اثاثہ جات کی تقسیم, پھر 1948  میں کشمیر میں اپنی افواج اتارنا 1965ء میں بغیر کسی اطلاع کے پاکستان پر چڑھ دوڑنا، پھر منہ کی کھا کر اقوام متحدہ سے رجوع کرکے جنگ بند کرنے کی درخواست، پھر ایک سازش سے (جس میں پاکستان سے اندرونی عناصر بھی شامل تھے) پاکستان کو دو لخت کر کے بنگلہ دیش کا قیام اود آنجہانی مسز اندرا گاندھی کا دو ٹوک بیان کہ " ھم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے" کا وا شغاف اعلان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہندو ذہنیت شروع سے ہی مسلمانوں کے لئے بر صغیر میں ایک الگ وطن کی شدید مخالف تھی، اگر قیام پاکستان کے مسلمانوں کی مجموعی قوت ٹوٹ رہی ہوئی تو اسے تو پاکستان کی قیام کی حمایت کرنی چاہئے تھی نہ کہ مخلفات۔
یہی وہ نکتہ ہے جس نے مجھے آج کچھ لکھنے پر مجبور کیا۔

پاکستان کے خلاف اسلام دشمن طاقتوں کا گٹھ جوڑ، پھر ہندوستان کا " سیاچین گلیشیر" پر قبضے کا جارحانہ اقدام، پاکستان میں دہشت گردی، کببھوشن یادیو کا پکڑا جانا اس طرف صاف اشارہ ہے کہ ہندو ذہنیت نے ابھی تک قیام پاکستان کو صدق دل سے تسلیم کیا ہی نہیں (دو قومی نظریہ کی مخالفت کرنے والوں کے نکتہء نظر کے مطابق تو ہندوستان کو قیام پاکستان کی اور پھر وجود پاکستان کی حمایت کرنی چاہئے تھی نہ کہ صریح دشمنی) 26 فروری 2019ء کی صبح بھارتی اور اسرائیلی فضائیہ کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور 02 لڑاکا طیارے گنوا کر منہ کی کھائی۔
 کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے؟

کتنا لکھوں؟

کتنے ثبوت دوں کے قیامِ پاکستان اور وجودِ پاکستان بر صغیر میں مسلمانوں کے لیے نعمتِ خدا وندي سے کم نہیں۔

جب تک پاکستان دنیا کے نقشے پر موجود ہے، بھارت کا خطے میں بلا دستی کا خواب اور اسرائیل کا "گریٹر اسرائیل" کا قیام ممکن نہیں، مملکت خدا داد اسلام دشمنوں کے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے ان کے راستے کا سب سے بڑا "روڑا" ھے۔
 اللہ رب العزت ھم پاکستانیوں کو اس ملک کی اہمیت و افادیت اور اصل حقائق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے جو " حب علی اور بغض معاویہ " تحریک پاکستان، قیام پاکستان سے اب تک خار کھائے بیٹھے ہیں اور نئی نسل کو بھی ورغلا رہے ہیں۔

طالب دعا:-

جی۔ایم چوہان،
December 25, 2019

اتوار، 21 جون، 2020

Aik Pegham Mulk Dushmano kay Lie

  حاصل مطالعہ

فوج کو لیکچر دینے والے دانشگردوں کے نام

27 دسمبر 1979: افغان فوجی وردیوں میں ملبوس روسی خفیہ ادارے کے جی بی اور جی آر یو کے کمانڈوز اپنے ٹھکانوں سے نکلے اور انہوں نے صدارتی محل سمیت کابل کی اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرکے افغان صدر حفیظ اللہ امین کو قتل کر دیا۔ چند منٹوں کے اندر اندر افغان حکومت بغیر کسی بڑی مزاحمت کے دھڑام سے گر گئی۔

کچھ ہی دیر بعد ریڈیو کابل سے ایک اعلان نشر ہوا جس میں کہا گیا کہ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما ببرک کارمل نئی افغان حکومت کے سربراہ ہوں گے اور روس نے انہی کی ایما پر یہ فوجی آپریشن کیا ہے۔
سویت یونین برف پوش پہاڑوں سے اٹھا افغانستان آگیا صرف اسکا  حدف پاکستان تھا 

اس وقت کے صدر پاکستان نے امریکی صدر کو فون کیا کہ اگر سویت یونین سے اپنے بدلے لینے ہیں تو بتائیے ۔امریکی صدر نے حامی بھری ۔جنرل ضیاء الحق شہید نے کہا ہماری تین شرطیں ہیں پہلی اسلحہ دو گے کہاں استمعال ہوا نہیں پوچھو گے ۔امداد کا کوئی حساب نہیں ہوگا ۔اور پاکستانی  ایٹم بارے خاموش رہو گے۔امریکی مان گئے

اس وقت سرخوں نے بہت شور مچایا وہی الزام لگا امریکی غلامی کا ۔امریکہ فنڈز لینے کا واویلا 
پھر وقت نے دیکھا سویت یونین ٹوٹا اور شہید ضیاء الحق کو مرد مومن کا خطاب ملا اور تنقید کرنے والوں کے حصے میں لعنت آئی۔مشورے دینے والوں کو شرمندگی ہوئی اور بھاشن دینے والے مٹ گئے۔

وقت گررتا گیا

امریکہ میں نائن الیون حملوں کے ڈراموں کے بعد اکتوبر 2001 میں امریکہ  افغانستان میں آ ٹپکا

نائن الیون حملوں کے دوران پاکستان میں فوجی حکومت تھی اور جنرل پرویز مشرف آرمی چیف اور ملک کے صدر بھی تھے۔
افغانستان کے ساتھ طویل سرحد اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک ہونے کی بدولت امریکہ نے پاکستان سے تعاون طلب کیا۔
اس دوران یہ خبریں بھی عام رہیں کہ اُس وقت کے امریکی نائب وزیرِ خارجہ رچرڈ آرمٹیج نے پاکستان کو تعاون نہ کرنے پر 'دھمکی دی کہ بمباری کے ذریعے اسے پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا۔'
اس سے قبل پاکستان امریکہ کا ساتھ افغانستان میں ہی لڑی جانے والی سویت یونین کے خلاف جنگ میں ساتھ دے چکا تھا۔
افغانستان کا پڑوسی ملک ہونے کے باعث امریکہ کو پاکستان کی مدد درکار تھی۔ لہٰذا اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش نے پاکستان سے مدد طلب کی۔
پرویز مشرف نے بھی مختلف مواقعوں پر انٹرویو کے دوران اس دھمکی کی تصدیق کی۔ البتہ رچرڈ آرمٹیج نے 2006 میں امریکی ٹی وی 'این بی سی' نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس کی تردید کی تھی۔
رچرڈ آرمٹیج نے کہا تھا کہ پاکستان سے صرف یہ کہا گیا تھا کہ کیا وہ امریکہ کے ساتھ ہے یا نہیں؟
پاکستان نے بظاہر اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی پاکستان میں فوجی حکومت کی مخالف مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے بھرپور مخالفت کی۔

البتہ جنرل پرویز مشرف نے اس فیصلے کو پاکستان کے وسیع تر مفاد میں قرار دیا۔ پرویز مشرف نے کہا تھا کہ "امریکہ سے محاذ آرائی کی صورت میں پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
"افغانستان میں پاکستان کی کامیابی کے پیچھے جنرل مشرف کی مغرب کیلئے دوغلی اور پاکستان کیلئے ناگزیر حکمت عملی تھی ۔11 ستمبر کے بعد امریکی بپھرے ہوئے تھے پوری دنیا ان کے ساتھ سوگ میں مصروف تھی وہ افغانستان ایک حکمت عملی کے تحت آرہے تھے ۔ کیا اس بدمست جنگی مشین کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ؟ اس وقت امریکیوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ اور بعد میں امریکیوں کو دھوکہ دینے کا فیصلہ دونوں ٹھیک تھے ۔ان فیصلوں کی بھاری قیمت ادا کی گئی ہے لیکن اس جنگ نے دہشت گردی کے بدترین دور میں پاکستانی معیشت کو زندہ رکھا ۔8 اکتوبر کا خوفناک زلزلہ آیا اور دو بدترین سیلاب آئے ۔توانائی کا بدترین بحران رہا لیکن افغان جنگ کی وجہ سے آنے والے امریکی ڈالروں نے پاکستانی معیشت کو بھی دیوالیہ نہیں ہونے دیا ۔امریکی افغانستان میں پھنسے مرے اور اپنی معیشت کو بھی ستیا ناس کروایا
پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ امریکی جنرلز اور سابق خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے برملا کہا کہ پاکستان نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا 
اور پھر مشہور ہوا کہ پاکستان نے امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دی 
تنقید کرنے والوں ،امریکی غلام کہنے والو ۔فنڈز لینے کا طعنہ دینے والوں کے حصے میں پھر لعنت آئی

وقت گزرتا گیا۔۔۔۔۔۔۔

مقبوضہ کشمیر پلوامہ میں حملہ ہوا اپنی عوام کو خاموش کرانے کے لیے بھارتی فوج نے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستان ایئر فورس کے ایکٹو ہونے اور پیچھا کرنے پر پے رول گرا کر چلتے بنے ۔
پھر پورا 26 فروری کے  یہاں طوفان اٹھا ۔پاک فوج کو بزدلی کے طعنے دیے جانے لگے ۔ لبرلز ،لفافے ،سرخے ،سیاستدان سبھی 
پاک فوج پر بھونکنے لگے
کہا جانے لگا کہ اتنا بجٹ لیتے پھر بھی کچھ نہیں کر رہے۔لنڈے کے دانشور پاک فوج کو مشورے دینے لگے۔موسمی محب وطن پاک فوج پر تنقید کرنے لگے
۔پھر 27 فروری کو ساری دنیا نے دیکھا کہ پاک فوج نے نا صرف لائن آف کنٹرول کراس کیا بلکہ ہندوستانی فوج کا تڑا نکال کر آگئی اور دو ہندوستانی طیارے مار گرائے ایک پائلٹ ہلاک اور ایک گرفتار کیا تب بھی لیکچرز دینے والوں کے حصے میں لعنت آئی

پھر وقت گزرتا گیا۔۔۔۔۔۔۔ 

اور بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی پھر دانش گردوں نے کی لیکچر شروع کر دے ۔اور تو اور چین کی لداخ میں پیش قدمٹ پر بھی فوج کو مشورے دینے شروع ہوگئے ہیں۔
مگر لنڈے کے دانشوروں کو ہر پالیسی بتائی نہیں جاتی ۔آنے والے وقتوں میں کامیابی ہی فوج کی کامیابی پالیسیوں کی گواہی دیتی ہیں
لنڈے کے دانشوروں کو صرف لیکچر جھاڑنے آتے ہیں

مگر ایک بات ہمیشہ کی طرح سن لو یہ پاک فوج ہے ۔یہ بڑھکیں نہیں مارتی یہ پلانگ کرتی ہے اور دشمن کو گھٹنوں پر لا کر کھڑا کرتی ہے۔
یقین نہیں تو دیوار برلن کے ٹکڑوں اور وائیٹ ہاؤس کی دیواروں سے پوچھ لو ۔ابھی نندن سے پوچھ لو
آپریشن ضرب عضب میں ہزاروں عبرت کا نشان بننے والے دہشت گردوں سے پوچھ لو۔

آج کل جہاں دشمن اور اسکے آلہ کار پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں وہیں محب وطن پاکستانی انکا منہ توڑ جواب دینے میں۔ایسے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ واقع ہی عظیم جذبے کے مالک ہیں جو برے سے برے وقت میں بھی افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
مگر اس جنگ میں کچھ  ایسے بھی لوگ سامنے آئے ہیں جو پہلے بظاہر حب الوطنی کا برچار کرتے ہیں مگر آہستہ آہستہ اپنی اصلیت دکھانا شروع ہوجاتے ہیں 

انکا طریقہ واریت نرالا ہے جس کو سمجھے 

سب سے پہلے وہ لوگ قوم پرستی اور حقوق سے شروع کرتے ہیں۔ شروع میں کہتے کہ ہم ریاست اور افواج کے ساتھ ہیں مگر ریاست ہمارے حقوق نہیں دے رہی۔

آہستہ آہستہ یہ لوگ ان وسائل پر بات کرتے ہیں کہ یہ ہمارے علاقے کے ہیں دوسرے صوبے والے انکو کھا ریے۔

پھر کبھی کسی دہشتگرد کی تصویر اپلوڈ کر کے کہتے ہیں کہ آخر ریاست کو سوچنا چاہیے کہ ان طالب علموں نے ہتھیار کیوں اُٹھائے؟!

پھر وہ کہتے کہ فوج پر ہماری جان قربان مگر ہم کچھ جنرلز پر تنقید کریں گے یہ ہمارا حق ہے۔

پھر کہیں گے کہ یہ فوج کے بڑے آفیسرز سکون سے رہ رہے بچارے ہمارے سپاہیوں کی حالت دیکھو 

آج کل ان لوگوں نے نیا طریقہ اپنایا ہے کہ یہ لوگوں دلوں میں زہر بھرنے کے لیے پوسٹ کرتے ہیں کہ فوج کشمیر کے لئے کچھ نہیں کر رہی چین دیکھو کافر ہے پھر بھی وہ لداخ میں گھس گیا۔اگر ایسا ہے تو بھارتی ایجنسیوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف اپنے میڈیا کے زریعے باجوہ ڈاکٹرائن کیمپین کیوں چلوائی۔

کبھی کہیں گے فوج پر یہ الزام لگا ہے کہ پاک فوج کو خود کو اس سے کلئیر کرنا چاہیے۔ 

یہ محب وطن پاکستانیوں کو کہتے ہیں فوج سے ہمیں بھی محبت ہے مگر ہم تمہاری طرح پالشے نہیں 
یہ تھی لوگو کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور خود کو محب وطن کہلوانے والوں کی نشانیاں

ان کو جواب دینے کی صورت میں بوٹ پالشی کا طعنہ دے کر یہ لوگ بھاگ جائیں گے۔ان کو پالشی فوبیا ہو گیا ہے۔

ایسے لوگوں کو پہ پہچانیں ۔یہ آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہنوں میں زہر بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا تو جان بوجھ کر یا نادانی میں پہلے انکو پیار سے سمجھائیں
کیونکہ لوگوں کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنا ملک دشمنوں کا راستہ ہموار کرنا ہی ہے۔ہم حالت جنگ میں ہیں 

حب الوطنی کی آڑ میں میٹھے لہجوں میں زہر اگلنے والوں سے ہوشیار رہیے۔

نواب مبین حسن۔


Dehati Saqafat ka Aik Hairatangez Kirdaar (Naai)

ماضی کے جھروکوں سے

"دیہاتی ثقافت کا حیرت انگیز کردار "نائی 


اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ یا تصویر ہم کو اپنے ماضی کی طرف کے جا کر بہت کچھ یاد دلاتے دیتی ہے۔

کافی عرصہ پہلے کے بات ہے میں اپنے ایک دوست کی شادی میں شرکت کرنے سانگھڑ سے اوکاڑہ کے نزدیک ایک گاؤں میں گیا تھا، سفر لمبا تھا وہاں پہنچا تو تھکن سے چور چور تھا، میزبان نے کہا کہ آپ فریش ہو جائیں، ناشتا کریں پھر آرام کریں کہ سفر کی تکان دور ہو۔

میں نے اپنا سفری بیگ کھولا جس میں میری مسز میری ضروریات زندگی کی تمام اشیاء میرے بیگ میں رکھنا اپنا فریضہ سمجھتی تھی ( کیوں کہ اچھا خاصا بھلکڑ بھی واقع ہوا ہوں) اب بھی اگر کہیں جانا ہو تو سب چیز ترتیب سے رکھا کرتی ہے کہ دورانِ سفر کسی بھی طرح کی دقّت نہ پیش آئے۔

میری Shaving kit دیکھ کر میزبان نے کہا " یار! کیوں تکلفات میں پڑ رہے ہو میں نے "سیپی" کو بلایا ہے، بس آتا ہی ہوگا، یہ شہری چونچلے چھوڑو اور جب تک آپ میرے پاس ہیں دیہاتی زندگی کے مزے الڑاؤ، ماننا پڑا۔

کچھ دیر میں ہی راجہ اپنی بشکی لیکر پہنچ چکا تھا، میرے دوست نے کہا کہ " یہ میرے دوست سندھ سے آئے ہیں آپ انکی داڑھی بنا دیں! راجے نے مجھے اپنے سامنے بیٹھے کا کہا بلکل ایسے ہی جیسے اس تصویر میں ہے، میرے لئے یہ ایک طرح کا عجیب تجربہ تھا، سنا تھا کہ ایسے بھی داڑھی بنائی جاتی ہے، اب خود اس کا شکار بھی ہونے کو تھا۔

میں اور وہ ایک دوسرے کے مد مقابل اكڑوں بیٹھے ہوئے تھے، جیسے کسی زمانے میں دیہاتوں میں "بینی پکڑنے" والے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھا کرتے تھے۔ پھر راجا صاحب نے میرے دائیں ہاتھ میں ایک آئینہ تھما دیا جو غالباً بڑے آئینے کا ہی نعم البدل تھا، اسے بھی دیکھنا پڑا۔ وہ تو یقینی طور پر بیان کردہ آسن میں بیٹھنے کا عادی تھا، میرے لئے یہ انتہائی تکلیف دہ صورت حال تھی، وہ سمجھ گیا تو ایک اینٹ میری طرف بڑھا دی کہ اُسے استعمال کروں، میں بھی اپنی منٹگمری اینٹ پر ٹکا کر بیٹھ چکا تھا، پھر اس نے ایک ٹوٹے سے کپ میں جس میں اس نے اپنے طور پر شیونگ سوپ رکھا ھوا تھا، اس میں چند لمحے برش گھمایا، کچھ جھاگ پیدا کی اور مذکورہ برش کو میری گالوں پر آزمانا شروع ہوگیا، برش بھی نیا نہیں تھا کہ کثرت استعمال سے اسکے بال ختم ہونے کو تھی، آپ اسے " لنڈا برش" بھی سکتے ہیں جو جھاگ کم اور گالوں پر کانٹوں کی طرح چبھ زیادہ رہا تھا، برداشت کرنا پڑا اور کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔

داڑھی نرم کرکے اس نے بشکی سے اُسترا نکالا، نزاکت سے اپنی انگلی پر اُسکی دھار چیک کی، اور پھر shave بنانے کا آغاز کر دیا، پہلی ہی کوشش میں مجھے یوں لگا جیسے کوئی "کھنڈی چھری" سے میری گال کی چمڑی ادھیڑ رہا ھو، تکلیف کا احساس چہرے سے ظاہر ھوا تو وہ ساری سورت حال سمجھ گیا، اپنی مشق ستم چھوڑی اور بشکی میں سے ایک چمڑے کا تیل آلودہ ٹکڑا نکلا جسے عرفِ عام میں وہ لوگ چموٹا کہتے ھیں۔ ساتھ ھی جانگلی پنجابی جو کہ اوکاڑہ کے گرد و نواح بولی جاتی ہے میں بڑبڑایا " ھک تے ایہہ شہری چھور نازک بئوں ھندے نیں" اور پھر چموٹے پر کافی دیر تک استرا تیز کرنے کے بعد دوبارہ میری گال پر حملہ اور ہوا، اُسترا تیز کرتے وقت میری قسمت ماڑی کہ اس سے پوچھ بیٹھا کہ راجہ! کیا آپ کے پاس بلیڈ والا Razor نہیں ہے؟ گھور کر مجھے دیکھا چہرے اور ناگواری کے آثار پیدا ہوئے اور کہنے لگا " میں خاندانی نائی آں" استرے کی دھار میں تو کوئی تیزی نہیں آئی البتہ اب اُسکا ہاتھ اب کافی تیز ہوچکا تھا جیسے وہ اس کام کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتا ہو، تکلیف برداشت کی کہ اسکے ہاتھ میں اُسترا تھا اور میرا چہرہ اُسکی مکمل زد میں، اختتامی مراحل میں جب میرے "پچھے اور جگہ سے زخمی" ہوئے گالوں پر اس نے " اینٹی سیپٹک" کے طور پر پھٹکڑی کا استعمال کیا تو مجھے یوں لگا جیسے میرے زخموں پر دانستہ نمک چھڑک رہا ہے، صبر و شکر کے ساتھ سب کچھ برداشت کیا کہ اس کے علاوہ کچھ جر بھی نہیں سکتا تھا، جن چھٹی سو لاکھوں پائے۔

وہ دن اور آج کا دن میں دیہاتی ثقافت کے حیرت انگیز کردار (نائی) کے قابو نہیں چڑھا۔

غ۔م جوہان۔
March 15, 2020


🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🕋🇵🇰🇵🇰🇵🇰🕋🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇

ہفتہ، 20 جون، 2020

Ham Islam Aur Corona Virus

صدائے درویش

ہم، اسلام اور کرونا وائرس

میرے دوستو!

کرونا وائرس کے پس منظر میں مجھے ایک حدیث شریف کا مفہوم یاد آرہا ہے وہ میں آج آپ سب کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔

 " ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے پاس پریشانی کے عالم میں آیا اور عرض کی " یا رسول اللہ!
میں دور دراز سے آپکو ملنے آیا تھا، مگر میری اونٹنی ہم گئی ہے،  جہاں میں نے اسے چھوڑ تھا وہ اب وہاں نہیں ہے۔ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اونٹنی کا " گھٹنا باندھا تھا؟

جواب ملا " نہیں" صرف توکل کی تھی!

آپ نے فرمایا!

پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھو، پھر توکل اختیار کرو!

اسلام دین فطرت ہے، اس حدیث شریف میں ہمیں فطری تقضوں کا ہی درس ملتا ہے، آج کل خطرناک وباء  کرونا وائرس کی صورت میں پھیلی ہوئی ہے اور پوری دنیا اپنی جدید ترین تحقیق اور طبّی سہولیات کی دستیابی کے باوجود اس وباء کے سامنے بلکل بے بس نظر آ رہی ہے، اٹلی اس کی سب سے عمدہ مثال ہے۔

یہ اسٹیٹس لگانے کا میرا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم کو من حیث القوم اس سے بچاؤ اور روک تھام کیلئے ہمیں فوری طور پر کیا کرنا چاہئے، دوستو! اس میں سب سے پہلے ہمیں اونٹ کا گھٹنا باندھنا ہوگا، یعنی تمام حفاظتی تدبیر بھی اختیار کریں، پھر اللہ پر توکل اختیار کریں, پھر جو اللہ کی رضا اس پر سر خم تسلیم!

تقدیر و تدبیر کے معاملے میں ہم بے بس ضرور ہیں، لیکن!

قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے کہ " نے (اسکو) اتنا ہی دیا جس نے اکوشش کی، صفائی کو بھی نصف ایمان اسلام نے کہا ہے دنیا کے کسی اور مذہب میں جتنا صفائی پر زور اسلام دیتا ہے دنیا کے کسی بھی مذہب میں نہیں کہ صفائی کو "نصف ایمان" کا درجہ دیا گیا ہو۔

کرونا وائرس کا فی زمانہ کسی بھی طرح کا علاج ممکن نہیں نہ ہی کوئی ایسی ویکسین بنی ہے جس سے بنی نوع انسان کیلئے اس سے بچاؤ ممکن ہو، 

البتہ! 

حفاظتی تدابیر جیسا کہ مندرجہ بلا حدیث شریف مفہوم بھی ہے، اس پر ٪100 سختی کے ساتھ عمل کرکے ہم اس موذی مرض سے نہ صرف بچ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کیلئے بھی خطرہ ثابت نہیں ہو سکتے، یاد رکھیں! "صفائی نصف ایمان ہے" ہے اور یہی اس وقت اس موزی اور خطرناک وباء کا حل اور ممکنہ حد تک بچاؤ کا واحد راستہ بھی۔

اس موضوع پر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر حکومت اور ڈاکٹر صاحبان وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کر رہے ہیں، ہمارا اوّلیں فریضہ ہے کہ ہم اس پر عمل کرکے خود، اپنے پیاروں اور معاشرے کو اسکا شکار ہونے سے بچا سکیں۔

یہی تدبیر اور صفائی نصف ایمان کا مفہوم بھی ہے، ہم اور آپ من حیث القوم  پوری کوشش کریں پھر نتائج اللہ رب العزت پر چھوڑ دیں، میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی محنت کو کبھی بھی ضائع نہیں فرماتے۔

فی زمانہ چین اس بات کی بہت عمدہ مثال ہے جو انپی کوششوں سے اس موزی وائرس کو خبروں کے مطابق شکست دے چکا ہے۔

خدا کیلئے اپنی اور اپنے پیاروں اور مخلوق خدا کی حفاظت کیلئے جملہ احتیاطی  تدابیر " حقوق العباد" سمجھ کر اختیار کریں، ٹو ان شاء اللہ ہم مل جل کر اس موزی وباء پر دوست ملک چین کی طرح بہت جلد قابو پا لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

عرض آخر کہ استغفار کا ورد کریں توبہ کریں کہ من حیث القوم کوئی ایسی خرابی نہیں جو اس وقت ہم میں موجود نہ ہو، ہو سکتا ہے کہ یہ وباء سے کہیں زیادہ اللہ رب العزت عزت کی طرف سے بطور تنبیہ سزا کی ہی کوئی صورت نہ ہو۔

اللہ رب العزت ہمارے آقا و مولیٰ کے صدقے وسیلے اور طفیل ہم سب اور ساری بنی نوع انسان پر اپنا کرم فرمائیے۔

(آمین یا رب العالمین).

طالب دعا:-
جی۔ایم چوہان
March 22, 2020

جمعہ، 19 جون، 2020

پنجابی زبان کی ایک ضرب المثل اور ہم

 صدائے درویش

 اخے چیمے تے چٹھے کھان لیئ وکھرے وکھرے تے لڑن لیئ کٹھے

پنجابی زبان کی ایک ضرب المثل اور ہم

میرے دوستو!

کسی دور میں میں اپنی والدہ مرحومہ ( اللہ انکو جنت میں جگہ دے اور انکی روح کو سکون بخشے) کسی بات پر کہنے لگیں " اخےچیمےتےچٹھے  کھان لئ وکھرے وکھرے تے لڑن لئ کٹھے"۔ مجھے بہت کچھ سیکھنے اور آگے آپ سب سے شیئر کرنے کیلئے جنّت مکانی والدہ مرحومہ سے بھی ملا ہے، خصوصاً پنجابی ضرب المثل وغیرہ

اس پنجابی ضرب الامثال کا مطلب یہ ہے کہ
چیمے اور چٹھے کھانے پینے میں تو بظاھر الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن اگر کوئی باہر آکر ان پر حملہ اور ہو یا افتاد آن پڑے توباہم متحد ہو کر سب سے پہلے جارح کے دانت کٹھے کر دینے کیلئے ایک ہو جاتے ہیں۔

ایسے ہی سوچ میں گم تھا کہ ہم سب وطن عزیز کی بقاء اور سلامتی کیلئے سب کے سب ایک پیج پر جو جائیں تو بہتر ہے، اسی دوران مجھے امّی جی کی بات یاد آ گئی جو انہوں نے کسی زمانے میں کہی تھی۔

ملکی سطح پر ہم پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون، مہاجر، گلگاتی، کشمیری اور پتہ نہیں کیا کیا ہیں، سنّی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور نجانے مزید کیا کچھ۔ کوئ لیگی ھے، کوئ پٹواری، کوئی انصافی تو کوئی پیپلا وغیرہ، کوئی قوم پرست۔ کوئی ملا کوئی خطیب کوئی حافظ تو کوئی قاری وغیرہ اور کسی مزھبی گروپ کا پیروکار یا ممبر، کوئی رانا کوئی راجپوت، کوئی جاٹ یا بٹ وغیرہ اور کوئی سید، خان یا سماٹ۔

 میرے لئے یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ کوئی بھی اس ملک میں اپنی شناخت بحیثیت ایک پاکستانی کے کروانے کو تیار ہی نہیں، یہ 70سال سے زائد گزر جانے کے بوجود بھی ہمارا قومی المیہ ہے یا بدقسمتی کہ ہم اب ٹک ہماری اصل پہچان یعنی پاکستانیت کو ملک میں فروغ دے ہی نہیں سکے۔

موجودہ حالات ہم سب کے سامنے ہیں ان حالات میں متحد ہو جاتا ہی قومی وقار کی علامت ہے اور ملکی بقاء دوام کیلئے ھم سب کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا بہت ضروری ہے، ورنہ آثار ہیں کہ ہم صفحہء ھستی  سے ھمیشہ ھمیشہ کیلئے متا بھی دیئے جا سکتے ہیں، اس بات کے آثار اب جگہ جگہ نظر بھی آنا شروع ہوچکے ہیں ۔

حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف، ہم سب کو اب نہیں تو کبھی بھی نہیں کی کی نہیں کی بنیاد پر ملکی سالمیت اور بقاء کیلئے ایک ہو جانا ہی ہم سب کی بہتری کے لئے ہے۔ آئیں ہم سب پنجابی کی مندرجہ بالا کہاوت کی طرح سے سب اکٹھے ہو کر چیمےاورچھٹوں کی طرح ملک دشمن عناصر سے لڑنے کے لئے فی الحال ایک ہو جائیں، زندگی بخیر اگر بقاء کی جنگ لڑنے اور جیتنے میں کامیاب ہو گئے تو آپس کی لڑائیاں بھی لڑ ہی لیں گے۔

میں نے علامہ سر محمد اقبال رحمت اللہ علیہ کے ایک شعر کو localize کیا ھے، بندہء ناچیز موجودہ حالات کے تناسب اور تناظر میں جو کہنا چاہتا تھا کہہ چکا۔

آپ سب کی قیمتی آراء کا منتظر ہوں!

خیر اندیش :-
غلام محمد چوہان،
15.06.2020

دنیا کا واحد گناہ جہالت ھے

 حاصل مطالعہ

دنیا کا واحد گناہ جہالت ھے

ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام کے ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا.. "میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے.. آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں.."

شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے..

شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے.. عورت نے جواب دیا.. "کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں.."

شیوانا نے مسکرا کر کہا.. "مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تھوڑی ھے..؟ اِسے تو تم نے ھلاک کرنے کا ارداہ کیا ھے.. تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو.. یہ بُت احمق نہیں ھے.. وہ تمہاری عزیز ترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے.. تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے.."

عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا.. کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا..

دنیا میں صرف "آگاھی" کو فضیلت حاص بّل ھے اور واحد گناہ "جہالت" ھے.. جس دن ہم اپنے "کاھنوں" کو پہچان گئے ہمارے مسائل حل ھو جائیں گے !!

منقول

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں . Bigri Naslen Patang Ki Dour


 صدائے درویش/آہ درویش

پتنگ کی ڈور سے ایک قیمتی جان کا ضیاء

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں


لاہور کے پوش علاقے 10 کے سامنے موٹرسائیکل سوار نوجوان گلے پر کیمیکل ڈور پھرنے سے موقع پر ہی جاں بحق، 

"میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں"

نا معلوم قاتلو بگڑی نسل کے نمائندو!
 تم سب پر اللہ کی پکڑ ہو، لعنت ھو اور قہر نازل ہو۔
میسج کو آگے بڑھائیں، تاوقت کہ ان کے کسی سنگدل ممبر تک نا پہنچ جائے، کسی مظلوم ماں کی کوکھ اُجڑی ہے، ناحق خون ہوا ہے۔

یہ بد مست قاتل کسی کے خون سے بھی ھاتھ رنگ سکتے ھیں انکا اگلا شکار کوئی ہمارا پیارا بھی ہو سکتا ہے 😢

احقر العباد:-
جی۔ایم چوہان
June 14, 2020

جمعرات، 18 جون، 2020

کورونا وائرس وفاقی بجٹ منفی شرح نمواورہم

صدائے درویش

کورونا وائرس وفاقی بجٹ منفی شرح نمواورہم

قومی بجٹ کے پیش ہو جانے کے بعد ایک سلسلہ سا چل نکلا ہے کہ ملکی تاریخ میں منفی شرح نمو ہو جانے کا responsible کون ہے، حکومت کہتی ہے اس کا باعث کورونا کی تباہیاں ہیں اور حزب اختلاف سارا الزام اور ملبہ موجودہ حکومت کی نا اہلی اور بد انتظامی پر ڈال رھی ھے، جبکہ غربت اور افلاس کی ماری قوم گوں مگوں حالت میں کھڑی سوچ رہی ھے کہ "میں کس کے ھاتھ پر اپن لہُو تلاش کروں"

موجودہ حکومت کی اب تک کی معاشی پالیسیز پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بجٹ 2020-21 میں تو کورونا آگیا، سال 2019-20 کس کے سر الزام دیں گے؟ گزشتہ سال کا قومی بجٹ بھی کوئی انقلابی بجٹ نہیں تھا۔

ہم ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر آج خود صدق دل کیساتھ ایک نظر اپنے کرتوتوں پر نظر ڈالتے ہیں!

ہماری کثرت 02 نمبری بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ، جھوٹ، فریب، دغابازی عروج پر، ذخیرہ اندوزی، black marketing اور ملاوٹ میں ھم سر فہرست، رمضان شریف یا کسی تہوار کے موقع پر 02 والی چیز 10 میں بیچنے کے عادی، کاروبار میں کثرت بددیانت۔ ٹیکسز سے انگوٹھا، کرتا دھرتا ہر چیز میں سبسڈیز لینے کے عادی تو میرے دوستو یہ ملک کیسے ترقی کے راستے پر چلے گا۔ ہمارے بجٹ کے منفی میں چلے جانے کی وجہ کورونا وائرس نہیں، ہم خود ہیں، سب بڑا وائرس یا دیمک جو پوری تندہی کے ساتھ بغیر کسی آرام کے اس ملک کے قیام کے ساتھ ہی چاٹ رھا ھے اور مسلسل چاٹتا ھی چلا جا رہا ہے۔ 

میرے عزیزو!

میرا یقین کامل ہے کہ اس ملک میں موجود وائرس کہیں زیادہ خطرناک ھم خود ہیں، جاگیر دار، وڈیرہ شاہی، خان، سیاست دان، سیاسی کارندے، افسران، سرکاری کارندے، سرمایہ دار، مذہبی رہنما یا مذہب کی آڑ میں موجود لوگ،  المختصر پورا سسٹم ہی اس وطن کو کھانے اور بری طرح سے چاٹنے میں بشمول میرے مصروف ہیں، کورونا کا کوئی قصور نہیں۔

 مجھے اسکا اقرار کرنے میں ذرا سی بھی عار نہیں، میری نظر میں کورونا سے  سے خطرناک وائرس ہم خود ہیں اور سب سے بڑے دشمن بھی۔ دنیا بھر میں کسی ایک ملک کی مثال دے دیں جہاں وباء کے پھیلنے کے بعد اس سے محفوظ رہنے کیلئے درکار اشیاء مہنگے داموں بکی هوں؟
یا ناجائز منافع خوری کیلئے مارکیٹ سے غائب ہوئی ہوں۔

رمضان، عید، شبرات یا کسی بھی خوشی یا غمی کے موقع پر ہم گِدھ بن کر لوگوں کا گوشت نہیں نوچتے؟ کیا ہم 01 روپیہ والی چیز 10 بلکہ کبھار اس سے زیادہ مارجن پر نہیں بیچتے؟ کیا اس ملک میں آجر اپنے ورکرز کی حقتلفی نہیں کرتا؟ کیا یہاں انصاف نہیں بکتا؟ کیا محض روٹی کے ایک لقمے کیلئے یہاں عزتیں نہیں بکتیں؟ جو کہ رہا ہوں وہ کھرا سچ ہے اور انتہائی کڑوا بھی۔

ہم سے بڑا کونسا وائرس ہوگا جو ملک و قوم کو اس بری طرح سے چاٹ رہا ہو!
دنیا بھی سے کسی بھی ایک ملک کی مثال دے دیں جہاں ایسا کچھ ہوا یہ ہو، " انا للہ وانا الیہ راجعون"

قیام پاکستان سے لے کر اب تک اس وطن کے ہم خود مجرم ہیں، گریبان میں جھانکنے کے بجائے دوسروں پر تنقید کے عادی ہو چکے ہیں، دنیا بھر کی معیشت برباد ہوئی ہے، صرف پاکستان کی ہی نہیں، جس طرح سے اس دوران اگر ہمیں مختلف طریقوں سے لوٹا نہ گیا تو آج کوئی بھی فیکٹری ورکر کام سے جواب ملنے پر خودکشی نہ کرتا، کوئی بھی مزدور مزدوری کمائے بغیر خالی ہاتھ اور خالی پیٹ اپنے بھوک سے بلکتے بچوں میں خالی ھاتھ نہ لوٹتا، جو وررکرز کام کر رہے ھیں کورونا کا بہانا بنا کر انکی تنخواہوں میں سیٹھ اور حاجی صاحب و الحاج کٹوتی کرکے اس سے بھیڑ اُن سے گدھوں کی طرح کئی گنا زیادہ کام نہ لیتے، اجرت تھماتے وقت تیوڑیاں چڑھا کر اپنے ورکر کو یہ تاثر کبھی بھی نہ دیتے کہ ہم تمہارے کام سے Safisy نہیں ہیں! میرا ایمان ہے اگر جواب دہی کا خوف ہوتا تو کوئی بھی محنت کش خالی ہاتھ اور آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ گھر واپس نہیں لوٹنا تھا۔

اگر ہم تنقید کے بجائے، تقابلی جائزہ لینے کے بجائے خود احتسابی سیکھیں تو ہو سکتا ہے ان حالات سے نجات حاصل کرنے کے ممکنہ راستے نکل سکتے ہیں ورنہ کیکٹس کے اس خود ساختہ جال میں ہم مزید اُلجھتے چلے جائیں گے, نکلیں گے ہرگز نہیں، آئیں حکمرانوں کے بجائے ہم تبدیلی لانے کی کوشش کریں،  1980ء کی دہائی سے اب تک آنے والے حکمران اور انکے رفقاء کار تو اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست یا ریاست مدینہ بنا چکے۔

احقر العباد:-

غلام محمد چوہان
16.06.2020

سوشل میڈیا، فتنہ پوسٹس اور ہم

صدائے درویش

سوشل میڈیا، فتنہ پوسٹس اور ہم

کسی دور میں ایک حکایت پڑھی تھی، جی چاہا کہ آج آپ سب دوستوں سے شیئر کروں, حرف بحرف تو یاد نہیں، لیکن جیسی اور جتنی یاد ہے عصر حاضر کے تقاضوں کو دیکھ اتنی ہی بطور تبرک حاضر خدمت ہے، اُمید ہے تمام احباب موجودہ صورت حال کے تناظر میں ساری بات سمجھ جائیں گے۔

ایک بستی تھی، بستیوں جیسی بستی، جس میں ہر مکین امن و سکون اور بھائی چارے سے اپنی اپنی زندگی گزار رہا تھا۔

شیطان کو بھلا اُنکا بھائی چارہ کیوں ہضم ہونا تھا!

ایک دن شیطان اپنے اپنے چیلوں کے ساتھ آسمان پر محفل جمائے بیٹھا تھا کہ ایک شتونگڑے چیلے نے شیطان سے کہا " آقا! مجھ سے اس بستی کے مکینوں کی باہمی محبت اور بھائی چارہ دیکھا نہیں جاتا، خصوصاً دودھ فروش اور حلوائی کی دوستی ایک آنکھ نہیں بھائی جو ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ کے ساتھی اور ایک ہی برتن میں ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں۔
 کوئی تدبیر کریں کہ یہ پیار و محبت سے زندگی گزارنے والے آپس میں دست و گریباں ہو جائیں۔

استاد نے کچھ سوچا، پھر خبیث مسکراہٹ سجائے ہوئے بولا " ابھی لو سب کچھ کئے دیتے ہیں کہ دست و گریبان ہی نہیں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بھی بن جائیں گے، دیکھتے جاؤ میں اب کرتا کیا ہوں۔

بستی میں دیگر دکانوں کے ساتھ ساتھ ایک مٹھائی فروش اور دودھ فروش کی دکانیں بلکل ساتھ ساتھ تھیں، وہی دکانیں شیطان  مردود کا نشانہ تھیں۔ شیطان نے جلیبیوں سے بھرے تھال میں سے شیرے سے انگلی لتھیڑ کر حلوائی اور دودھ فروش کی مشترکہ دیوار پر لگا کر واپس  کوچ کر گیا۔

شاگردوں نے کہا آقا!
آپ نے کیا کیا؟
کوئی جلوہ نظر نہیں آیا، سب کے سب تو آرام سکوں سے اپنے اپنے دھندے میں مشغول ہیں، شیطان بولا تھوڑا سا صبر سے کام لو اور دیکھتے چلے جاؤ، میں اپنا کام کر چکا ہوں!

دوستو!

دیوار پر لگے شیرے پر مکھی آ بیٹھتی ہے، جسکو شکار کرنے کیلئے چھپکلی آگے بڑھنا شروع ہوتی ہے، چھپکلی کو دیکھ کر دودھ فروش کی بلی چھپکلی پر جھپٹنے کو تیار ہوتی ہے۔
بلّی نے چھپکلی پر چھلانگ لگائی تو وہ دودھ سے بھرے برتن میں تھی، دودھ فروش نے حلوائی سے کہا کہ تمہاری بلی کے گرنے سے میرا دودھ ضائع ہوا، جب کہ حلوائی کا مؤقت تھا کہ جاندار ہے، گرگیا میرا کیا قصور، کیوں نقصان بھروں؟

بات" تو تو میں میں" سے ہاتھا پائی تک پونچھی، پھر دودھ فروش نے اپنا کڑچھا اٹھایا تو دوسری طرف حلوائی نے بھی مٹھائی بنانے میں استعمال ہونے والا کوئی اوزار، گھمسان کا رن پڑا کہ الحفیظ و الامان، دودھ کے نقصان کو بھول کر دونوں دوست آپس میں لڑلڑ کر لہو لہان ھو گئے۔

دوستو!

اس دور رستخیز میں ہم پاکستانیوں  کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے، وطن عزیز يا ملک سے باہر کچھ شیطانی اذہان ہمارے ساتھ بھی کسی نہ کسی متنازعہ پوسٹ کو "شیرے" کی مانند اسپریڈ کر دیتے ہیں کہ ہم آپس میں دست و گریبان ہوتے رہتے ہیں۔

للّہ!

اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانئے، اس سے پہلے کہ وقت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے!

احقر العباد؛-

غلام محمد چوہان،
Jnauary 10. 2020ء


کوروناوائرس کی ممکنہ تباہ کاریاں اور بنی نوع انسان

🌜🇵🇰🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🇵🇰🌜🕋🌛🇵🇰🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇🇵🇰🌛

صدائے درویش

کوروناوائرس کی ممکنہ تباہ کاریاں اور بنی نوع انسان


کورونا وائرس کی وجہ سے صحت کے معاملات میں وطن عزیز کے حالات انتہائی خراب ہیں بلکہ روز بروز ناگفتنی ہوتے جا رہے ہیں، متاثرین کی تعداد  بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور اموات کی شرح بھی۔ اس بات میں اب کسی طرح کی بھی کسی بھی طرح کے شک و شبہ کی اب گنجائش بچتی کہ یہ خطرناک وائرس انسانی ہاتھوں سے بنایا گیا اور جس مقصد کیلئے بھی بنایا گیا ہے اس کو تو پورا کیلئے بغیر اسے بنانے والے دم نہیں لیں گے۔

اموات کورونا سے ہوں یا کسی بھی اور وجہ سے زیادہ تر کا محرّک مستقبل قریب میں کورونا وائرس ہی ثابت ہوگا، دنیا کا کوئی خوش قسمت ترین فرد ہی ہوگا جو اس سے بچ پائے اس سے بھی اب کسی بھی طرح اس خطرناک حقیقت سے انکار کرنا بھی ممکن نہیں،انتہائی خطرناک بات یہ کہ یہ وائرس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ساخت بھی تبدیل کر رہا ہے، جو ویکسین بنائی جا رہی ہے وہ کورونا کو دنیا سے ہمیشہ کے ختم کر دینے کیلئے نہیں بلکہ اس کے ممکنہ خطرات یا مختلف پیچیدگیوں سے بچنے یا اسکو کم از کم کر دینے کیلئے ہے، جیسے کہ ریکوری کے بعد انسان کے مختلف اعضاء کا ایک دم کام چھوڑ دینا وغیرہ وغیرہ۔

یہ وائرس بنی نوع انسان کا ہی دشمن ہے کسی اور جاندار کیلئے نہیں، اس سے ہی آپ سب اسکے بنا کر دنیا بھر میں پھیلا دینے سے بنانے والوں کے مذموم عزائم کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
انسان نے براہ راست خدا سے کم اور اسکے بناۓ ہوۓ سسٹم/فطرت کو چیلنج کیا ہے، دیکھیں کون جیتتا ہے، جیتے گا خدا ہی لیکن اسکی ربوبیت کے چیلنج کرنے والوں کو بہترین سابق سکھا کر کہ آئندہ نسل انسانی میں کسی کو ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ ہو، " HRAP technologi" بھی اسی سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے  وہ بھی بہت جلد اپنے منطقی انشاء اللہ اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔

دوستو میری اس بات کو اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیں کہ کورونا وائرس دیربا اثرات کا حامل ہے، اللہ ہم سب کو سب سے محفوظ رکھے، آئیے میں آپ اور ہم سب اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ یہ جیسے آیا ہے ویسے ہی دنیا بھر میں آئی ہوئی اب تک آئی ہوئی وباؤں کی طرح سے تل جائے۔

لیکن!

اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں کرنے یا اذانیں دینے سے یہ عفریت دنیا بھر کے انسانوں کی بلالعموم اور مسلمانوں کی بلا الخصوص جان نہیں چھوڑے گا کیوں کہ ہم مسلمان اپنی زندگی میں سائنس کی افادیت کو ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں، جو مانتے ہیں انکی کثرت مادّہ پرست ہو چکی کہ *کثرت مذہب سے بیزار ہیں* اور اپنے نظریات اور خیالات سے دنیا کو مزید اسلام سے دور کررہے ہیں، مذہب پرست اور لبرلز دونوں ہی انتہاء پسند ہیں، جبکہ معتدل خیالات کا حامل اور روایات پرست طبقہ آہستہ آہستہ ناپید ہوتا چلا جارہا ہے، جلد ہی معدوم بھی ہو جاتے گا۔

دوستو! 

اگر ہم اس وائرس کے نقصانات سے کسی حد تک جان چھڑانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں اب باقاعدہ سائنسی لیبارٹریز کا رخ کر ہوگا، سفر طویل اور تھکا دینے والا تو ہوگا مگر رزلٹ سامنے آئے گا۔ لیکن
موجودہ صورت حال کے تناظر میں مجھے یہ عمل مسقبل قریب تو کیا مستقبل بعید میں دور دور تک کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔

احتیاط بھی آخر کب تک؟

کڑوی بات کہہ رہا ہوں شدید مخلفت سامنے آوے گی، مجھے اس بات کا پورا احساس ہے، پورا احساس۔

احقر العباد:-
غ۔م چوہان۔
June 12, 2020


🌜🇵🇰🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🇵🇰🌜🕋🌛🇵🇰🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇🇵🇰🌛

بدھ، 17 جون، 2020

محبت کے چالیس اصول از شمس تبریزی

 حاصل مطالعہ

محبت کے چالیس اصول از شمس تبریزی


 ترک مصنفہ بنام Elif shafak کا ناول Forty Rules of Love  ہے۔۔جس میں مولانا روم اور شمس تبریزی کی ملاقات اور دونوں شخصیات پر اسکے اثرات کو عمدہ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ چالیس اصول دراصل شمس تبریزی کے اقوال ہیں     سارے کے سارے اصول ان دونوں ہستیوں کے باہمی مکالمے پر مشتمل نہیں ہیں۔۔۔ناول نگار نے اقوال کو ناول کے بعض دوسرے کرداروں کے ساتھ بھی شمس تبریز کی ہونے والی گفتگو میں پرویا ہے  (ترجمہ محمود احمد غزنوی  )
 
1- ہم خدا کے بارے میں جو گمان رکھتے ہیں، وہ دراصل ہماری اپنی شخصیت کے بارے میں ہمارے گمان کا ایک عکس ہوتا ہے۔اگر خدا کے ذکر سے ذہن میں محض الزام اور خوف ہی ابھرے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خوف اور الزام تراشی ہمارے اپنے سینے کی گھٹن میں پنپ رہی ہے۔ اور اگر خدا ہمیں محبت اور شفقت سے چھلکتا ہوا دکھائی دے، تو یقیناّ ہم بھی محبت اور شفقت سے چھلک رہے ہیں۔                 
 
2- سچائی کا راستہ دراصل دل کا راستہ ہے دماغ کا نہیں۔ اپنے دل کو اپنا اولین مرشد بناؤ، عقل کو نہیں۔ اپنے نفس کا سامنا اور مقابلہ کرنے کیلئے دل کی مدد لو کیونکہ تمہاری روح پر ہی خدا کی معرفت کا نزول ہوتا ہے۔عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں، بتکدہِ تصورات
 
 3- قرآن پڑھنے والا ہر شخص، قرآن کو اپنے فہم و ادراک کی گہرائی کے مطابق ہی سمجھ پاتا ہے۔ قرآن کی فہم کے چار درجات ہیں۔ پہلا درجہ ظاہری معانی ہیں اور زیادہ تر اکثریت اسی پر قناعت کئے ہوئے ہے۔ دوسرا درجہ باطنی معانی کا ہے۔ تیسرا درجہ ان باطنی معنوں کا بطن ہے۔ اور چوتھا درجہ اس قدر عمیق معنوں کا حامل ہے کہ زبان انکے بیان پر قادر نہیں ہوسکتی چنانچہ یہ ناقابلِ بیان ہیں۔ علماء و فقہاء جو شریعت کے احکامات پر غوروخوض کرتے رہتے ہیں، یہ پہلے درجے پر ہیں۔ دوسرا درجہ صوفیہ کا ہے، تیسرا درجہ اولیاء کا ہے۔ چوتھا درجہ صرف انبیاء مرسلین اور انکے ربانی وارثین کا ہے۔ پس تم کسی انسان کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور اس تعلق کی نوعیت کو اپنے قیاس سے جاننے کی فکر نہ کیا کرو۔ ہر شخص کا اپنا اپنا راستہ ہے اور اظہارِ بندگی کی ایک اپنی نوعیت ہے۔ خدا بھی ہمارے الفاظ و اعمال کو نہیں بلکہ ہمارے دلوں کو دیکھتا ہے۔ یہ مذہبی رسوم و رواج بذاتِ خود مقصود نہیں ہیں۔ اصل چیز تو دل کی پاکیزگی ہے۔
 
 4- تم کائنات کی ہر شئے اور ہرشخص میں خدا کی نشانیاں دیکھ سکتے ہو کیونکہ خدا صرف کسی مسجد، مندر یا کسی گرجے اور صومعے تک محدود نہیں ہے۔ لیکن اگر پھر بھی تمہاری تسلی نہ ہو تو خدا کو کسی عاشقِ صادق کے دل میں ڈھونڈھو۔
 
 5- عقل اور دل، دو مختلف چیزیں ہیں۔ عقل لوگوں کو کسی نہ کسی بندھن میں جکڑتی ہے اور کسی چیز کو داؤ پر نہیں لگاتی، لیکن دل ہر بندھن سے آزاد ہوکر اپنا آپ داؤ پر لگا دیتا ہے۔ عقل ہمیشہ محتاط اور پھونک پھونک کر قدم رکھتی ہے کہ دیکھو کسی کیفیت کا زیادہ اثر مت لینا۔ لیکن دل کہتا ہے کہ مت گھبراؤ، ہمت کرو اور ڈوب جاؤ کیفیت میں۔ عقل آسانی سے اپنا آپ فراموش نہیں کرتی جبکہ عشق تو بکھرجانے اور فنا ہوجانے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ اور خزانے بھی تو ویرانوں میں ملبے تلے ملتے ہیں۔ ایک شکستہ دل میں ہی تو خزانہ مدفون ہوتا ہے۔
 
 6- دنیا کے زیادہ تر مسائل الفاظ اور زبان کی کوتاہیوں اور غلط معانی اخذ کرنے سے جنم لیتے ہیں۔ چنانچہ کبھی بھی الفاظ کی ظاہری سطح تک خود کو محدود مت کرو۔ جب محبت اور عشق کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو الفاظ بیان اور زبان و اظہار اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ جو کسی لفظ سے بیان نہ ہوسکے، اسکو صرف خاموشی سے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
 
 7- تنہائی اور خلوت ، دو مختلف چیزیں ہیں۔ جب ہم تنہا اور اکیلے ہوتے ہیں تو اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجانا بہت آسان ہوجاتا ہے کہ ہم سیدھے رستے پر ہیں۔ لیکن خلوت یہی ہے کہ آدمی تنہا ہوتے ہوئے بھی تنہا نہ ہو۔ بہتر ہے کہ ہماری تنہائی کسی ایسے شخص کے دم قدم سے آباد ہو جو ہمارے لئے ایک بہترین آئینے کی حیثیت رکھتا ہو۔ یاد رکھو کہ صرف کسی دوسرے انسان کے دل میں ہی تم اپنا درست عکس دیکھ سکتے ہو اور اور تمہاری شخصیت میں خدا کے جس مخصوص جلوے کا ظہور ہورہا ہے، وہ صرف کسی دوسرے انسان کے آئینہِ قلب میں تمہیں دکھائی دے گا۔
 
8- زندگی میں کچھ بھی ہوجائے، زندگی کتنی ہی دشوار کیوں نہ لگنے لگے، مایوس کبھی مت ہونا۔ یقین رکھو کہ جب ہر دروازہ بند ہوجائے تب بھی خداوندِ کریم اپنے بندے کیلئے کوئی نہ کوئی نئی راہ ضرور کھول دیتا ہے۔ ہر حال میں شُکر کرو۔ جب سب کچھ اچھا جارہا ہو، اس وقت شکر کرنا بہت آسان ہے لیکن ایک صوفی نہ صرف ان باتوں پر شکر گذار ہوتا ہے جن میں اسکے ساتھ عطا اور بخشش کا معاملہ گذرے، بلکہ ان تمام باتوں پر بھی شکر ادا کرتا ہے جن سے اسے محروم رکھا گیا۔ عطا ہو یا منع، ہر حال میں شُکر۔
 
 9- صبر اس بات کانام نہیں ہے کہ انسان عضوِ معطل ہوکر بے بسی کے ہاتھوں برداشت کے عمل سے گذرتا رہے۔ بلکہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان اتنا دور اندیش اور وسیع نگاہ کا حامل ہو کہ معاملات کے انجام پر نظر رکھتے ہوئے رب پر بھروسہ رکھے۔ صبر کیا ہے؟ صبر یہ ہے کہ جب تم کانٹے کو دیکھو تو تمہیں پھول بھی دکھائی دے۔ جب رات کے گُھپ اندھیرے پر نظر پڑے تو اس میں صبحِ صادق کا اجالا بھی دکھائی دے۔ بے صبری یہ ہے کہ انسان اتنا کوتاہ بین اور کم نظر ہو کہ معاملے کے انجام پر نظر ڈالنے سے قاصر رہ جائے۔ عاشقانِ الٰہی صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پہلی کے باریک چاند کو ماہِ کامل میں تبدیل ہونے کیلئے کچھ وقت ضرور گذارنا پڑتا ہے۔ 
 
10- مشرق، مغرب، شمال ، جنوب۔۔۔ان سب سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ تمہارے سفر کی سمت کوئی بھی ہو، بس یہ دھیان ضرور رہے کہ ہر سفر، ذات کا داخلی سفر ضرور بنے۔ اگر تم اپنی ذات کے اندرون میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک کا باطنی سفر کرو تو تمہارے ساتھ یہ پوری کائنات اور جو کچھ اس سے ماوراء ہے، وہ بھی شریکِ سفر ہوجاتے ہیں۔ 
 
11- جس طرح ایک ماں کو بچے کی پیدائش کیلئے درد و کرب کے مرحلے سے گذرنا پڑتا ہے، اسی طرح ایک نئی شخصیت کو جنم دینے کیلئے تکالیف سے ضرور اٹھانی پڑتی ہیں۔ جس طرح ایک دن کو اپنی روشنی پوری شدت کے ساتھ بکھیرنے کیلئے، شدیدگرمی اور حدت برداشت کرنی پڑتی ہے، اسی طرح محبت بھی دکھ اور درد کے بغیر تکمیل کو نہیں پہنچ سکتی۔ 
 
12- محبت کی تلاش ہمیں تبدیل کرکے رکھ دیتی ہے۔ راہِ عشق میں ایسا کوئی مسافر نہیں گذرا جسے اس راہ نے کچھ نہ کچھ پختگی نہ عطا کی ہو۔ جس لمحے تم محبت کی تلاش کا سفر شروع کرتے ہو، تمہارا ظاہر اور باطن تبدیلی کے عمل سے گذرنا شروع ہوجاتا ہے۔
 
 13- آسمان پر شائد اتنے ستارے نہ ہوں جتنے دنیا میں جھوٹے اور ناقص شیوخ پائے جاتے ہیں۔ تم کبھی بھی کسی سچے مرشد کو کسی ایسے مرشد سے مت ملانا جو نفس کا پجاری ہو اور اپنی ذات کا اسیر ہو۔ ایک سچا مرشد کبھی بھی تمہیں اپنی ذات کا اسیر بنانے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنے نفس کیلئے تم سے تابعداری اور تعریف و تو صیف کا تقاضا کرے گا۔ بلکہ اسکے برعکس وہ تمہیں تمہاری اصل اور حقیقی شخصیت سے متارف کروائے گا۔ سچے اور کامل مرشد تو کسی شیشے کی مانند شفا ف ہوتے ہیں تاکہ خدا کا نور ان میں سے کامل طور پر چِھن کر تم تک پہنچ سکے۔
 
 14- زندگی میں جو بھی تبدیلی تمہارے راستے میں آئے، اسکے استقبال کیلئے تیار رہو، اسکی مزاحمت مت کرو بلکہ زندگی کو اس بات کا موقع دو کہ تم میں سے گذر کر اپنا راستہ بناسکے۔ اس بات کی فکر مت کرو کہ زندگی میں نشیب و فراز آرہے ہیں۔ تمہیں کیا پتہ کہ آنے والی تبدیلی تمہارے حق میں بہتر ہے یا موجودہ حالت؟
 
 
15- ہر انسان ایک تشنہءِ تکمیل فن پارہ ہے۔جسکی تکمیل کیلئے خدا ہر انسان کے ساتھ داخلی اور خارجی طور پر مصروفِ کار ہے ۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ خدا ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ انفرادی سطح پر معاملہ کرتا ہے کیونکہ انسانیت ایک بیحد لطیف اور نفیس مصوری کا شہکار ہے جس پر ثبت کیا جانے والا ہر ایک نقطہ پوری تصویر کیلئے یکساں اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
 
16- ایک بلند و برتر ذات اور ہر طرح کے نقص سے پاک خدا سے محبت کرنا بظاہر تو آسان سی بات معلوم ہوتی ہے۔، لیکن اس سے کہیں زیادہ مشکل بات یہ ہے کہ انسان اپنے ابنائے جنس سے محبت کرے جن میں ہر طرح کی کمزوریاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں۔ یاد رکھو کہ انسان اسی کو جان سکتا ہے جس سے وہ محبت کرنے پر قادر ہو۔ محبت کے بغیر کوئی معرفت معرفت نہیں ہوتی۔ جب تک ہم اللہ کی تخلیق سے محبت کرنا نہیں سیکھتے، تب تک ہم اس قابل نہیں ہوسکتے کہ اللہ سے حقیقی طور پر محبت کرسکیں اور اسکو جان پائیں۔
 
 17- اصل ناپاکی تو اندر کی ناپاکی ہے۔ باقی سب تو آسانی سے دُھل جاتا ہے۔ گرد و غبار کی بس ایک ہی قسم ہے جو پاکیزہ پانی سے صاف نہیں ہوپاتی، اور وہ ہے نفرت اور تعصب کے دھبے، جو روح کو آلودہ کردیتے ہیں۔ تم ترکِ دنیا سے اور روزے رکھنے سے اپنے بدن کا تزکیہ تو حاصل کرسکتے ہو، لیکن قلب کا تزکیہ صرف محبت سے ہی ہوگا۔
 
 
18- پوری کی پوری کائنات ایک انسان کے اندر موجود ہے۔ تم اور تمہارے ارد گرد جو کچھ تمہیں دکھائی دیتا ہے، تمام چیزیں خواہ تمہیں پسند ہوں یا ناپسن، تمام لوگ خواہ تم ان کیلئےرغبت رمحسوس کرتے ہو یا کراہت، یہ سب کے سب تمہارے اپنے اندر کسی نہ کسی درجے میں ملیں گے۔ چنانچہ، شیطان کو باہر مت دیکھو، بلکہ اپنے اندر تلاش کرو۔ شیطان کو ئی ایسی غیر معمولی قوت نہیں جو تم پر باہر سے حملہ آور ہوتی ہے ، بلکہ تمہارے اندر سے ابھرنے والی ایک معمولی سی آواز کا نام ہے۔ اگر تم پوری محنت اور دیانت سے کبھی اپنی ذات کے روشن اور تاریک گوشوں کو دیکھنے کے قابل ہوجاؤ تو تم پر ایک عظیم اور برتر شعور کا دریچہ کھلے گا۔ جب کوئی شخص اپنے آپ کو جان لیتا ہے تو وہ اپنے رب کو بھی جان لیتا ہے۔
 
19- اگر تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ اپنے برتاؤ کو اور رویے کو تبدیل کردیں، تو اسکے لئے پہلے تمہیں اس رویے کو تبدیل کرنا ہوگا جو تم اپنے آپ کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہو۔ جب تک تم اپنے آپ سے پورے خلوص سے اور پوری طرح محبت کرنا نہیں سیکھتے، بہت مشکل ہے کہ تمہیں محبت نصیب ہو۔ اورجب یہ مرتبہ حاصل ہوجائے تو پھر ہر اُس کانٹے کیلئے بھی شکر گذار رہو جو تمہارے راستے میں پھینکا جائے۔ کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ تم پر عنقریب پھول بھی نچھاور ہونگے۔ 
 
20- اس بات پر پریشان مت ہو کہ راستہ کہاں لیکر جائے گا، بلکہ اپنی توجہ اپنے پہلے قدم پر رکھو۔ یہی تمہاری زمہ داری ہے اور یہی سب سےمشکل کام ہے۔ جب پہلا قدم اٹھالیا، تو پھر اسکے بعد ہر شئے کو اپنے قدرتی انداز میں کام کرنے دو اور تم دیکھو گے کہ راستہ خودبخود کھلتا جائے گا۔ بہاؤ کے ساتھ مت بہو، بلکہ خود ایک لہر بن جاؤ جسکا اپنا ایک بہاؤ ہوتا ہے۔
 
21- اُس نے ہم سب کواپنی صورت پر پیدا کیا ہے لیکن اسکے باوجود ہم سب ایک دوسرے سے مختلف اور یکتا و ممتاز ہیں۔ کوئی بھی دو انسان ایک جیسے نہیں۔ کوئی بھی دو دل یکساں طور پر نہیں دھڑکتے۔ اگر وہ چاہتا تو کہ سب لوگ ایک جیسے ہوجائیں، تو وہ انکو ایک جیسا ہی بناتا۔ چنانچہ اب ان اختلافات کی توہین و تنقیص کرنا اور اپنے افکار کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرنا دراصل پروردگارِ عالم کی قضا و قدر اور بلند پایہ حکمت کی توہین کے مترادف ہے۔
 
22- جب اسکا سچا چاہنے والا کبھی میکدے میں جا پہنچے، تو وہ میکدہ اسکے لئے محراب و مصلے کی صورت اختیار کرلیتا ہے، لیکن اگر کوئی بہکا ہوا مئے خوار مسجد میں بھی چلا جائے تو وہ اسکے لئے میخانہ بن جاتی ہے۔ جو کچھ بھی ہم کرتے ہیں اس میں اصل کردار تو ہمارے دل کا ہے، ہمارے اندر کا ہے ، ظاہر کا نہیں۔ صوفی لوگوں کو انکے حلئے اور انکی وضع قطع سے نہیں جانچتے۔ جب ایک صوفی کسی پر اپنی نگاہ جماتا ہے تو وہ دراصل اپنی دونوں آنکھوں کو بند کرچکا ہوتا ہے اور ایک تیسری آنکھ سے(جو اسکے قلب میں ہے) اس منظر کے اندر کا جائزہ لے رہا ہوتا ہے۔
 
23- زندگی تو ایک ادھار کی مانند ناپائیدار ہے اور اصل حقیقت کا ایک دھندلا سا خاکہ اور نقل۔ صرف بچے ہی اصل حقیقت کی بجائے کھلونوں سے بہلتے ہیں۔ لیکن اسکے باوجود، لوگ کھلونوں پر فریفتہ ہوتے ہیں یا بے قدری سے انہیں توڑ ڈالتے ہیں۔ اس زندگی میں ہر قسم کی انتہاؤں سے دور رہو، کیونکہ انتہاپسندی تمہارے اندرونی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ صوفی اپنے رویوں میں انتہا پسند نہیں ہوتے بلکہ متوازن اور نرم ہوتے ہیں۔
 
24- پروردگار کی سلطنت میں انسان کو بہت خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ اللہ نے کہا ، " اور میں نے اسکے اندر اپنی روح میں سے پھونک دیا"۔ ہم میں سے ہر ایک کو اس قابلیت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اسکا خلیفہ بن سکے۔ اپنے آپ سے پوچھو کہ کیا تمہارے اعمال اسکے خلیفہ جیسے ہیں؟ یاد رکھو کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اس رحمانی روح کو (جو ہم میں پھونکی گئی ہے) کو اپنے اندر دریافت کریں ، پہچانیں اور اسکے ساتھ جئیں۔
 
25- جنت اور دوزخ کے بارے میں فکرمند رہنا چھوڑدو کیونکہ جنت اور دوزخ یہیں ہیں اسی لمحہءِ موجود میں۔ جب بھی ہم محبت محسوس کرتے ہیں، جنت کا ایک زینہ طے کرتے ہیں اور جب بھی نفرت ، حسد اور جھگرے میں پڑتے ہیں، دوزخ کی لپٹوں کی زد میں ہوتے ہیں۔ کیا اس سے بھی بد تر کوئی دوزخ ہوسکتا ہے جب کوئی شخص اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ احساس پائے کہ اس سے کوئی بیحد غلط اور برا کام سرزد ہوگیا ہے۔ اس شخص سے پوچھ کردیکھو وہ تمہیں بتائے گا کہ دوزخ کسے کہتے ہیں۔ اور کیا اس سے بڑی بھی کوئی جنت ہوسکتی ہے جب کسی شخص پر خاص لمحات میں وہ سکینت نازل ہوتی ہے جب اس پر کائنات کے دریچے کشادہ ہوتے ہیں اور انسان اپنے رب کے ساتھ قرب کی حالت میں ابدیت کے اسرار سے ہمکنار ہوتا ہے؟ پوچھو اس شخص سے، وہ تمہیں بتائے گا کہ جنت کیا ہوتی ہے۔
 
26-کائنات ایک وجودِ واحد ہے۔ یہاں ہر کوئی اپنے اپنے واقعات کے غیر مرئی دھاگوں سے ایک دوسرے کے ساتھ لپٹا ہوا ہے۔ ہم سب جانے انجانے میں ایک خاموش مکالمے کا حصہ ہیں۔ کسی کو دکھ نہ دو، نرمی اور شفقت کا برتاؤ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھ اسکی برائی مت کرو خواہ ایک بے ضرر سا جملہ ہی کیوں نہ ہو۔ الفاظ جو ایک بار ہماری زبانوں سے نکل آتے ہیں، وہ کبھی فنا نہیں ہوتے بلکہ ایک لامحدود وسعت میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوجاتے ہیں اور اپنے مقرر وقت میں واپس ہم تک آن پہنچتے ہیں۔ بالآخر،کسی بھی آدمی کی تکلیف، ہم سب کو ایک اجتماعی دکھ میں مبتلا کرجائے گی اورکسی بھی آدمی کی خوشی ہم سب کے ہونٹوں پر مسکان کا باعث بنے گی۔
 
27- یہ دنیا اس برفانی پہاڑ کی طرح ہے جہان بلند کی گئی ہر آواز، پہاڑوں سے ٹکرا کر بازگشت کی صورت میں واپس ہم تم پہنچتی ہے۔ جب بھی تم کوئی اچھی یا بری بات کرو گے، تم تک واپس ضرور پلٹ کر آئے گی۔ چنانچہ اب اگر تم کسی ایسے شخص کیلئے برے کلمات منہ سے نکالو، جو ہر وقت تمہارا برا سوچتا رہتا ہے، تو یہ اس معاملے کو اور بھی گھمبیر بنادے گا اور تم منفی قوتوں کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں گھومتے رہو گے۔ بجائے اسکے کہ تم اسکے لئے کچھ برا کہو، چالیس دن تک اسکے لئے اچھا سوچو اور اچھی بات منہ سے نکالو، تم دیکھنا کہ چالیس دن بعد ہر شئے مختلف محسوس ہوگی، کیونکہ تم پہلے جیسے نہیں رہے اور اندر سے تبدیل ہوگئے۔
 
28- ماضی ایک تعبیر ہے ایک نقطہ نظر ہے، جبکہ مستقبل مایا (Illusion) ہے ، ایک سراب ہے۔ دنیا ایک خطِ مستقیم کی شکل مین وقت کے دھارے میں سے نہیں گذرتی جو ماضی سے مستقبل کی طرف جا رہا ہو، بلکہ وقت ہمارے اندر سے بتدریج پھیلتے ہوئی لامتناہی قوسوں (Spirals) کی صورت میں گذرتا ہے۔ ابدیت لامحدود وقت کو نہیں بلکہ وقت سے ماورا ہونے کا نام ہے۔ اگر تم ابدی روشنی کے حامل ہونا چاہتے ہو تو ماضی اور مستقبل کو اپنے ذہن سے نکال دو اور فقط لمحہءِ موجود میں باقی رہو۔ یہ لمحہءِ موجود ہی سب کچھ تھا اور سب کچھ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
 
 
29- تقدیر کا یہ مطلب نہیں کہ تمہاری زندگی کو مکمل طور پر باندھ کر رکھ دیا گیا ہے۔ ہر بات کو مقدر پر چھوڑ دینا اور کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوئی کوشش نہ کرنا ،محض جہالت کی علامت ہے۔ کائناتی موسیقی ہر طرف سے پھوٹ رہی ہے اور اسکے چالیس مختلف درجات ہیں۔ تمہارا مقدر وہ درجہ ہے جس پر تم اپنا ساز بجا رہے ہو۔ ہوسکتا ہے کہ تمہارا ساز تبدیل نہ کیا جاسکے، لیکن اس ساز سے جو نغمہ اور جو دُھن تم نکالتے ہو اسکا انحصار صرف اور صرف تم پر ہے۔
 
 
30- سچا صوفی ایسا فرد ہے کہ اگر اس پر کوئی ناحق تہمت لگائی جائے، اور ہر سمت سے اس پر ملامت کی بوچھاڑ ہو، تب بھی وہ صبر کے ساتھ یہ سب جھیلتا ہے اور تنقید کرنے والوں کے خلاف ایک لفظ منہ سے نہیں نکالتا۔ وہ الزام کے جواب میں الزام نہیں لگاتا۔ اورکوئی اسکا مخالف اور دشمن حتیٰ کہ "غیر" ہو بھی کیسےسکتا ہے جب اس کے نزدیک کسی غیر کا کوئی وجود ہی نہیں۔ وہ تو خود اپنے نفس سے معدوم ہے، چنانچہ وہ کسطرح کسی کو اپنا دشمن یا مخالف سمجھے جب وہاں صرف اور صرف ایک ہی واحد ذات کی جلوہ نمائی ہے؟
 
 
31- اگر تم اپنا ایمان مضبوط کرنا چاہتے ہو تو اسکے لئے تمہیں اپنے اندر کی سختی دور کرنا ہوگی۔ چٹان کی طرح مضبوط ایمان کیلئے کسی پرندے کے پروں سے بھی زیادہ نرم دل درکار ہے۔ زندگی میں بیماریاں، حادثات ، نقصان ، تمناؤں کا ٹوٹنا اور اس قسم کے کئی دیگر معاملات ہمارے ساتھ اسی لئے پیش آتے ہیں تاکہ ہمیں رقتِ قلب عطا کریں، ہمیں خودغرضیوں سے نکالیں، نکتہ چینی کے رویے تبدیل کریں اور ہمیں کشادہ دلی سکھائیں۔ کچھ لوگ تو سبق سیکھ کر نرم ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ پہلے سے بھی زیادہ سخت مزاج اور تلخ ہو جاتے ہیں۔ حق تعالیٰ کے قریب ہونے کیلئے ضروری ہے کہ ہمارے قلوب اتنے کشادہ ہوں کہ تمام انسانیت اس میں سما سکے اور اسکے بعد بھی ان میں مزید محبت کی گنجائش باقی رہے۔
 
 
32- کوئی امام، کوئی پادری، کوئی ربی اور اخلاقی و مذہبی قائدین میں سے کوئی بھی تمہارے اور تمہارے رب کے بیچ حائل نہیں ہونا چاہئیے۔ حتیٰ کہ تمہارا ایمان اور تمہارا روحانی مرشد بھی نہیں ۔ اپنے اقدار اور اصولوں پر ضرور یقین رکھو، لیکن انکو دوسروں پر مسلط مت کرو۔اگر تم لوگوں کے دلوں کو توڑتے رہتے ہو، تو کوئی بھی مذہبی فریضہ انجام دینا تمہارے لئے سود مند نہیں ۔ ہر قسم کی بت پرستی سے دور رہو کیونکہ یہ تمہاری روحانی بینائی کو دھندلا دے گی۔ صرف اپنے رب کو اپنا مرشدِ حقیقی سمجھو۔ علم اورمعرفت ضرور حاصل کرو، لیکن ان علوم و معارف کو اپنی زندگی کا مقصد مت بناؤ۔
 
 
33- اس دنیا میں جہاں ہر کوئی کسی نہ کسی مقام پر پہنچنے اور کچھ نہ کچھ بننے کی جدو جہد کرتا ہے، حالانکہ یہ سب کچھ ایک دن اسے یہیں چھوڑنا پڑجاتا ہے، ایسے میں تم صرف اور صرف نایافت اور نیستی کو اپنا مقصد قرار دو۔ زندگی میں اتنے سبک بن جاؤ جتنا کہ صفر کا ہندسہ ہوتا ہے۔ ہم ایک برتن کی طرح ہیں۔ برتن پر خواہ کتنے ہی نقش و نگار کیوں نہ ہوں، لیکن اسکا کارآمد ہونا صرف اس خلا کی وجہ سے ہے جو اسکے اندر ہے، یہ خلا ہی اسے برتن بناتا ہے اور یہی نایافت اور خلا ہمیں بھی درست رکھتے ہیں۔ کسی مقصد کا حصول ہمیں متحرک نہیں رکھتا ، بلکہ یہی خالی پن کا شعور ہے جو ہمیں رواں دواں رکھتا ہے۔
 
 
34- سرِ تسلیم خم کرنے اور راضی برضا رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بے عمل ہوکر عضوِ معطل ہوجائیں اور نہ ہی یہ جبریت (Fatalism) یا تعطیل (Capitulation)ہے۔ بلکہ یہ تو اسکے بالکل برعکس ہے۔ اصل قوت تسلیم و رضا میں ہے، ایسی قوت جو ہمارے اندر سے پھوٹتی ہے۔ وہ لوگ جو زندگی کی الوہی(Divine) حقیقت کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیتے ہیں، و ہ ایسے دائمی سکون اور سکینت میں رہتے ہیں کہ اگر سارا جہان موج در موج فتنوں میں مبتلا ہوجائے تب بھی اس سکون میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔
 
 
35- اس دنیا میں جہاں ہم رہ رہے ہیں، یکسانیت اور ہمواریت ہمیں آگے لیکر نہیں جاتی، بلکہ مخالفت اور تضاد آگے لیکر جاتا ہے۔ اور دنیامین جتنے بھی متضاد امور ہیں، وہ سب ہم میں سے ہر ایک کے اندر بھی پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ ایک مومن کیلئے ضروری ہے کہ اپنے اندر کے کافر سے ضرور ملے۔ اور ایک کافر کو بھی اپنے اندر کے خاموش مومن کو دریافت کرنا چاہئیے۔ ایمان ایک تدریجی سفر ہے جسکے لئے اسکے مخالف یعنی بے یقینی کا ہونا لازم ہے تاوقتیکہ انسان، انسانِ کامل کے مقام تک جاپہنچے۔
 
 
36- دنیا عمل اور اسکے ردعمل کے اصول پر قائم ہے۔ نیکی کا ایک قطرہ یا برائی کا ایک ذرہ بھی اپنا ردعمل یا نتیجہ پیدا کئے بغیر نہیں رہتے۔ لوگوں کی سازشوں، دھوکہ دہیوں اور چالبازیوں کا خوف مت کھاؤ ۔ اگر کوئی تمہارے لئے جال تیار کر رہا ہے تو یاد رکھو کہ اللہ بھی خیر الماکرین ہے اور سب سےاچھامنصوبہ ساز ہے۔ ایک پتا بھی اسکے علم اور اجازت کے بغیر نہیں ہلتا۔ بس اللہ پر سادگی کے ساتھ اور پوری طرح یقین رکھو۔ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے، بہت خوبصورت طریقے سے کرتا ہے۔
 
 
37- خدا بہت باریک بین اور بڑا ہی کاریگر گھڑی ساز ہے۔ اتنا درست کہ زمین پر ہر چیز اپنے مقررہ وقت پر وقوع پذیر ہوتی ہے۔، نہ ایک لمحہ وقت سے پہلے اور نہ ایک لمحہ تاخیر سے۔ اور یہ عظیم گھڑی، بغیر کسی استثناء کے، سبھی کیلئے بالکل ٹھیک اور درست طور پر کام کرتی ہے۔ ہر ایک کیلئے محبت اور موت کا ایک لمحہ مقرر ہے۔
 
 
38- کوئی حرج نہیں اگر زندگی کے کسی بھی مرحلے میں ہم اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں کہ" کیا میں اپنا طرزِ زندگی اور اپنی روش بدلنے کیلئے تیار ہوں؟ کیا میں اپنا آپ بدلنے کیلئے تیار ہوں؟"۔ اگر دنیا میں ہماری زندگی کا ایک دن بھی گزرے ہوئے دن کے مساوی گذرے تو بڑی حسرت کا مقام ہے۔ ہر لمحہ ، ہر آن ، اورہر سانس کے ساتھ ہمیں اپنی تجدید کرتے رہنا چاہئیے،نیاجنم لیتے رہنا چاہئیے۔ اور نیا جنم لینے کیلئے ایک ہی طریقہ ہے۔۔۔موت سے پہلے مرجانا۔
 
 
39- جزو تبدیل ہوتا رہتا ہے، لیکن اسکا کُل ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے۔ دنیا سے جب بھی کوئی چور ڈاکو رخصت ہوتا ہے، اسکی جگہ لینے کیلئے ایک نیا شخص پیدا کردیا جاتا ہے۔ اور ہر صالح اور ولی کے رخصت ہونے پر کوئی دوسرا صالح اور ولی اسکی جگہ سنبھال لیتا ہے۔ اس طریقے سے بیک وقت ہر شئے تبدیل ہوتی جاتی ہے لیکن مجموعی حقیقت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
 
 
40- محبت کے بغیر زندگی بے معنی ہے۔ مت سوچو کہ مجھے کس قسم کی محبت کی تلاش ہے؟ روحانی یا جسمانی، ملکوتی یا ناسوتی، مشرقی یا مغربی۔۔۔ محبت کی یہ تقسیم مزید تقسیم پیدا کرتی ہے۔ محبت کا کوئی عنوان نہیں ہوتا ، نہ ہی کوئی مخصوص تعریف (Definition) ۔ یہ تو ایک سادہ، اور خالص چیز ہے بس۔ محبت آبِ حیات بھی ہے، اور آتش کی روح بھی ہے۔ جب آتش آب سے محبت کرتی ہے، تو کائنات ایک مختلف روپ اور نئےانداز میں ظہور پذیر ہوجاتی ہے۔

برادر محترم  محمود غزنوی سے۔


Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...