صدائے درویش
اتحاد بین المسلمین اور شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
جب فسادی مسلمانوں نے خلیفہ سوئم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کے گھر کا محاصرہ کیا، خوراک اور پانی کی رسد بند کی پھر جب فسادی گھر کے پچھواڑے سے گھر میں داخل ہو کر آپکو شہید کرنے لگتے ہیں تو آپ نے فسادیوں کو مخاطب کر کے ایک تاریخی جملہ فرمایا تھا جس کا مفہوم ہے۔
" مسلمانوں اگر تم نے مجھے اگر قتل کردیا تو یاد رکھنا تم قیامت تک ایک مصلّے پر نماز نہیں پڑھ سکو گے"
مفسدین جب آپکو شہید کرنے کے ادارے سے آگے بڑھے تو "نور الزنّور" کلام الٰہی کی تلاوت فرما رہے تھے، آپ سرکار پر جب قاتل تلوار کا وار کرتا ہے تو (آپکی زوجہ محترمہ) بیبی نائلہ ( سلام علیہا) آپکو بچانے کیلئے آگے بڑھتی ہیں، جس وجہ سے آپکی دو اُنگلیاں شہید ہو جاتی ہیں، آپکو حالت تلاوت میں شہید کیا گیا۔
جو کلامِ الٰہی کی تلاوت کرتے ہوئے آپ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے وہ نُسخہ آج بھی " توپ کاپی" عجائب گھر استنبول میں محفوظ ہے۔
اگر صحابئ رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہو کا فرمان سچ ثابت ںو سکتا ںے تو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) کا کیوں نہیں؟
آپ نے خطباء "حجتہ الوداع" میں صاف صاف ارشاد فرمایا تھا جسکا مفہوم یوں ہے "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور فرقوں میں مت بٹنا، مزید فرمایا کہ کہ میں تمہارے درمیان کتاب اللہ اور اپنی آل چھوڑ کر جارہا ہوں کہ انکو مت چھوڑنا کہ اُنکے علاوہ تم کو قرآن حکیم کو کوئی بھی صحیح طرح سے نہیں سمجھا سکے گا۔
کیا ہم نے اپنے آقا و مولیٰ کے اس فرمان ذی شان کی پیروی کی؟
آج ہم شیعہ، سنی، وہابی، دیوبندی، صوفی اور پتہ نہیں اور کیا کیا کچھ ہیں، صد افسوس کہ مومن و مسلمان خال خال ہی ہیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
کیا ہم آج کے حالات کے پیش نظر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) کے فرمان ذی شان کی صدق دل سے پیروی کا اعادہ نہیں کر سکتے؟
کونسی مجبوی آڑے آ رہی ہے؟
طالبِ دعا:-
جی۔ایم چوہان۔
January 09, 2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں