صدائے درویش
دو قومی نظریہ، اکھنڈ بھارت اور پاکستان۔
دنیا میں اس وقت قومیت کی تشکیل کے دو تصوّر ہیں، پہلا نظریہ اسلام اور دوسرا مغرب زدہ قومی نظریہ۔
اسلام میں قومیت کا تصّور مذہب سے ہے، جب کہ مغرب میں، نسل، زبان اور ثقافت سے۔
اسلام رنگ و نسل کو رد کرتا ہے، اسلام میں کلمہ طیبہ قومیت کی تشکیل کی بنیاد ہے۔
مضمون کی طوالت کی توہ سے یہاں مزید لکھنا مناسب نہیں سمجھتا!
مضمون لکھنے کی اصل وجہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان کا قیام ہے، جس کی 07 دہائیاں گزر جانے کے باوجود بھی ایک مکتبہ فکر بہت کرو فر کے ساتھ مسلسل مخالفت کرتا چلا آ رہا ہے اور پاکستان کے قیام کو غلط ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔
اس مکتبہ فکر کا خیال ہے کہ اگر ہندوستان مذہبی بنیاد پر تقسیم نہ ہوتا تو آج بر صغیر میں مسلمان قوت میں ہوتے اور پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت ہونی تھی، نہ کہ ہندو کی، ہو سکتا ہے ایسا معجزہ ہو ہی جاتا لیکن! واقعات بتا اور اشارے دے رہے ہیں کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔
بنیادی بات یہ ہے کہ اگر دو" قومی نظریہ " یا قیام پاکستان مسلمانوں کو کمزور کرنے کی سازش ہوتا تو ہندو ذہنیت اور انکی نمائدہ جماعت "انڈین کانگریس" اور اسکے حواری قیام پاکستان کے مواقف ہی کرتے، مخالفت ہرگز نہیں، کیونکہ مسلمانان ہند کی قوت ٹورنی مقصود تھی۔
مسلم لیگ کے قیام سے قائد کی مسلم لیگ میں شمولیت تک، پھر تحریک پاکستان، قرارد لاھور جو بعد میں قرارداد پاکستان کہلائی اور قیام پاکستان تک کانگریس پاکستان کے قیام کی مخالفت کرتی ہی نظر آتی ہے۔
قیام پاکستان کے وقت باؤنڈری کمیشن، پھر اثاثہ جات کی تقسیم, پھر 1948 میں کشمیر میں اپنی افواج اتارنا 1965ء میں بغیر کسی اطلاع کے پاکستان پر چڑھ دوڑنا، پھر منہ کی کھا کر اقوام متحدہ سے رجوع کرکے جنگ بند کرنے کی درخواست، پھر ایک سازش سے (جس میں پاکستان سے اندرونی عناصر بھی شامل تھے) پاکستان کو دو لخت کر کے بنگلہ دیش کا قیام اود آنجہانی مسز اندرا گاندھی کا دو ٹوک بیان کہ " ھم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے" کا وا شغاف اعلان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہندو ذہنیت شروع سے ہی مسلمانوں کے لئے بر صغیر میں ایک الگ وطن کی شدید مخالف تھی، اگر قیام پاکستان کے مسلمانوں کی مجموعی قوت ٹوٹ رہی ہوئی تو اسے تو پاکستان کی قیام کی حمایت کرنی چاہئے تھی نہ کہ مخلفات۔
یہی وہ نکتہ ہے جس نے مجھے آج کچھ لکھنے پر مجبور کیا۔
پاکستان کے خلاف اسلام دشمن طاقتوں کا گٹھ جوڑ، پھر ہندوستان کا " سیاچین گلیشیر" پر قبضے کا جارحانہ اقدام، پاکستان میں دہشت گردی، کببھوشن یادیو کا پکڑا جانا اس طرف صاف اشارہ ہے کہ ہندو ذہنیت نے ابھی تک قیام پاکستان کو صدق دل سے تسلیم کیا ہی نہیں (دو قومی نظریہ کی مخالفت کرنے والوں کے نکتہء نظر کے مطابق تو ہندوستان کو قیام پاکستان کی اور پھر وجود پاکستان کی حمایت کرنی چاہئے تھی نہ کہ صریح دشمنی) 26 فروری 2019ء کی صبح بھارتی اور اسرائیلی فضائیہ کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور 02 لڑاکا طیارے گنوا کر منہ کی کھائی۔
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے؟
کتنا لکھوں؟
کتنے ثبوت دوں کے قیامِ پاکستان اور وجودِ پاکستان بر صغیر میں مسلمانوں کے لیے نعمتِ خدا وندي سے کم نہیں۔
جب تک پاکستان دنیا کے نقشے پر موجود ہے، بھارت کا خطے میں بلا دستی کا خواب اور اسرائیل کا "گریٹر اسرائیل" کا قیام ممکن نہیں، مملکت خدا داد اسلام دشمنوں کے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے ان کے راستے کا سب سے بڑا "روڑا" ھے۔
اللہ رب العزت ھم پاکستانیوں کو اس ملک کی اہمیت و افادیت اور اصل حقائق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے جو " حب علی اور بغض معاویہ " تحریک پاکستان، قیام پاکستان سے اب تک خار کھائے بیٹھے ہیں اور نئی نسل کو بھی ورغلا رہے ہیں۔
طالب دعا:-
جی۔ایم چوہان،
December 25, 2019
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں