اتوار، 21 جون، 2020

Dehati Saqafat ka Aik Hairatangez Kirdaar (Naai)

ماضی کے جھروکوں سے

"دیہاتی ثقافت کا حیرت انگیز کردار "نائی 


اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ یا تصویر ہم کو اپنے ماضی کی طرف کے جا کر بہت کچھ یاد دلاتے دیتی ہے۔

کافی عرصہ پہلے کے بات ہے میں اپنے ایک دوست کی شادی میں شرکت کرنے سانگھڑ سے اوکاڑہ کے نزدیک ایک گاؤں میں گیا تھا، سفر لمبا تھا وہاں پہنچا تو تھکن سے چور چور تھا، میزبان نے کہا کہ آپ فریش ہو جائیں، ناشتا کریں پھر آرام کریں کہ سفر کی تکان دور ہو۔

میں نے اپنا سفری بیگ کھولا جس میں میری مسز میری ضروریات زندگی کی تمام اشیاء میرے بیگ میں رکھنا اپنا فریضہ سمجھتی تھی ( کیوں کہ اچھا خاصا بھلکڑ بھی واقع ہوا ہوں) اب بھی اگر کہیں جانا ہو تو سب چیز ترتیب سے رکھا کرتی ہے کہ دورانِ سفر کسی بھی طرح کی دقّت نہ پیش آئے۔

میری Shaving kit دیکھ کر میزبان نے کہا " یار! کیوں تکلفات میں پڑ رہے ہو میں نے "سیپی" کو بلایا ہے، بس آتا ہی ہوگا، یہ شہری چونچلے چھوڑو اور جب تک آپ میرے پاس ہیں دیہاتی زندگی کے مزے الڑاؤ، ماننا پڑا۔

کچھ دیر میں ہی راجہ اپنی بشکی لیکر پہنچ چکا تھا، میرے دوست نے کہا کہ " یہ میرے دوست سندھ سے آئے ہیں آپ انکی داڑھی بنا دیں! راجے نے مجھے اپنے سامنے بیٹھے کا کہا بلکل ایسے ہی جیسے اس تصویر میں ہے، میرے لئے یہ ایک طرح کا عجیب تجربہ تھا، سنا تھا کہ ایسے بھی داڑھی بنائی جاتی ہے، اب خود اس کا شکار بھی ہونے کو تھا۔

میں اور وہ ایک دوسرے کے مد مقابل اكڑوں بیٹھے ہوئے تھے، جیسے کسی زمانے میں دیہاتوں میں "بینی پکڑنے" والے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھا کرتے تھے۔ پھر راجا صاحب نے میرے دائیں ہاتھ میں ایک آئینہ تھما دیا جو غالباً بڑے آئینے کا ہی نعم البدل تھا، اسے بھی دیکھنا پڑا۔ وہ تو یقینی طور پر بیان کردہ آسن میں بیٹھنے کا عادی تھا، میرے لئے یہ انتہائی تکلیف دہ صورت حال تھی، وہ سمجھ گیا تو ایک اینٹ میری طرف بڑھا دی کہ اُسے استعمال کروں، میں بھی اپنی منٹگمری اینٹ پر ٹکا کر بیٹھ چکا تھا، پھر اس نے ایک ٹوٹے سے کپ میں جس میں اس نے اپنے طور پر شیونگ سوپ رکھا ھوا تھا، اس میں چند لمحے برش گھمایا، کچھ جھاگ پیدا کی اور مذکورہ برش کو میری گالوں پر آزمانا شروع ہوگیا، برش بھی نیا نہیں تھا کہ کثرت استعمال سے اسکے بال ختم ہونے کو تھی، آپ اسے " لنڈا برش" بھی سکتے ہیں جو جھاگ کم اور گالوں پر کانٹوں کی طرح چبھ زیادہ رہا تھا، برداشت کرنا پڑا اور کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔

داڑھی نرم کرکے اس نے بشکی سے اُسترا نکالا، نزاکت سے اپنی انگلی پر اُسکی دھار چیک کی، اور پھر shave بنانے کا آغاز کر دیا، پہلی ہی کوشش میں مجھے یوں لگا جیسے کوئی "کھنڈی چھری" سے میری گال کی چمڑی ادھیڑ رہا ھو، تکلیف کا احساس چہرے سے ظاہر ھوا تو وہ ساری سورت حال سمجھ گیا، اپنی مشق ستم چھوڑی اور بشکی میں سے ایک چمڑے کا تیل آلودہ ٹکڑا نکلا جسے عرفِ عام میں وہ لوگ چموٹا کہتے ھیں۔ ساتھ ھی جانگلی پنجابی جو کہ اوکاڑہ کے گرد و نواح بولی جاتی ہے میں بڑبڑایا " ھک تے ایہہ شہری چھور نازک بئوں ھندے نیں" اور پھر چموٹے پر کافی دیر تک استرا تیز کرنے کے بعد دوبارہ میری گال پر حملہ اور ہوا، اُسترا تیز کرتے وقت میری قسمت ماڑی کہ اس سے پوچھ بیٹھا کہ راجہ! کیا آپ کے پاس بلیڈ والا Razor نہیں ہے؟ گھور کر مجھے دیکھا چہرے اور ناگواری کے آثار پیدا ہوئے اور کہنے لگا " میں خاندانی نائی آں" استرے کی دھار میں تو کوئی تیزی نہیں آئی البتہ اب اُسکا ہاتھ اب کافی تیز ہوچکا تھا جیسے وہ اس کام کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتا ہو، تکلیف برداشت کی کہ اسکے ہاتھ میں اُسترا تھا اور میرا چہرہ اُسکی مکمل زد میں، اختتامی مراحل میں جب میرے "پچھے اور جگہ سے زخمی" ہوئے گالوں پر اس نے " اینٹی سیپٹک" کے طور پر پھٹکڑی کا استعمال کیا تو مجھے یوں لگا جیسے میرے زخموں پر دانستہ نمک چھڑک رہا ہے، صبر و شکر کے ساتھ سب کچھ برداشت کیا کہ اس کے علاوہ کچھ جر بھی نہیں سکتا تھا، جن چھٹی سو لاکھوں پائے۔

وہ دن اور آج کا دن میں دیہاتی ثقافت کے حیرت انگیز کردار (نائی) کے قابو نہیں چڑھا۔

غ۔م جوہان۔
March 15, 2020


🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🕋🇵🇰🇵🇰🇵🇰🕋🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...