صدائے درویش
شادی، جہیز اور ہمارا معاشرہ
پاکستان اور ہندوستان کے اُن علاقوں میں جن بھی ہندو تہذیب و تمدن ابھی تک باقی ہے یا وہ اقوام جو ہندو سے مسلمان ہوئیں وہ اس رسم کو اب تک کچھ تو خوشی اور کچھ مقروض ہوکر بھی ایک سماجی ضرورت اور اہم رسم سمجھ کر مجبوراً بھی چلا رہے ہیں۔
ہندوستان کے وہ علاقے جن میں ہندو کلچر کے اثرات نہیں تھے یا ہیں، وہ اب بھی جہیز نام کی کوئی چیز نہیں دیتے، سندھ، بلوچستان اور کے۔پی۔کے اور قبائلی علاقہ جات میں آج بھی لڑکی کو بھیڑ بکری کی طرح مول تول کرکے کچھ ورثاء یا ماں باپ معاوضہ لیتے ہیں، جب کہ تمام عرب ممالک میں یہ چلن عام سا ہے۔
سندھ میں بیٹی کے پیسے وصول کرنے والی رسم ختم ہونے کو ہے، وہ صرف اب رشتے کے بدلے رشتہ ہی لیتے ہیں، کچھ قبائل ہیں جو دلہن والوں کی طرف اٹھنے والا سارا خرچ دولہا والے اٹھاتے ہیں۔
البتہ! سندھ کے پڑھے لکھے لوگ تو اب "وتّے ستّے" کی سماجی خرابیوں کو سمجھ چکے ہیں سو وہ لوگ اس سے اب اجتناب کررہے ہیں اور لڑکے لڑکیوں کی شادیاں بغیر کسی شرط و شرائط کے خاندان اور خاندان سے باہر بھی کرتا شروع ہو چکے ہیں جو کہ میرے نزدیک ایک یہ ایک طرح کی خوش آئند بات ہے، حسب حیثیت جہیز یا بیٹی کو گفٹ بھی کر رہے ہیں۔
پنجابی فیملیز اور ملک بھر کی اردو بولنے والی فیملیز ( یا وہ لوگ جو ہجرت کرکے پاکستان آئے) وہ تو اب "وتّا ستّا" بھی ترک کر چکے اور بیٹی کی قیمت وصول کرنا بھی گناہ عظیم اور گالی جانتے ہیں۔
لیکن!
بدقسمتی سے دونوں اقوام میں اب جو خاندان سے باہر رشتا نہ کرنے اور ہم پلّہ ھونے کی وباء اور فیشن چل نکلا ہیں اس وجہ سے لڑکے اور لڑکیوں کی عمریں گھر بیٹھے بیٹھے ہی ڈھل رہی ہیں جو کہ کہیں زیادہ خطرناک بات ہے۔
رہی جہیز کی بات تو اگر ماں باپ اپنی خوشی سے اپنی استطاعت کے مطابق اگر بیٹی کو کچھ گفٹ کرتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں، بس لڑکے والے انکو اپنی ڈیمانڈز سے مجبور نہ کریں، جیسا کہ ہندو کلچر میں آج بھی ڈنکے کی چوٹ پر ہورہا ھے۔
جہیز آپ اور ہم سب کے اقا و مولیٰ نبی رحمت نے (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) نے اپنی پیاری بیٹی خاتون جنت سیدہ فاطمۃ سلام علیہا کو بھی دیا تھا۔ علماء کرام سے پوچھ چکا کہ جہیز دینے میں کوئی قباحت نہیں، صرف سادگی ھو دکھاوا نہ ہو اور جبراً بھی وصول نہ کیا گیا ہو۔
بات سے بات نکلی تو عرض کرتا چلوں کہ چند ماہ پہلے پاکستان کے شہر فیصل آباد میں ایک شادی ہوئی تھی جس میں دلہن کو 111 تولے سونا، دولہا کے ہر بھائی کو ایک کورولا کار اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ دیا گیا، تفصیل دینا مناسب نہیں، یہ دکھاوا ہے اور ہمارے معاشرے کے کے لئے "سم قاتل" بھی۔
ویسے بھی سرپرستوں کی باحمی اتفاق سے نکاح کو آسان بنانا ضروری ہے جس میں لڑکی اور لڑکے کی باہمی رضا مندی بھی شامل ہو وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے، ورنہ ہماری سماجی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
طالب دعا:-
غ۔م چوہان۔
May 28, 2020۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں