بدھ، 24 جون، 2020

Mera Jism Meri Marzi, Bigri Naslen Aur Ham Aur Hamari Zumedari

 صدائے درویش

بگڑی نسلیں, میرا جسم میری مرضی اور ہم اور ھماری ذمہ داریاں

آج ہم جس خطرناک صورت حال سے دوچار ہیں اس کو پیدا کرنے اور مزید پیچیدہ کرکے ہمیں اس اسٹیج تک پہنچانے کیلئے سب سے پہلے طویل جدوجھد کے بعد ایک ماحول پیدا کیا گیا جو مذہب اور روایات کو نشانہ بنا رہا تھا، لبرلز کے نام اور  مادہ پرست گروپ اور نام نہاد حقیقت پسند بنے اور ہم مذہب کیساتھ ساتھ روایات سے بھی دور ہوتے چلے گئے پھر ایک طرح سے قدامت پسند اور ترقی پسندی کے نام پر سوشل اؤر الیکٹرونک میڈیا پر جنگ چلی، نتیجتاً پبلک پلیسز پر نازیبا لباس کی نمائش، بےراہ روی اور والدین سے بد کلامی وغیرہ ایک طرح کا فیشن بن گیا، بچے والدین اور سرپرستوں سے دور ہوتے چلے گئے۔

جو بیج بویا گیا تھا وہ اس وقت مذہب کے خلاف ہی نہیں، ہماری مشرقی روایات کا بھی سر عام مذاق اڑا رہا ہے، انسان تغیّر پذیر ہے، تبدیلی آتی ہے جسے قبول کرنا پڑتا ہے، لیکن بد قسمتی سے اب تبدیلی نہیں بےحیائی آئی ہے اور اُسے پورے طمطراق کے ساتھ معاشرے میں پھیلایا بھی جا رہا ہے۔
ایک اور خاص بات کہ ہماری اپنی ذاتی سوچ اور فکر ہے ہی نہیں کہ سب کو سن کر خود کسی بھی طرح کا کوئی فیصلہ کر سکیں کہ ہمارے لئے مجموعی طور پر کیا غلط ہے اور کیا درست، حالانکہ اللہ رب العزت نے انسان کو عقل سلیم عطا کر رکھی ہے کہ وہ خود بھی برے بھلے کی تمیز کر سکیں، لکیر کے فقیر کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔

جو پیدا جڑ پکڑ چکا اس نے میٹھا یا کڑوا پھل تو ضرور دینا ہے، اب یہ ہمارے کلی اختیار میں ہے ہم اس کو تلف کرتے ہیں یا کھانے کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
گناہ میں لذت ہے یہی وجہ ہے کہ نئی نسل تیزی کے ساتھ اُسکی طرف راغب ہے،  کچھ پیڈ آنٹیاں ہیں جو انکو motivate کرنے میں سرفہرست ہیں۔
اللہ سب کو راہ راست دکھائے یہ طاقت سے دبا دینے والا مسئلہ نہیں، اگر کی گئی تو لوکل اور پورا انٹرنیشنل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پاکستان کے ساتھ ایک نیا محاذ کھول دیگا، پہلے بہت کھلے ہوئے ہیں۔
اس کا واحد حل صبر و تحمل کے ساتھ اس وبا کا مقابلہ کرنا ہے۔

اب ہمارا اور civil society' کا فرض ہے کہ ہم ہر طرح سے اس mind set کا اخلاقی قوت سے مقابلہ کریں، تشدّد کا راستہ اپنا خودکشی کے مترادف ہوگا، اپنے بچوں کی ذہنی تربیت کی ابتداء ماں کی گود سے ہو اسکولوں سے نہیں۔
اگر ہم اس فحاشی اور بے رہ راوی کے سامنے مضبوط بند نہ بند سکے تو یہ سیلاب ہماری جملہ مذہبی اور ثقافتی روایات کو بہا کر لے جاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
ہر فورم پر اس ذہنیت کی پرامن طریقے سے مذمت کرنا میرا آپکا ہی نہیں، ہر مکتبہء فکر کے فرد افراد یا گروہ کا اولین فریضہ ہے، ہم پر واجب ہو چکا کہ اپنے عمل سے اس بھٹکی ہوئی نسل کو سیدھے راستے کی طرف لائیں جو ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے کیلئے بلکل تیار ہے، ڈنڈے سے سیدھا نہ کیا جائے، ورنہ برے نتائج سامنے آئیں گے اچھے ھر گز نہیں۔
مذہب کے ساتھ ساتھ ہماری مقامی روایات کو بھی سنبھالنا ضروری ہے جب ہم ہر ایک کی بہو، بہن اور بیٹی کو اپنی عزت سمجھا کرتے تھے، پھر سے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہونا ہوگا isolate بلکل بھی نہیں۔
اللہ ہم سب کو توفیق دے جو ہم کہہ رہے ہیں وہ کر بھی دکھائیں، ورنہ آنے والی نسلیں اور تاریخ ہم کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔

جو بچیاں یا بچے اس مکروہ mind set کا شکار ہو چکے ھیں واپس لانا بیحد ضروری ہے ورنہ یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ عورت سے ہی نسل پیدا ہوتی اور آگے چلتی ہے، صد افسوس کہ باپ  حرام ایئر حلال کی تمیز کئے بغیر صرف پیسے بنانے والی مشین بنا، ماں نے اولاد کو نہ پیار دیا نہ سینے سے لگایا اور نہ ہی کثرت نے اپنا دودھ پلانا مناسب سمجھا، اولاد کو نوکرانی اور آیا یا چلڈرن ہومز کے سپرد کر دیا کہ ہم اپنا فرض پورا کر چکیں۔ میں نے کسی دور میں کسی دانشور کا قول پڑھا تھا " تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں بہترین نسل دونگا"  اب اگر ہم ماں کی گود کو پھر سے اچھی اور نیکی کا سبق دینے والی پہلی درسگاہ بنا سکے تو ہی بہتری ممکن ہے ورنہ دائمی تباہی ہمارا مقدر ثابت ہوگی۔

آپ سب کا:-
غلام محمد چوہان۔
March 07, 2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...