صدائے درویش
ہم، اسلام اور کرونا وائرس
میرے دوستو!
کرونا وائرس کے پس منظر میں مجھے ایک حدیث شریف کا مفہوم یاد آرہا ہے وہ میں آج آپ سب کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔
" ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے پاس پریشانی کے عالم میں آیا اور عرض کی " یا رسول اللہ!
میں دور دراز سے آپکو ملنے آیا تھا، مگر میری اونٹنی ہم گئی ہے، جہاں میں نے اسے چھوڑ تھا وہ اب وہاں نہیں ہے۔ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اونٹنی کا " گھٹنا باندھا تھا؟
جواب ملا " نہیں" صرف توکل کی تھی!
آپ نے فرمایا!
پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھو، پھر توکل اختیار کرو!
اسلام دین فطرت ہے، اس حدیث شریف میں ہمیں فطری تقضوں کا ہی درس ملتا ہے، آج کل خطرناک وباء کرونا وائرس کی صورت میں پھیلی ہوئی ہے اور پوری دنیا اپنی جدید ترین تحقیق اور طبّی سہولیات کی دستیابی کے باوجود اس وباء کے سامنے بلکل بے بس نظر آ رہی ہے، اٹلی اس کی سب سے عمدہ مثال ہے۔
یہ اسٹیٹس لگانے کا میرا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم کو من حیث القوم اس سے بچاؤ اور روک تھام کیلئے ہمیں فوری طور پر کیا کرنا چاہئے، دوستو! اس میں سب سے پہلے ہمیں اونٹ کا گھٹنا باندھنا ہوگا، یعنی تمام حفاظتی تدبیر بھی اختیار کریں، پھر اللہ پر توکل اختیار کریں, پھر جو اللہ کی رضا اس پر سر خم تسلیم!
تقدیر و تدبیر کے معاملے میں ہم بے بس ضرور ہیں، لیکن!
قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے کہ " نے (اسکو) اتنا ہی دیا جس نے اکوشش کی، صفائی کو بھی نصف ایمان اسلام نے کہا ہے دنیا کے کسی اور مذہب میں جتنا صفائی پر زور اسلام دیتا ہے دنیا کے کسی بھی مذہب میں نہیں کہ صفائی کو "نصف ایمان" کا درجہ دیا گیا ہو۔
کرونا وائرس کا فی زمانہ کسی بھی طرح کا علاج ممکن نہیں نہ ہی کوئی ایسی ویکسین بنی ہے جس سے بنی نوع انسان کیلئے اس سے بچاؤ ممکن ہو،
البتہ!
حفاظتی تدابیر جیسا کہ مندرجہ بلا حدیث شریف مفہوم بھی ہے، اس پر ٪100 سختی کے ساتھ عمل کرکے ہم اس موذی مرض سے نہ صرف بچ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کیلئے بھی خطرہ ثابت نہیں ہو سکتے، یاد رکھیں! "صفائی نصف ایمان ہے" ہے اور یہی اس وقت اس موزی اور خطرناک وباء کا حل اور ممکنہ حد تک بچاؤ کا واحد راستہ بھی۔
اس موضوع پر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر حکومت اور ڈاکٹر صاحبان وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کر رہے ہیں، ہمارا اوّلیں فریضہ ہے کہ ہم اس پر عمل کرکے خود، اپنے پیاروں اور معاشرے کو اسکا شکار ہونے سے بچا سکیں۔
یہی تدبیر اور صفائی نصف ایمان کا مفہوم بھی ہے، ہم اور آپ من حیث القوم پوری کوشش کریں پھر نتائج اللہ رب العزت پر چھوڑ دیں، میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی محنت کو کبھی بھی ضائع نہیں فرماتے۔
فی زمانہ چین اس بات کی بہت عمدہ مثال ہے جو انپی کوششوں سے اس موزی وائرس کو خبروں کے مطابق شکست دے چکا ہے۔
خدا کیلئے اپنی اور اپنے پیاروں اور مخلوق خدا کی حفاظت کیلئے جملہ احتیاطی تدابیر " حقوق العباد" سمجھ کر اختیار کریں، ٹو ان شاء اللہ ہم مل جل کر اس موزی وباء پر دوست ملک چین کی طرح بہت جلد قابو پا لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
عرض آخر کہ استغفار کا ورد کریں توبہ کریں کہ من حیث القوم کوئی ایسی خرابی نہیں جو اس وقت ہم میں موجود نہ ہو، ہو سکتا ہے کہ یہ وباء سے کہیں زیادہ اللہ رب العزت عزت کی طرف سے بطور تنبیہ سزا کی ہی کوئی صورت نہ ہو۔
اللہ رب العزت ہمارے آقا و مولیٰ کے صدقے وسیلے اور طفیل ہم سب اور ساری بنی نوع انسان پر اپنا کرم فرمائیے۔
(آمین یا رب العالمین).
طالب دعا:-
جی۔ایم چوہان
March 22, 2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں