ہفتہ، 6 جون، 2020

National High School Gulshane Iqbal Karachi Ka Aik Yadgar Waqia


ماضی کے جھروکوں سے

نیشنل ہائی اسکول

کراچی-اسکول کی اولڈ سٹوڈنٹ

مجھے چند سال پہلے کراچی کے نیشنل ہائی اسکول گلشن اقبال میں کچھ عرصہ سیکیورٹی سپروائزر کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا تھا، ایک سہ پہر کی بات ہے کہ سکیورٹی گارڈ نے میرے روم میں آ کر بتایا کہ کوئی محترمہ باہر کھڑی ہیں اور اسکول وزٹ کرنا چاہتی ہیں۔ میں خود گیٹ پر گیا تو دیکھا ایک لڑکی کھڑی ہوئی اسکول کی بلڈنگ کو غور سے دیکھ رہی تھی، اس لڑکی کو گارڈ نے بتایا کہ یہ صاحب یہاں کے انچارج ہیں آپ ان سے بات کریں، لڑکی سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے تو اُس نے کہا سر! میں اس اسکول کی اولڈ سٹوڈنٹ هوں، میں اب امی والوں کے ہاں آئی تو میرا جی چاہا کہ میں اپنا اسکول بھی دیکھ لوں، بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ اسکول کے ضوابط کی وجہ چھٹی کے بعد کسی کی بھی انٹری کی سخت ممانعت تھی، میں نے کہا کہ آپ اسکول ٹائم میں تشریف لائیں، وزٹر بک میں انٹری کے بعد میں آپکو اسکول میں انٹر ہونے کی اجازت دوں گا۔ لڑکی نے کہا کہ اب کراچی آئی ہوں تو میرا جی چاہا کہ اسکول دیکھوں، صبح میں نے واپس چلا جانا ہے، لڑکی کی آنکھوں میں موجود التجاء کو پڑھ چکا تھا، کچھ سوچ کر میں نے اسے کہا کہ آپ اندر آ جائیں اور اسکول وزٹ کر لیں، جیسے ہی وہ لڑکی اسمبلی گراؤنڈ پہنچی تو یوں لگا کہ جیسے ماضی میں لوٹ گئی ھو۔ ایک دم سے لڑکی سے چھوٹی سی بچی بن گئی، پہلی تا دوسری کلاس کی بچی، آنکھوں میں خاص چمک سے پیدا ہوئی اور کہنے لگی یہ ہمارا اسمبلی گراؤنڈ تھا، یہاں ہم جب اسکول لیٹ آتے تھے تو میں اور فلاں فلاں اس جگہ سزا کے طور پر کھڑے ہوتے تھے، وہ میری نرسری کلاس ہے، میری ٹیچر فلاں تھیں، پھر 10th تک وہ کلاس روم تھا، وہاں لیبارٹری تھی فلاں سر ھمیں سائینس پڑھاتے تھے، پھر مجھ سے گویا ھوئ کہ کیا اب بھی سب کچھ وھاں ھی ھے جیسے تھا؟ میرا جواب نفی میں تھا تو روھانسی سی ھو گئ کہ سب کچھ بدل گیا ھے۔ میں نے کہا کہ اسکول کی نئ انتظامیہ نے بہت کچھ بدل دیا ھے، کافی دیر تک اسکول بلڈنگ کو حسرت سے دیکھتی رہی، جیسے وہ اپںا گمشدہ ماضی تلاش کر رہی ھو، ان دوستوں کو ڈھونڈ رہی ھو جو کبھی اسکے اسکول اور کلاس میٹ ھوا کرتے تھے۔ اسکی آنکھوں میں چمک کی جگہ ہلکی ہلکی نامی تیر رہی تھی جسے وہ باربار ٹشو پیپر سے صاف کرنے کی کوشش بھی کی رہی تھی۔ خود کلامی کے انداز میں بولی سب کچھ بدل گیا سب کچھ۔ پھر کہنے لگی کہ "پتہ ھے میں اسکول میں سب سے زیادہ شرارتی لڑکی تھی اسی وجہ سے مجھے اکثر گراونڈ میں کھڑا ھونے کی سزا ملتی تھی، جیسے مجھ سے تصدیق چاھ رہی ھو، کافی دیر کبھی اسکول اور کبھی آسمان کی طرف خلاؤں میں کچھ تلاش کرتی رہی۔ پھر اس نے میرا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگی میں آپکی ممنون ہوں کہ اپنے مجھے میرا اسکول دیکھنے دیا۔ واپس مڑتے ہی واپس پلٹی اور مجھے کہنے لگی ، کیا مجھے کچھ ایسا مل سکتا ھے جسے میں آج کی شام کی مناسبت سے اپنے پاس رکھ سکوں، کوئی چیز کوئی سوینئر؟ میں نے کہا آپ یہاں ہی میرا ویٹ کریں, کچھ کرتا ہوں! میرے کمرے میں ایک اسکول فلیگ پڑا ہوا تھا، وہ میں نے اسکو کمرے سے لاکر دیا، دیکھتے ہی آنکھوں میں پھر سے چمک اٹھی، جیسے پھر سے اسے گزرے ماضی کا کوئی انمول لمحہ یاد آ گیا ہو، کہنے لگی یہ تو وہی فلیگ ھے جسے ھم انٹر اسکول مقابلوں میں اٹھا کر اسکول کی قیادت کیا کرتے تھے، عقیدت سے وہ جھنڈا میرے ھاتھ سے لے لیا۔ پھر کہنے لگی سر! میں ممنون ہوں آپکی کہ آپ نے مجھے میرا اسکول دیکھنے کی اجازت دی اور سوینئر بھی دیا، میں اسے اپنے کمرے میں فریم کے کے لگاؤں گی، تشکر آمیز نظروں سے میری طرف دیکھا اور اسکول کا گیٹ پار کرکے تھکے اور بوجھل سے قدم اٹھاتی ھوئ روڈ پار کرتی چلی گئی جیسے کوئ مسافر اپنے خوبصورت ماضی سے تھکے ھارے قدموں کے ساتھ اپنے حال کی طرف لوٹ رہا ھو۔ جی۔ایم چوھان 06.06.2020


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...