صدائے درویش
رست خیزی زمانہ، بڑھتی ہوئی سکونی اور ہم
صبر، شکر اور قناعت
انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، مزاج بھی مختلف ہوتے ہیں، انسان خیر و شر کا امتزاج ہے، شخصیت کی تکمیل کیلئے سب سے پہلا اسکول ماں کی گود، پھر گھر کا ماحول پھر حلقہ احباب اور پھر وہ معاشرہ جس میں انسان پرورش پا رہا یا پاچکا ہو۔
بہترین ماحول میں پرورش کے باوجود بھی رست خیزی زمانہ و وقت میں انسان اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے، کیوں کہ ہم نے جو کُچھ اپنی تربیت گاہ سے اچھا سیکھا ہوتا ہے by practical زمانے بھر میں کثرت اسکے الٹ رویوں کی حامل نظر آتی ھے تو بندہ یہ فیصلہ کر ہی نہیں پاتا کہ غلط ہے کون، ہے، وہ اسکی تربیت یا بگڑا ہوا معاشرہ۔
یہیں سے بندہ یا تو بغاوت پر آمادہ ہوتا ہے، یا اُنکا رنگ چڑھا کر انہیں جیسا ہو جاتا ہے یا سب کچھ دیکھ کر جلتا اور کڑھ کڑھ کر اعصابی دباؤ کا شکار ہو جاتا کرتا ہے۔
اس اسٹیج پر سب سے بہتر عمل میانہ روي کا راستہ ہے، اپنی ذات سے کسی کا موازنہ کرنا چھوڑ دیں، نہ کسی کو خود سے برا سمجھیں اور نہ ہی سماجی و اقتصادی بنیاد پر خود سے بہتر۔
جو میسر ہے اسی پر اکتفاء کریں اور اللہ کی تقسیم پر قناعت کریں، مگر حالات کو بہتر بنانے کیلئے دوسروں کو روندے بغیر آگے بڑھنے اور حالات کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔
جو موجود ہے اس پر اکتفاء کریں، اُسکی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کیں، خود سے نیچے والوں کو بھی ضرور دیکھیں، خوش رہیں اور دوسروں کی خوشی کو برداشت کریں، اگر کوئی تکلیف میں ہے تو حسب توفیق اُسکی مدد کریں، اگر آپ کی روح پرسکون ہے تو اطمینان آپکے چہرے سے جھلکے گا۔
فارغ وقت نمازِ پنجگانہ کے بعد اپنا وقت یاد الٰہی میں گزاریں لیکن اس طرح کہ حضوری کی کیفیت طاری ہو، اگر حضوری کی کیفیت طاری نہیں ہوئی تو عبادات بھی بے معنیٰ ثابت ہوتی ہیں۔ انشاء اللہ ہر قدم بہتر سے بہترین کی طرف اٹھنا شروع ہو جائے گا۔ مطمئین رہیں، پھر کہتا ھوں اسکی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجا لاتے رہیں، موازنہ ترک کر دیں، ضرورت مندوں اور دوستوں کی مدد کیلئے حسب توفیق خود کو تیار رکھیں، جئیں اور جینے دیں۔
طالب دعا:-
غ۔م چوھان۔
April 12, 2020
🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🕋🇵🇰🇵🇰🇵🇰🕋🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🕋🇵🇰🇵🇰🇵🇰🕋🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں