انسان کی فطری بولی کونسی ہے؟
(شہنشاه جلال الدین محمّد اکبر)
جلال الدین محمّد اکبر نے اپنے دربار سے وابستہ علماء اور پنڈتوں سے دریافت کیا ہے انسان کی فطری بولی کونسی ہے؟
مسلمانوں نے کہا " عربی "
ھندو بولے سنسکرت۔
اکبر نے دو نو مولود بجے منگوائے اور خدام کے حوالے کر کے حکم دیا کہ ان بچوں کی بہترین پرورش کی جائے لیکن خبردار ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی کوئی زبان نہ بولی جاوے۔
حکم حاکم تعمیل ہوئ، چند سال دونوں طبقہ کے علماء کرام اور پنڈتوں کو دربار میں بلایا مسلمان سے کہا کہ عربی میں بچوں سے بات کرو اور ہندووں سے کہا بچوں سے سنسکرت میں ان سے خیریت لو!
دونوں بچے دونوں ہی زبانوں سے بالکل نابلد یعنی بالکل ہی گونگے تھے۔
جی۔ایم چوہان۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں