میرے رفیق، میرے دوست
ماضی کے جھروکوں سے
عزیز ابن الحسن میرا دوست میرا بھائی
عزیز ابن الحسن، میرا دوست میرا بھائی، میری سانگھڑ سندھ کی سنگت کا ساتھی، یہ غالباً 1988-89 کی بات ہے، جب میرا اور دیگر احباب کا سانگھڑ سے لاہور آنا ہوا، عزیز بھائی کو ان دنوں "ادارہ ثقافت اسلامیہ" ۰۲ " کلب روڈ لاھور میں اسسٹنٹ ریسرچ آفیسر کی جب مل چکی تھی، اب ماشاء اللہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
میرا خیال تھا کہ عزیز بھائی درویش اور خاموش طبع سا بندہ ہے، لیکن بعد میں اندازہ ہوا کہ میرے جملہ اندازے غلط تھے، یہ احساس مجھے ۲۰۰۶ء کی آخری ملاقات کے بعد ہوتا ہے، تھوڑا تھوڑا شرارتی بھی، کچھ کچھ صوفی بھی اور خوش گفتار بھی، مانسہرہ روڈ پر اُن ساتھ شام کی ہوا خوری، چہل قدمی اور پھر عزیز بھائی کی ہلکے پھلکے اور ثقیل و خشک موضوعات پر ہوئی گفتگو، میری خوبصورت یادیں ہیں۔
اصل موضوع کی طرف لوٹتا ہوں، عزیز بھائی لاھور میں خالص مجردانہ سی زندگی گزار رہے تھے اور قیام بھی ادارے میں موجود ایک کوارٹر میں ھی تھا، کیوں نہ گزارتے، ویاں ماں تو نہیں تھی جو پکا کر دیتی۔
ایک دن عزیز بھائ شمالاً جنوباً ٹانگیں پسارے زمینی بستر پر لیٹے ہوئے کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے اور اپنے ایک پاؤں کو مسلسل ہلائے جا رہے تھے، دفتر سے فراغت کے بعد یہ عزیز بھی کا سب محبوب مشغلہ تھا، میں بھی سدا کا تساہل پسند، ساتھ ہی نیم دراز سا تھا۔
عزیز بھائی!
یہ ہریسہ کیا بلا ہے؟
میرے طرف دیکھے بغیر ہے بولے، یہ کشمیری روایتی ڈش ہے،
اچھا!
یہ میری طرف سے جواب تھا، پھر گویا ہوئے, کھانا ہے؟
وہ بھانپ چکے تھے اب مہمان بھی انکے ہاتھ کی پکی ہوئی شملہ مرچ کا سالن کھا کھا کر "اُکتا" چکے ھیں۔
میری طرف سے اثبات ہی تھا، کہنے لگے ٹھیک ہے آج شام کو چلیں گے۔
عصر کے بعد کی بات ہے یہ، شام ہونے میں کچھ زیادہ دیر تھی نہیں، عزیز بھائی نے آٹھ کر غسل کیا، کیوں کہ ان دونوں لاھور میں گرمی کا موسم تھا اور لاہور کا روایتی حبس عروج پر، تیار ہوئے، سانگھڑ سے آئے ہوئے دیگر دوستوں کو بھی ساتھ لیا اور عازم سفر ہوئے۔
جس ہوٹل پر جانا تھا ہجوم سے بھرپور پر پیچ اؤر تنگ راستوں اور گلیوں سے گزرتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچے، بیٹھے، عزیز بھائی نے آرڈر دیا اور ہم سب گوھر مقصود کے انتظار کا لطف اٹھا ہی رہے تھے کہ مخالف سمت میں سیڑھیوں پر میری نظر پڑی میں بھونچکا سا رہ وہاں ایک تختی پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا "بھولا کنجر"
عزیز بھائی کی توجہ دلوائی تو مسکرا کر کہنے لگے، گھبراؤ نہیں یار، آپ اس وقت ہیرا منڈی میں ہیں!
مجھے پریشان سا دیکھ کر کہنے لگے آپ بے فکر ہوکر ہریسہ تناول فرمائیں، آپ بالکل محفوظ ہیں، اور آپکی عزت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی، پھر بولے، لاھور کا سب سے اچھا کھانا اور سب سے اچھا پان آپکو یہاں ہی ملے گا، کہیں اور نہیں، ہریسہ بھی۔
ہریسہ آیا، سب نے کھایا اور لذت اور ذائقے میں کمال پایا اور عزیز بھائی کی observation بھی۔
جی۔ایم چوہان۔
September 25, 2919.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں