صدائے درویش
اسلام دشمن شیطانی طاقتیں اور اُنکا اگلا قدم
اسلام دشمن شیطانی طاقتیں مسلمانوں کی دفاعی قوت کو تو توڑ چکیں، اب اُنکا اگلا قدم واضح ہے۔
عراق سے لیبیا تک وہ مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا چکے، افسوس اس بات کا کہ انکے کارندے بھی مسلمان ہی تھے کوئی غیر نہیں۔
مرحوم ضیاء الحق اور اسکی ٹیم کے ہاتھوں روس جیسے مضبوط حریف کو شکست نہیں دی، بلکہ اُسے کی حصوں میں تقسیم کر دیا، اہم بات یہ کہ خود لڑے بغیر، اپنا جملہ اہداف حاصل کرنے کے بعد ضیاء الحق مرحوم کو سب سے بڑا خطرہ سمجھ کر ضیاء مرحوم اور افغان جنگ کے گریٹ پلانر مرحوم جنرل اختر عبد الرحمٰن کو بھی انتہائی چالاکی سے ہمیشہ سے راستے سے ہٹا کر افغانستان اور پاکستان کو بلکل لاوارث چھوڑ دیا گیا، نتیجتاً پاکستان دہشتگردی کی ایک خوفناک لہر اٹھی کہ جملہ جہادی گروپس اور تنظیمیں اس کا مجرم پاکستان کو ہی سمجھتے تھے۔
ایران اور پھر کویت پر صدر صدام حسین چڑھ دوڑا، پھر صدام کے خلاف عراق میں مہم چلوائ صدام گرفتار ہوا اور پھانسی دے کر راستے سے ہٹا دیا گیا۔
ستمبر the 11 کا ڈراما رچایا، طالبان کی پاکستان نواز حکوت ختم کی اسطرح سے افغانستان میں اپنے پیر جما لئے۔، بقول اُنکے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن کا کھیل ختم، اسکو ایبٹ آباد آپریشن میں ہلاک کر دینے کا دعویٰ لاش تک کسی نہیں دکھائی۔
لیبیا، یونس، الجزاء اور شام میں خانہ جنگی کروائی، لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت کا خاتمے۔ شام اور عراق میں ISIS (داعش) کو پروموٹ کیا، انہوں کے شام میں شیعہ مسلمانوں کی زندگی حرام کرکے اُنکا جینا محال کردیا،
جب اُنکا کام ختم ہوا تو داعش کے سربراہ البغدادی کو خود ٹھکانے لگا دیا، پھر ایرانی جنرل نے جس نے وہاں شیعہ مسلمان آبادی اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کیلئے جارحانہ اقدامات کر کے داعش کی کمر ٹوری اس کو hit کرکے راستے سے ہٹا دیا کیوں کہ وہ عرب دنیا یا عجم کسی بھی مزاحمت کار کو وہ برداشت کر ہی نہیں سکتے۔
اب مسلمانوں کے اُنکے منصوبے کے مطابق دو ہی طبقات بچیں گے، ایک نیم وحشی، اپنی بقا کی جنگ لڑتا ہوا طبقہ تاکہ مسلمانوں کو دنیا بھر میں عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ جتاتے رہیں اور مسلمان کی مسلسل نسل کشی برقرار رکھی جا سکے، بوسنیا ہرزیگوینا سے شروع ہونے والا مسلم کش عمل ابھی ختم نہیں ہوا۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام اور عورتوں کی اجتماعی عصمت دری، چین میں مسلمانوں پر سختیاں اور کشمیر میں مسلمانوں کی حالت زار کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں۔
دوسرا عیاش اُنکے اشاروں پر ناچتا ہوا حکمران طبقہ اور مادر پائیدار آزاد اورعیاش لوگ۔
لبرلز کی شکل میں ہمارے ہاں جو طبقہ اٹھا ہے وہ ٪100 مغرب نواز ہے جن کے نزدیک اسلام اسلامی تعلیمات، اقدار یہ اسلاف کی روایات کا ہونا یا نہ ہونا ایک ہی بات ہے۔
ہمارے ہاں بر صغیر میں یا مغرب نواز لبرل لوگ ہیں یا انتہائی مذہبی شدّت پسند (ایران نواز شیعہ اور سعودیہ نواز سنی) دونوں ہی، مفاہمت اور صلح پسند جیو اور جینے دو کے اصول پر کاربند، مثبت سوچ کا حامل درمیانہ طبقہ اب تقریباً تقریباً ختم ہونے کو ہے۔
مستقبل میں یہاں، فرقہ وارانہ اور تعصب کے میدان میں زبردست فساد نظر آ رہا ہے ( اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو بھی) منظور پشتین اور دواڑ کی صورت میں اسکی بنیادیں رکھی جا چکی ہیں اور مغربی میڈیا خصوصاً BBC اسکی پشت پناہی میں بھی مصروف ہے اور جس میں ہمارا مقامی میڈیا بھی حساب توفیق اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اگر بد قسمتی سے ایسا ہو گیا تو اس میں اپنے اپنے نظریات سمیت سلامت رہنا تو کجا اپنی پہچان تک باقی رکھنا ہر گروہ کیلئے مشکل ہی نہیں نا ممکن سا ہوجائے گا۔
یہی ہماری سب کچھ ہماری تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہونا ہے، پنجاب میں قوم پرستی اور فوج مخالف تحریک چل نکلی ہے اور عام پنجابی حالات کو سمجھے بغیر انکی پیروی بھی کر رہے ہیں، یہ میرے نزدیک مقام افسوس ہے کچھ اور نہیں۔
پاک فوج چونکہ ملکی زمینی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت میں بھی اپنی تمام تر کوششوں میں مصروف ہے اور حالات کو سمجھنے والے پاکستانی بھی اس جنگ میں انکا ساتھ دے رہے ہیں، سب کی مشترکہ کوشش ہے کہ ہر طرح سے ملک کو کسی بھی طرح کے فساد سے بچایا رکھا جا سکے، اگر خدا نخواستہ کر ایسی نازک صورت حال سے ملک دوچار ہو جاتا ہے تو انکا اگلا ہدف ہمارے ایٹمی اثاثہ جات کے سوا کچھ اور نہیں جو کہ گریٹر اسرائیل کے قیام میں رکاوٹ ہی نہیں بلکہ انڈین عزائم کے راہ کا بھی سب سے بڑا روڑا ھے "مہابھارت" کی راہ کا۔
اللہ ہماری اور آنے والی نسل پر اپنی رحمت فرمائے، ہم سب کو اور ہمارے ارباب اختیار کو اس مشکل صورت حال کو اچھی طرح سے سمجھنے کی توفیق دے، لیکن! جو نظر آ رہا ہے ہم کسی بھی طرح سے پروردگار عالم سے رحم کے طلبگار ہرگز نہیں ھیں۔
احقر العباد:-
جی۔ایم چوہان
January 26, 2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں