صدائے د رویش
گھر کی خوشیوں کو گھر ھی میں تلاش کریں ،وہ یقیناگھر ھی میں ملیں گی باھر نہیں۔
Ghar Ki Khushiyun Ko Ghar He Men Talash Karen، Wo Bahar Nahi Milen Gi
ایک آدمی سڑک پر اسٹریٹ لائٹ کے نیچے جھک جھک کر کچھ دیکھ رہا تھا ـ پاس سے گزرنے والے نے ہمدردی سے پوچھا لالہ کیا ڈھونڈ رہے ھو ؟ کہنے لگا یار چابی کھو گئ ہے ،، وہ بندہ بھی اس کے ساتھ جھک کر چابی ڈھونڈنے لگ گیا اور جب کافی دیر تک نہ ملی تو اس آدمی سے نارمل انداز میں پوچھا ’’ اندازاً گری کس جگہ تھی ؟ ‘‘ گھر کے صحن میں کہیں گری تھی ،، اس بندے نے دھیمے سے جواب دیا ،، ظاھر ہے ہمدرد کا تراہ نکل گیا ،، اس نے کہا ابے میں اتنے ضروری کام سے جا رہا تھا اور تُونے مذاق مذاق میں میرا وقت برباد کر دیا ،،
نہیں یار میں نے مذاق نہیں کیا اصل میں گھر میں اندھیرا تھا ، تو میں نے سوچا یہاں روشنی ہے یہاں تلاش کر لیتے ہیں ،،
آپ کے لئے یہ لطیفہ ھو گا مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے پڑھے لکھے ، وکیل ،ڈاکٹر، انجینئر اور بزنس مین اکثر و بیشتر اپنی خوشیوں کو وہاں ڈھونڈنے کی بجائے جہاں ان کو گنوایا تھا ، باہر کی چکاچوند میں ڈھونڈتے پائے جاتے ہیں ـ گھر کی خوشیوں کو گھر میں ہی ڈھونڈیں وہ یقیناً وہیں ملیں گی ، وہاں سے کوئی باہر والا اٹھا کر نہیں لے گیا ،، چاہے کتنا وقت گزر گیا ہو ،، کوئی ایک جملہ ،، کوئی ذرا سی مسکراہٹ ، کوئی نکی جِنی ہاں ، کوئی شرمندہ سے مسکراھٹ ایک سوئچ کا سا کام کرے گی اور گھر خوشیوں سے بھر جائے گا۔“
__________________
خیر اندیش:
غلام محمد چوھان
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں