🌜🇵🇰🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🇵🇰🌜🕋🌛🇵🇰🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇🇵🇰🌛
صدائے درویش
کوروناوائرس کی ممکنہ تباہ کاریاں اور بنی نوع انسان
کورونا وائرس کی وجہ سے صحت کے معاملات میں وطن عزیز کے حالات انتہائی خراب ہیں بلکہ روز بروز ناگفتنی ہوتے جا رہے ہیں، متاثرین کی تعداد بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور اموات کی شرح بھی۔ اس بات میں اب کسی طرح کی بھی کسی بھی طرح کے شک و شبہ کی اب گنجائش بچتی کہ یہ خطرناک وائرس انسانی ہاتھوں سے بنایا گیا اور جس مقصد کیلئے بھی بنایا گیا ہے اس کو تو پورا کیلئے بغیر اسے بنانے والے دم نہیں لیں گے۔
اموات کورونا سے ہوں یا کسی بھی اور وجہ سے زیادہ تر کا محرّک مستقبل قریب میں کورونا وائرس ہی ثابت ہوگا، دنیا کا کوئی خوش قسمت ترین فرد ہی ہوگا جو اس سے بچ پائے اس سے بھی اب کسی بھی طرح اس خطرناک حقیقت سے انکار کرنا بھی ممکن نہیں،انتہائی خطرناک بات یہ کہ یہ وائرس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ساخت بھی تبدیل کر رہا ہے، جو ویکسین بنائی جا رہی ہے وہ کورونا کو دنیا سے ہمیشہ کے ختم کر دینے کیلئے نہیں بلکہ اس کے ممکنہ خطرات یا مختلف پیچیدگیوں سے بچنے یا اسکو کم از کم کر دینے کیلئے ہے، جیسے کہ ریکوری کے بعد انسان کے مختلف اعضاء کا ایک دم کام چھوڑ دینا وغیرہ وغیرہ۔
یہ وائرس بنی نوع انسان کا ہی دشمن ہے کسی اور جاندار کیلئے نہیں، اس سے ہی آپ سب اسکے بنا کر دنیا بھر میں پھیلا دینے سے بنانے والوں کے مذموم عزائم کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
انسان نے براہ راست خدا سے کم اور اسکے بناۓ ہوۓ سسٹم/فطرت کو چیلنج کیا ہے، دیکھیں کون جیتتا ہے، جیتے گا خدا ہی لیکن اسکی ربوبیت کے چیلنج کرنے والوں کو بہترین سابق سکھا کر کہ آئندہ نسل انسانی میں کسی کو ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ ہو، " HRAP technologi" بھی اسی سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے وہ بھی بہت جلد اپنے منطقی انشاء اللہ اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔
دوستو میری اس بات کو اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیں کہ کورونا وائرس دیربا اثرات کا حامل ہے، اللہ ہم سب کو سب سے محفوظ رکھے، آئیے میں آپ اور ہم سب اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ یہ جیسے آیا ہے ویسے ہی دنیا بھر میں آئی ہوئی اب تک آئی ہوئی وباؤں کی طرح سے تل جائے۔
لیکن!
اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں کرنے یا اذانیں دینے سے یہ عفریت دنیا بھر کے انسانوں کی بلالعموم اور مسلمانوں کی بلا الخصوص جان نہیں چھوڑے گا کیوں کہ ہم مسلمان اپنی زندگی میں سائنس کی افادیت کو ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں، جو مانتے ہیں انکی کثرت مادّہ پرست ہو چکی کہ *کثرت مذہب سے بیزار ہیں* اور اپنے نظریات اور خیالات سے دنیا کو مزید اسلام سے دور کررہے ہیں، مذہب پرست اور لبرلز دونوں ہی انتہاء پسند ہیں، جبکہ معتدل خیالات کا حامل اور روایات پرست طبقہ آہستہ آہستہ ناپید ہوتا چلا جارہا ہے، جلد ہی معدوم بھی ہو جاتے گا۔
دوستو!
اگر ہم اس وائرس کے نقصانات سے کسی حد تک جان چھڑانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں اب باقاعدہ سائنسی لیبارٹریز کا رخ کر ہوگا، سفر طویل اور تھکا دینے والا تو ہوگا مگر رزلٹ سامنے آئے گا۔ لیکن
موجودہ صورت حال کے تناظر میں مجھے یہ عمل مسقبل قریب تو کیا مستقبل بعید میں دور دور تک کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔
احتیاط بھی آخر کب تک؟
کڑوی بات کہہ رہا ہوں شدید مخلفت سامنے آوے گی، مجھے اس بات کا پورا احساس ہے، پورا احساس۔
احقر العباد:-
غ۔م چوہان۔
June 12, 2020
🌜🇵🇰🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🇵🇰🌜🕋🌛🇵🇰🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇🇵🇰🌛
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں