ماضی کے جھروکوں سے
"مفت کی شراب توقاضی کو بھی حلال ھوتی ھے"
قصہ سانگھڑ کے ایک بہت ہی پیارے دوست کا
میرے ایک بہت ہی پیارے دوست تھے، (نام دانستہ نہیں لکھ رہا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، اللہ غریق رحمت کرے)
پینے پلانے کے عادی تھے، وہ بھی خانہ ساز، ایک بار ملاقات ہوئی تو میں ان سے پوچھ بیٹھا کہ " سائیں کلّے ای کلّے ای موجاں ناں لُٹیا کرو، کدی کسے ھور نوں وی صلاح مار لینی چنگی ھندی اے"
شاید پنکی میں تھے یا فل خوشگوار موڈ میں، بولے "پینی اے؟"
میں نے کہا " ہاں"
مفت کی شراب تو قاضی کو بھی حلال ھوتی ھے، میری طرف دیکھ لے بولے " يار توں یار صوفی بندہ" تے شراب؟
میں جواب دیا "ایڈا وی صوفی نئیں جنا ٹسی سمجھدے اؤ"
کہنے لگے ٹھیک ھے بتا دوں گا۔
میں بات آئی گئی سمجھی، کچھ دن بعد چھٹی کا دن تھا، میں حسب معمول گھر ھی تھا کہ دروازے پر دستک ھوئ، دیکھا تو وہ دوست دروازے پر تھے، میں نے انکو دیکھ کر کہا " سائیں میں بیثھک کا دروازہ کھول لوں پھر بیٹھتے ھیں" فرمانے لگے کوئ لوڑ نئیں، میرے ساتھ چلنے والی بات کرو، عرض کی ڈریس بدل لوں؟ ارشاد ھوا بلکل نہیں۔
مرتا نہ کیا کرتا، سائیں کا حکم ٹالنا بھی مشکل تھا، چلنا پڑا۔
تھوڑا سا چلنے کے بعد پوچھا " سائیں چلنا کدھر اے؟"
جواب ملا مارکیٹ، فروٹ لینا ھے، مارکیٹ پہنچ کر ںولے، پینی اے؟
میرا جواب اثبات میں تھا، ٹھیک اے پنج کلو کنوں تے دو کلو سیب، اک کلو انگور دی لوڑ اے، باقی سامان میری طرفوں، زیر لب کہنے لگے کہ "سوچیا کہ آج تیرا وی الاہماں لاہ ای دیواں۔
سب کچھ خرید دیا تو کہنے لگے، ھن تکڑ نہ کریں جدوں مٹ تیار ھویا دس دیواں گا، تکڑ سندھی زبان کا لفظ ھے بمعنی جلد بازی کے۔
میں نے عرض کی سائیں " کوئ تکڑ نئیں"
کوئ پانچ یا چھہ دن بعد سر راہ ملے تو کہنے لگے، تیرے ول ای جا رہیا ساں، چنگا ہویا آپے ای مل پیا ایں، پندھ نئیں پیا۔
یار رات نوں کوئ اٹھ کو وجے کو نال گھر آ جاویں، گورنمنٹ نوں اک رات لئی پیکے گھل دیواں گا تے اسیں ساری رات موجاں کراں گے"
میں تو ایسی نوید مسرت سننے کو پہلے ہی بے چین تھا، پینی جو تھی وہ بھی پہلی مرتبہ۔
( ساری گفتگو کو پنجابی میں دانستہ لکھ رہا ھوں کہ مزہ برقرار رھے)
جوں توں کر کے دن گزارا، شام سے رات ھوئ تو ترنت سائیں کے گھر کی راہ لی، سائیں گھر ھی تھے اور میرے منتظر بھی، بیٹھے چائے پی تو ارشاد ھوا " ھن فیر کم شروع کردتا جاوے؟
میں کہا " جیویں سنگت دی صلاح"
پھر انہوں نے (خام مال) مٹکے کو انہماک اور پوری سے دیکھا پھر ںولے " سودا بلکل تیار اے!
اچھا جی یہ میرا جواب تھا۔
سودے کو عمل کشید سے گزارنے کیلئے جملہ سامان بہت ھی احتیاط چولہے پر رکھا، سودا ڈال کر میری طرف دیکھا فرمانے لگے، یار ھن تیری ایہہ ڈیوٹی اے کہ چلہے تھلے اگ نئیں بھجن دینی۔
میں نے عرض کی مرشدی بلکل ایسا ھی ھوگا، سودے کو ابال چڑہا تو سائیں نے روح افزاء کی خالی بوتل اس پائپ سے منسلک کر دی جس کا سرا اس خانہ ساز برتن سے لگا ھوا تھا جس میں سودا ابل رہا تھا، آخر کار پائپ سے بوتل میں خیر سے آتش سیال کا پہلا قطرہ ٹپکا اور ساتھ ہی میری رال بھی، میں آگ جلاتا چلا جا رہا تھا۔
اب اپنے پڑھنے والوں کو بتاتا چلوں کہ اس زمانے میں ابھی سانگھڑ شہر میں سوئی گیس جیسی نعمت نہیں آئی تھی، صاحب حیثیت گیس کے سلینڈر، بقیہ لکڑی یا گوبر کے اپلے جلایا کرتے تھے، کبھ لوگ من چھٹیاں بھی جلاتے تھے، جسے ھم مقامی زبان میں "چھٹیاں" کہتے تھے، یہاں واضح کرتا چلوں کہ کپاس کے پودے سے کپاس چن لینے کے بعد جو باقی پودا بچتا تھا لوگ اسے بھی بطور ایندھن استعمال کرتے تھے، گاؤں کے لوگ اب بھی کرتے ہیں۔
کوئی یہی دن تھے کہ سردیوں کی آمد تھی اور فضا میں ہلکی ہلکی خنکی آ چکی تھی۔
آج جلانا میری ڈیوٹی تھی، میرا خیال ہے اب کچھ اُسکا بھی بیان ہو جائے۔
جن دوستوں نے وہ زمانہ دیکھا ہے وہ خوب جانتے ہونگے کہ اگر چھٹیاں سوکھی ہوں تو بہتر، اگر ذرا سی بھی گیلی ہوں تو انہیں جلانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ھوتا، بد قسمتی سے جو چھٹیاں خاکسار جلا تھا تھا وہ بھی گیلی ہی تھیں، ذرا سی آنچ کم ہوئی سو سائین کی فوری تنبیہ "اگ بالی جا یار، کی ھویا اے تینوں؟"
چھٹی کا دھواں بہت کڑوا ھوتا ھے، جس کا اندازہ پہلی بار ھوا تھا، دھواں ختم کرنے کا واحد علاج وہ " پھکنی" (اور میرے پھیپھڑوں کی طاقت تھی) جسے سائیں نے پہلے ھی میرے حوالے کر دیا تھا، آگ جلتی رہی سودا اُبلتا رہا، انگور کی بیٹی قطرہ قطرہ بوتل میں منتقل ہو رہی تھی۔
آگ کو چونکہ جلتا رہنا مقصود تھا، سو میرا چولھے کے پاس سے اُٹھنا ممکن ہی نہیں تھا، پُھکنی سے پھونک ماروں تو سارا دھواں اور رکھ چہرے اور سر پر، کھانسی کرکر کے برا حال، ناک سے پانی بہنا شروع ہو چکا تھا اور گلہ ایسے جیسے کسی نے مرچیں بھر دی ہوں۔
عمل تقطیر تیز ہوتا ہے، دائیں کی نظر بوتل پر، جب دیکھا کہ کچھ شراب جمع ہو چکی ہے تو اٹھے، بوتل پائپ سے جدا کی اور جمع شدہ گرم گرم اثاث
آتش سیال حلق میں انڈیل لیا، میں یہ دیکھ کر سوچا کہ شائید معاملہ ایسا ہی ہوتا ہوگا، پھر تن دہی سے آگ جلانے میں مصروف ہو گیا۔
ان شاء اللہ حیاتی بخیر باقی اگلیِ قسط میں۔
جی۔ایم چوہان۔
05.06.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں