جمعرات، 18 جون، 2020

کورونا وائرس وفاقی بجٹ منفی شرح نمواورہم

صدائے درویش

کورونا وائرس وفاقی بجٹ منفی شرح نمواورہم

قومی بجٹ کے پیش ہو جانے کے بعد ایک سلسلہ سا چل نکلا ہے کہ ملکی تاریخ میں منفی شرح نمو ہو جانے کا responsible کون ہے، حکومت کہتی ہے اس کا باعث کورونا کی تباہیاں ہیں اور حزب اختلاف سارا الزام اور ملبہ موجودہ حکومت کی نا اہلی اور بد انتظامی پر ڈال رھی ھے، جبکہ غربت اور افلاس کی ماری قوم گوں مگوں حالت میں کھڑی سوچ رہی ھے کہ "میں کس کے ھاتھ پر اپن لہُو تلاش کروں"

موجودہ حکومت کی اب تک کی معاشی پالیسیز پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بجٹ 2020-21 میں تو کورونا آگیا، سال 2019-20 کس کے سر الزام دیں گے؟ گزشتہ سال کا قومی بجٹ بھی کوئی انقلابی بجٹ نہیں تھا۔

ہم ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر آج خود صدق دل کیساتھ ایک نظر اپنے کرتوتوں پر نظر ڈالتے ہیں!

ہماری کثرت 02 نمبری بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ، جھوٹ، فریب، دغابازی عروج پر، ذخیرہ اندوزی، black marketing اور ملاوٹ میں ھم سر فہرست، رمضان شریف یا کسی تہوار کے موقع پر 02 والی چیز 10 میں بیچنے کے عادی، کاروبار میں کثرت بددیانت۔ ٹیکسز سے انگوٹھا، کرتا دھرتا ہر چیز میں سبسڈیز لینے کے عادی تو میرے دوستو یہ ملک کیسے ترقی کے راستے پر چلے گا۔ ہمارے بجٹ کے منفی میں چلے جانے کی وجہ کورونا وائرس نہیں، ہم خود ہیں، سب بڑا وائرس یا دیمک جو پوری تندہی کے ساتھ بغیر کسی آرام کے اس ملک کے قیام کے ساتھ ہی چاٹ رھا ھے اور مسلسل چاٹتا ھی چلا جا رہا ہے۔ 

میرے عزیزو!

میرا یقین کامل ہے کہ اس ملک میں موجود وائرس کہیں زیادہ خطرناک ھم خود ہیں، جاگیر دار، وڈیرہ شاہی، خان، سیاست دان، سیاسی کارندے، افسران، سرکاری کارندے، سرمایہ دار، مذہبی رہنما یا مذہب کی آڑ میں موجود لوگ،  المختصر پورا سسٹم ہی اس وطن کو کھانے اور بری طرح سے چاٹنے میں بشمول میرے مصروف ہیں، کورونا کا کوئی قصور نہیں۔

 مجھے اسکا اقرار کرنے میں ذرا سی بھی عار نہیں، میری نظر میں کورونا سے  سے خطرناک وائرس ہم خود ہیں اور سب سے بڑے دشمن بھی۔ دنیا بھر میں کسی ایک ملک کی مثال دے دیں جہاں وباء کے پھیلنے کے بعد اس سے محفوظ رہنے کیلئے درکار اشیاء مہنگے داموں بکی هوں؟
یا ناجائز منافع خوری کیلئے مارکیٹ سے غائب ہوئی ہوں۔

رمضان، عید، شبرات یا کسی بھی خوشی یا غمی کے موقع پر ہم گِدھ بن کر لوگوں کا گوشت نہیں نوچتے؟ کیا ہم 01 روپیہ والی چیز 10 بلکہ کبھار اس سے زیادہ مارجن پر نہیں بیچتے؟ کیا اس ملک میں آجر اپنے ورکرز کی حقتلفی نہیں کرتا؟ کیا یہاں انصاف نہیں بکتا؟ کیا محض روٹی کے ایک لقمے کیلئے یہاں عزتیں نہیں بکتیں؟ جو کہ رہا ہوں وہ کھرا سچ ہے اور انتہائی کڑوا بھی۔

ہم سے بڑا کونسا وائرس ہوگا جو ملک و قوم کو اس بری طرح سے چاٹ رہا ہو!
دنیا بھی سے کسی بھی ایک ملک کی مثال دے دیں جہاں ایسا کچھ ہوا یہ ہو، " انا للہ وانا الیہ راجعون"

قیام پاکستان سے لے کر اب تک اس وطن کے ہم خود مجرم ہیں، گریبان میں جھانکنے کے بجائے دوسروں پر تنقید کے عادی ہو چکے ہیں، دنیا بھر کی معیشت برباد ہوئی ہے، صرف پاکستان کی ہی نہیں، جس طرح سے اس دوران اگر ہمیں مختلف طریقوں سے لوٹا نہ گیا تو آج کوئی بھی فیکٹری ورکر کام سے جواب ملنے پر خودکشی نہ کرتا، کوئی بھی مزدور مزدوری کمائے بغیر خالی ہاتھ اور خالی پیٹ اپنے بھوک سے بلکتے بچوں میں خالی ھاتھ نہ لوٹتا، جو وررکرز کام کر رہے ھیں کورونا کا بہانا بنا کر انکی تنخواہوں میں سیٹھ اور حاجی صاحب و الحاج کٹوتی کرکے اس سے بھیڑ اُن سے گدھوں کی طرح کئی گنا زیادہ کام نہ لیتے، اجرت تھماتے وقت تیوڑیاں چڑھا کر اپنے ورکر کو یہ تاثر کبھی بھی نہ دیتے کہ ہم تمہارے کام سے Safisy نہیں ہیں! میرا ایمان ہے اگر جواب دہی کا خوف ہوتا تو کوئی بھی محنت کش خالی ہاتھ اور آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ گھر واپس نہیں لوٹنا تھا۔

اگر ہم تنقید کے بجائے، تقابلی جائزہ لینے کے بجائے خود احتسابی سیکھیں تو ہو سکتا ہے ان حالات سے نجات حاصل کرنے کے ممکنہ راستے نکل سکتے ہیں ورنہ کیکٹس کے اس خود ساختہ جال میں ہم مزید اُلجھتے چلے جائیں گے, نکلیں گے ہرگز نہیں، آئیں حکمرانوں کے بجائے ہم تبدیلی لانے کی کوشش کریں،  1980ء کی دہائی سے اب تک آنے والے حکمران اور انکے رفقاء کار تو اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست یا ریاست مدینہ بنا چکے۔

احقر العباد:-

غلام محمد چوہان
16.06.2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...