صدائے درویش
خطّےکی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت ہمارے پڑوسی ممالک اورہم
قیام پاکستان کے بعد خارجہ پالیسیز مرتّب کرنے میں جو غلط ہوا سو ہوا اب ہم اسے دہرانا نہیں چاہیں گے، ہمارے پڑوسی مسلم ملک افغانستان اور افغان حکومت کو بھی اب پاکستان کے بارے میں اپنی قومی پالیسیز تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف ووٹ دینے کے باوجود بھی پاکستان کی مشرقی سرحد ہمیشہ محفوظ تھی، میں اس مفروضے کو ہمیشہ ہی غلط کہتا ہوں۔ جنگ ہتھیاروں سے ہی نہیں لڑی جاتی، کسی بھی ملک کی پالیسیز بتاتی ہیں کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ کتنا مخلص ہے، اوپن باؤنڈری کا سب سے زیادہ فائدہ افغانستان کو تھا اور سے زیادہ نقصان اسٹیٹ آف پاکستان کو، میں افغانی یا پاکستانی عوام کی نہیں State to state relations ship کی بات کر رھا ھوں، افغانستان میں بیس سے زیادہ انڈین سفارت خانے وہاں کیا کر رہے ہیں؟ یہی حال ایران کا ہے، انڈیا کو بندر چاہ بہار دیدی، RAW کو پاکستان کے خلاف کھل کر کام کرنے کا موقع دیا۔ کبھوشن یادیو بھی ایرانی پاسپورٹ پر ھی پاکستان آیا کرتا تھا، دوسری طرف سعودیہ بھارت میں مودی کو بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری دے رہا ہے، کیوں اور کس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے؟
امیر خلیجی ممالک اپنی ذات میں مگن اور پاکستانی افرادی قوت کے بجائے بھارتی افرادی قوت کو ترجیح دے رہا ہے، جبکہ انکی منڈیاں بھی بھارتی اشیاء سرف سے بھری پڑی ہیں، مندر بن کر پوجا ھو رھی ھے۔
ھمارے خلاف پلاننگ بہت خراب ہے، یہی وجہ ہے کہ میں حکومتِ وقت اور عام پاکستان کو بار بار کہتا ہوں پاکستانی بن کر ہر فیصلہ کرو، پاکستانی بن کر سوچو تو ہی ہم بقاء کی جنگ لڑ سکتے ہیں جیت بھی سکتے ہیں۔
افغانستان کے بھی ایک سے زائد چہرے ہیں، اگر طالبان یا افغانستان کے پشتون علاقے پاکستان کے ساتھ ہمدردی یا نرم گوشہ رکھے ہیں تو ہم پاکستانیوں نے بھی اس بات کا پورا پورا حق ادا کیا ہے، اس وقت افغان مہاجرین کی کثرت پاکستان کے شہری ہیں، انکی نسل اعلیٰ پوسٹوں پر فائز، کاروبار میں صف اوّل پر اور جائیدادیں خرید کر پاکستان میں بہترین زندگی گزار رہے ہیں، جہاں تک طالبان حکومت کی بات تو حکومت پاکستان کی کبھی بھی کوئی مضبوط پالیسی بنی ہی نہیں ہے، سعودی نے Yes کہہ دیا تو یہاں بھی Yes۔ مضبوط پالیسی ہے ہی نہیں کہہ اصولوں کی بنیاد پر قائم رہ کر اس پر عمل کرکے ہم ساری دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکیں، اپنی منوا سکیں، خطّے میں اور بین القوامی پر اپنی اھمیت جتا سکیں، یہی پوری اُمّت مسلماں کا حال ہے، فقط پاکستان ہی نہیں۔
افغانستان کا ایک حصہ پشتون، دوسرا فارسی بولنے والا اور تیسرا شمالی اتحاد ہے، اب آپ موازنہ کریں کہ کون کتنا اس ملک کا وفادار ہے اور پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ھے۔
سرحد محفوظ ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی پڑوسی ملک دوسرے پڑوسی ملک کے شر سے بھی محفوظ رہ سکتا ہو۔
ایسا ھی ھمارے ساتھ ایران اور بھارت بھی عرصہء دراز سے کر رہا ھے، آج کشمیر کو انڈین یونین کا حصّہ بنایا اور گلگت بلتستان کو خالی کرنے کی بھی دھمکی دے رہا ہے، یہ سب ہماری داخلی کمزوریوں کی وجہ سے ہے، ورنہ " بنیہ اور اسکی یہ جرات"
یہی وہ موقع ہے کہ ہم کو ہر حال میں خود کو پاکستانی ثابت کرنا ہوگا، یہ جوش نہیں ہوش کا وقت ہے جوش کا نہیں، اگر ہم ایسے ہی ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوتے رہے تو " انّا للّہ و انّا الیہ راجعون" دوستوں کو یاد ہوگا کہ کوئی دو سال پہلے ایک دوست نے مجھ سے پاکستان کے مستقبل کا پوچھا تھا تو میرا جواب تھا ملک تیزی سے مہابھارت کی طرف سے بڑھ رہا ہے کچھ سوچ سمجھ کر ھی کہا تھا۔
بھلا ھو چین کا جو حالات کا رخ دیکھ کر لداخ میں انڈیا کے قدم روک چکا، کشمیر کو اپنا آئینی حصہ بنانے سے اکّہ دکّہ فورمز پر ذکر کر لینے سے ملک اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔ چین اور بھارت کے مابین کنفلیکٹ پر ہمارے ملک نے اور ہماری وزارتِ خارجہ نے تو مجرمانہ خاموشی کی انتہاء کردی تھی، چین نے کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ تو کیا ہے، پاکستان نہیں۔
اب بھی سنہری موقع ہے ہمارا ازلی دشمن سانپ (بھارت) چین اور نیپال سے دانت کھٹے ہونے کے بعد اس وقت ھر طرح کے نفسیاتی دباؤ میں ہے، پاکستان لابنگ کرکے پوری دنیا کو بھارت اور اسکی پشت پناہی کرنے والوں کے چہرے اور مکروہ عزائم دنیا بھر کو دکھا سکتا ہے، ایک بار یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو دوبارہ سے نہیں ملے گا۔
خیر اندیش:-
غلام محمد چوہان،
22.06.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں