جمعہ، 5 جون، 2020

Aalu Master, Waqt ka aik Wali aur Majzoob

ماضی کے جھروکوں سے

آلوماسٹرایک سپرنارمل انسان

ایک خاکہ
میری آلو ماسٹر سے پہلی ملاقات گورنمنٹ ہائی اسکول سانگھڑ سندھ کے مین گیٹ پر ہوئی تھی، غالباً جون یا جولائی کا مہینہ تھا اور 1975-76ء۔

اسکول سے باہر نکلا تو دیکھا کہ اسکول کے گیٹ کے ساتھ والی دیوار کے پاس ایک بندہ کھڑا ہوا ہے،  تازہ بنی ہوئی shave بوسیدہ سی فوجی وردی، ویسے ہی پاؤں میں ملٹری شوز، ایک کندھے پر لگا ہوا کیپٹن کا رینک دوسرا خالی۔

بغل میں چند پرانے ڈان اخبارات، ساتھ ہی ایک بوسیدہ سا جنرل رجسٹر اور ایک عدد چھوٹی سی چھڑی جسے وہ اپنے ،تئیں شائید اپنی اسٹک سمجھتا ہوگا۔

اسکول کی دیوار کو ہی اس نے بلیک بورڈ بنایا ہوا تھا جس پر وہ پورے انہماک کے ساتھ اپنے فرضی سٹوڈنٹس کو شائید کیمسٹری کا لیکچر دے کر کچھ پرابلمز سمجھا رہا تھا۔

اسکول کے گیٹ کےساتھ ہی "دولہا" کی کینٹین تھی جو کہ اس زمانے میں اسکول اور کالیج کے تمام شاگردوں کی واحد تفریح گاہ بھی تھی۔  شام کے بعد یہی کینٹین اور اُسکی ٹوٹی پھوٹی کرسیاں ہم جیسے لفنگوں کیلئے شہر سے دور خاموش ماحول میں دقیق موضوعات پر بحث کرنے کیلئے ایک طرح کی جنت بھی ثابت ہوتی تھی۔ ہماری درخواست پر دولہا کنٹین کا ایک زرد روشنی نکھرتا ہوا بلب بھی جلتا ہوا چھوڑ جایا کرتا تھا۔

میں نے شدید گرمی کے باوجود بھی اسکول کی دیوار کے نزدیک ترین ایک ٹیبل پر جا بیٹھا اور کوشش کرنے لگا کہ مجھے کچھ سن پائے کہ آلو ماسٹر اپنے فرضی شاگردوں سے کیا کہہ یا پُوری تندہی سے سمجھا رہا ہے۔ 

اب وہ شاید کیمسٹری کو چھوڑ کر انگریزی ادب کا پیریڈ کے رہے تھے، اُنکے دیوار پر لکھنے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ انگلش شاعر کے کسی شعر کی تشریح کے رہے تھے، میری پوری توجہ کے باوجود بھی میں کچھ بھی نہیں سمجھ پایا کہ وہ کہہ کیا رہے ہیں۔

چائے پی کاؤنٹر پر بل ادا کرنے کے لئے آتا تو "دولہا" استفسار کیا کہ یہ کون ہے؟
جواب ملا پتہ نہیں، سب لڑکے انکو آلو ماسٹر کے نام سے بولتے ہیں۔ یہ کہاں سے آئے ہیں؟
جواب ملا پتہ نہیں کہاں سے ہیں، سارا دن یہاں ہی گھومتے پھرتے اور خود اپنے آپ کے ساتھ ہی منہ ہی منہ باتیں کرتے رہتے ہیں، دیوانہ ہے بیچارہ۔ 
رات کو کالیج کے ہوسٹل میں ہوتا ہے، سنا ہے کہ پچھلے وقت جب یہ واپس ہوسٹل پہنچتا ہے تو لڑکے ان سے انگلش گرائمر، ادب، سائنسی اور میتھمیٹکس کے پروبلمز حل کرواتے رہتے ہیں، باقی واللہ اعلم، یہ دولہا کی اُنکے بارے میں رائے تھی۔

پھر میرا روز کا معمول بن گیا کہ میں انکو دیکھنے کے لیے کڑی دھوپ میں وہاں جاتا کرتا تھا کہ سمجھ سکون کہ یہ کون ہیں اور ایسی حالت کیوں بنا رکھی ہے، ہزار کوشش کے باوجود بھی کچھ بھی نہیں سمجھ پایا۔

چند ایک بار اسے سہ پہر میں ہاؤسنگ سوسائٹی میں بھی دیکھا، لیکن کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کیوں اور کس سے ملنے آتے ہیں۔ ایک بار دیکھا کہ وہ ایک درخت کے نیچے ایک ٹوٹے ہوئے بینچ پر بیٹھے ہوئے ہیں، شاید دھوپ سے بچ کر سائے میں پناہ لے بیٹھے تھے، میں بھی ہمت جمع کرکے اُن کے قریب جا کر سلام کیا مگر جواب ندارد، جیسے انہوں نے کچھ سنا تک ہی نہ ہو، میری طرف کوئی توجہ نہیں دی، شائید میں اس سپر نارمل انسان کے معیار کا بندہ نہیں تھا، تھا بھی نہیں۔

نام پوچھنے کی جسارت کی تو جواب ملا "ھم وارنٹ آفیسر" ہیں، پھر وہی خودکلامی شروع جس کا ایک لفظ نہیں میری سمجھ میں نہیں آتا تھا، انتہائی دھیمی انداز میں فرضی لوگوں سے بات کرتے رہتے تھے، میں نے انکو کبھی بھی غصّے میں نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی مسکراتے ہوئے، شائید وہ یہ سب کچھ بھول چکے تھے۔

شہر کا چکر بھی لگایا کرتے تھے، امام بارگاہ روڈ پر کبھی کبھی کھانا کھانے آیا کرتے تھے، وہاں کوئیٹہ کے رہنے والے ایک نان بائ کی دکان تھی جہاں وہ کھانا کھاتے تھے، اب نان بائی کی دکان میرا بھی ٹھکانہ بن چکی تھی، ایک مخصوص وقت  پر آنا اپنے مخصوص ٹیبل پر آ کر براجمان ہونا، بغل کو خالی کرکے اپنے کل اثاثہء حیات کو ٹیبل پر رکھ کر سر سے ٹوپی اُتار کر اپنے سیدھے پاؤں کو ہلکی ہلکی جنبش دیتے یا ہلاتے رہنا، پھر جیب سے نکال اٹھنی یا ایک روپیہ ٹیبل کے کونے پر رکھ دینا اور کھانا serve ھونے کا باوقار طریقے سے انتظار کرنا، ساتھ ہی ساتھ منہ میں ہلکی سی مخصوص بڑبڑاھٹ بھی جاری رھتی تھی، کھانہ کھاتے وقت  بھی۔ کتی ہوئی ہیں مرچی انکو کھانے کیساتھ بہت مرغوب تھی اٹھنی دیکر ڈال سبزی اور ایک روپیہ ادا کرکے گوشت کھاتے تھے، نان بائی نے بتایا کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ اٹھنی دے کر انہوں سے گوشت کو ہاتھ لگایا ہو، نان بائی نے بتایا کہ میں نے متعدد بار کوشش کی کہ پیسے نہ لوں لیکن نہیں مانتے تھے، زیادہ اسرار کیا تو کئی دن تک دکان پر نہیں آئے، شائید ناراض ہو گئے تھے۔

پھر میں دنیاوی دوڑ دھوپ، فکرِ معاش میں مبتلا ہوگیا کہ سانگھڑ کے شاگردوں کا آلو ماسٹر بھی ذہن سے محو ہوتا چلا گیا۔ کبھی کبھار سانگھڑ نواب شاہ روڈ پر ملاقات ہو جاتا کرتی تھی مگر وہی شانِ بے نیازی جو کہ انکی فطرت کا حصہ تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ عشق میں دیوانہ ہوا اور کچھ کا خیال تھا کہ بہت زیادہ پڑھنے اور خدا داد زہانت کی وجہ سے اپنا دماغی توازن گنوا بیٹھا ھے، جیتنے منہ اتنی باتیں۔

پھر ہماری منڈلی ٹوٹتی چلی گئی، دھاگہ توتا تو سب موٹی ایک ایک کرکے بکھرتے چلے گئے، یونہی ایک دن دولہا کی کینٹین سے گزرا اُنکا خیال آگیا، کییڈین کے کاؤنٹر بیٹھے ایک بندے سے اُنکا دریافت کیا، پہلے تو وہ بندہ میری بات کو سمجھ ہی نہیں جب اسکو کچھ اشارے دیئے تو بولا "اچھا اچھا وہ آلو ماسٹر" ؟ 
میں کہا جی وہی، جواب ملا وہ تو جب سانگھڑ میں سیلاب آیا، کالیج کے ہاسٹل میں "بندہ ڈوبو" پانی کھڑا ہوا وہ پتہ سانگھڑ چھوڑ کر کہاں چلے گیا، پتہ نہیں کہاں۔

میری دعا ہے کہ سانگھڑ کے لوگوں کا آلو ماسٹر اور میرا سپر نارمل انسان  جہاں بھی ہو خیریت سے ہو۔

میں اس انسان کو سپر نارمل سمجھتا ہوں  ایک ہی مثال دونگا، سانگھڑ کالیج یا ہائی اسکول میں امتحانات کے وقت کسی بھی مضمون پر کوئی paper out ہوتا تھا توگ وہ پیپر کے کر آلو ماسٹر  کے پاس پہنچ جاتے تھے، وہ آسانی سے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے پورے کا پورا پیپر حل کردیا کرتے تھے، بغیر کسی لالچ یا طمع کے، ھائ سکول یا کالیج کے class rooms  میں کبھی کبھار چلے جاتے تو black board پر شاگردوں جو میتھمیٹکس کے ایسے ایسے جادوئی فارمولے سیکھتے کہ دیکھنے والے حیرت سے دنگ رہ جاتا کرتے تھے، ایسے تھے سانگھڑ کے  آلو ماسٹر


غلام محمد چوہان
June 05, 2020


🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🕋🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🕋🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...