صدائے درویش
گھس کےماریںگےکی بھارتی دھمکیاں اورپاکستان
میرے دوستو!
جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کافی عرصے سے بھارتی سیاستدان، ریٹائرڈ اور حاضر سروس جنرلز، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر گھس کرماریںگے کی دھمکیاں دے رہے ہیں مختلف ٹیبل ٹاکس میں وہ منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے سے انداز میں ایسا ہذ یان اکثر بکتے رہتے ہیں۔ جس میں انکا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سرفہرست ہے۔
گزشتہ سال بھارت نے پاکستانی فضائی حدود کی جو خلاف ورزی کی وہ اسی کی ھی ایک کڑی تھی، پھر دفاع وطن پر مامور پاک فضائیہ نے جو انکا حشر کیا وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ موجودہ سول حکومت نے بھی حسب سابق انکے " پائیلٹ مہاشے" کو بغیر کچھ حاصل کئے یا منوائے بھارتی حکومت اور مودی کے بیانات کے بعد گھٹنے ٹیک کر فوری طور پر ابھینندن کو بھارتی حکومت کے حوالے کر دیا، اس طرح سے ایک "ترپ کا پتہ" ہمارے ہاتھ سے با آسانی نکل گیا، جسکا کم از کم مجھے اب تک ملال ہے۔ گزشتہ سول حکومتیں بھی ایسے ھی عمل کرتی رھی ھیں اور انکا رویّہ بھی بھارتی حکومت کے ساتھ زیادہ تر معذ رت خواہانہ ہی رہا ہے، کارگل کی چوٹی پر افواج پاکستان کا قبضہ اور پھر پسپائی اُسکا بہترین ثبوت ہے۔ واضح رہے کہ 1971ء تک کارگل پاکستان کے نقشے پر تھا جسے معاہدہ شملہ میں بھارت کا حصّہ تسلیم کر لیا گیا۔ جو دفاعی امور سے واقف ہیں وہ کارگل کی اہمیت سے ضرور واقف ہونگے۔
اب ہمارے ازلی دشمن بھارت نے 1962ء کے بعد ایک بار پھر سے چین سے منہ کی کھائی، اپنے فوجی ماروائے، علاقہ گنوایا، نیپالی حکومت نے بھی اس موقعے کو غنیمت جانا اور اپنا کافی علاقہ بھارتی تسلط سے آزاد کروا لیا ۔ ان واقعات کے بعد اس بات کا قوی امکان موجود تھا کہ بھارت اور مودی سرکار اپنی خفّت مٹانے کے لئے پاکستان میں اپنے کارندوں کے ذریعے اپنے مذ موم عزائم کو پورا کرنے کیلئے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں تیزی لائے گا، وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ وطن عزیز کے مختلف حصوں میں بم دھماکے، بلوچستان میں بارودی سرنگوں کے دھماکے، اپر(بالائی) سندھ کے ضلع گھوٹکی میں بم دھماکے اور پھر کل کراچی اسٹاک ایکسچیج پر منظم حملہ بھی سب کے سب اسی کڑی کا سلسلہ ھیں جس میں قیمتی سول اور ملٹری فورسز کی جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا، یہاں ہی وہ نکتہ پوشیدہ ہے جسے گجرات کا قصائی اور پوری کی پوری بھارتی دہشتگرد سرکار گھس کے ماریں گے کا راگ الاپتی ہی نہیں بلکہ ملک اور بیرونِ ملک میں موجود اپنے کارندوں سے کام بھی لیتی ہے، اپنے مذموم مقاصد بھی حاصل کرتی ہے۔
الحمدللہ!
وطن کے رکھوالوں نے کراچی واقعے کا کئی روز پہلے ہی سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا تھا، وقوعہ کے دن کراچی اسٹاک ایکسچینج کے فرض شناس گارڈزاورسندھ پولیس نے دیشتگردوں کا جانفشانی سے مقابلہ کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر ہمارے ملک کے کاروباری مرکز کو کوئی بہت بڑا نقصان پہنچنے سے اللہ تعالی کے فضل سے بچا لیا۔ ہمّت اور بہادری کی ایک داستان رقم کرکے حملہ آوروں کو صرف 8 منٹس میں جہنّم واصل کردیا۔ میرا اور پوری قوم کا مادر وطن پر اپنی جان نچھاور کرنے والے شہید بیٹوں اور بہادری سے جم کر مقابلہ کرنے والے غازیوں کو سلام۔
دوستو!
ابھی خطرہ ٹلا نہیں بھارت مزید بھی بہت کچھ کرے گا، خصوصاً ملک میں جاری تخریبی کارروائیوں کو مزید تیز کرنا اور اُسکے بعد جس میں بین الاقوامی سرحد کو عبور کرنا بھی شامل ہے، وہ ایسی حرکت کب اور کہاں سے کرے گا، وطن کے رکھوالوں کو اس کا بخوبی علم ہے۔
اگر بھارتی حکومت نے ایسا کیا تو انکو ہماری طرف سے ایسا جواب ملے گا کہ جنونی اور دھشتگرد بھارتی حکومت ہی نہیں بلکہ انشاء اللہ اُنکے سینا پتی اور فوج مُدّ توں یاد رکھ کر افواج پاکستان اوراُنکے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی پاکستانی قوم کے لگائے ہوئے زخموں کو کئی دہائیوں تک چاٹتے رھیں گے۔
اس وقت ہمیں ہر سطح پر اتحاد کی ضرورت ہے۔ آئیں وقت کی نزاکت کو مد نظر رکھ کر باہمی اتحاد اور یگانگت کا عملی مظاہرہ کرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔
احقر العباد:-
غلام محمد چوہان،
30.06.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں