صدائے درویش
اثر حاضر اور اسلام مخالف پروپیگنڈہ اور ہم
میرے دوستو! میرا مشاہدہ ہے کہ اکثر لوگوں کی سوچ بھی اپنی نہیں، مرعوب رہتے ہیں اغیار سے، ایسے لوگ ہمارے ہاں بھی موجود ہیں، دنیا بھر کا شیطانی الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا اسلام کو جبر کا دین اور تلوار کے زور پر پھیلا ہوا مذہب جتلانے میں ہمہ وقت مصروف ہے، ٹائم لائن کے قریب بلکل مشرق میں ایک دنیا کے نقشے پر ایک چھوٹا سا ملک ہے " فیجی" وہاں تک تلوار یا ہتھیاروں سے لیس کونسا مسلمان فاتح پہنچا تھا؟
الحمدللہ! فیجی کی ٪40 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے
تاریخ مسخ کی جا رہی ہے، تاریخ کی کتب میں سے مسلمانوں کی دریا دلی، مذہبی رواداری کو غائب کیا جا رہا ہے کیوں کے یہودیت اور عیسائیت دونوں مذاھب اسلام سے خائف ہیں، بدنام کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، اسلام یہودیت اور عیسائیت کے مقابلے میں سب سے کم عمر مذہب ہے۔
اسلام کی سب بری خوبصورتی ہی یہ ہے کہ اسلام کے پیروکار یا ماننے والے اسلام سے پہلے کے دونوں مذاھب اور اُن پر نازل ہونے والی کتب اور جتنے بھی انبیاء کرام معبوث ہوئے انکو ہم مسلمان سچا مانتے ہیں۔
اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے دوسرے ادیان کے فنانشل
سسٹم جو کہ سود پر Depend کرتا ہے اُسے واشگاف الفاظ میں چیلنج کیا ہے، سب سے بڑی تکلیف ہی انکو یہی ہے۔
اب آتے ہیں نظام حکومت کی طرف، دنیا کے دونوں مذاھب مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا دیکھنا تک بھی گوارہ نہیں کرتے، اگر کرتے تو سلطنت عثمانیہ کو توڑنے میں پیش پیش نہ ہوتے، کمزور سی "خلافت عثمانیہ" اس بات کی مظہر تھی کہ اتحاد بین المسلمین میں ہی طاقت ہے، خدا کرے دُنیا بھر کے مسلمان سربراہانِ مملکت اور ملوکیتی نظام کے حامل یہ بات اچھی طرح سے زھن نشین کر لیں تو بہتر ھے۔
اب آتے ہیں دیسی اور ولایتی لبرلز کی طرف تو انکو روس کے ٹوٹنے کے بعد اسلام کا وہی چہرہ دکھایا گیا جو انکے پیر و مرشد انکو دیکھانا چاہتے تھے، دنیا بھر کو بھی مسلسل یہی جتایا گیا گیا کہ مسلمان صرف لڑنا بھڑنا ھی جانتا ھے، مسلمان ایک طرح کی خونخوار قوم ہے جس کے پاس اخلاقیات نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور یہ ثابت کر چکے ہیں کہ عالمی امن و سلامتی کیلئے صرف مسلمان قوم ہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔
یہ اسلام پر ایک طرح کا خطرناک الزام ہے، اگر ہم اخلاقیات کے معاملے میں خدا نخواستہ پست ہوتے یا مذہبی رواداری کے ہم حامل نہ ہوتے دنیا بھر میں تو جوجو علاقے اسلام کے زیر نگیں رہے وہاں آج دوسرے مزاہب کے لوگ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتے، اسپین، ہندوستان اور مشرقی یورپ اسکی سب سے بڑی مثال ھیں۔
اسپین میں جب مسلمان کمزور ہوکر اپنی حکومت گنواتے ہیں تو وہاں کے عرب اور مقامی مسلمانوں کے ساتھ ملکہ ازابیلہ نے فرانس کے ساتھ مل کر عرب النسل اور مقامی اندلسی مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے، ختم نہیں ہوا، البتہ! ہماری نئی نسل سے اُسے چھپا لیا گیا ہے۔ مذہبی رواداری اور اخلاقیات کی آپکو ایک اعلیٰ مثال دیتا ہوں کہ جب
صلاح الدین ایوبی بیت المقدس کو فتح کرنے کیلئے محاصرہ کرتے ہیں تو ایک دو بدو معرکے میں عیسائی جنرل رچرڈ شیر دل کی تلوار ٹوٹ جاتی ہے تو سلطان اُسکی گردن بھی اڑاتا، بلکہ اُسے اپنی تلوار پیش کرتا ہے، رچرڈ کے بیمار ہونے پر اپنا شاہی طبیب علاج کیلئے اُسکے لشکر میں بھیجتا ہے، اس پر شب خون نہیں مارتا۔ یہ ہیں اعلیٰ اسلامی اقدار جن سے وہ مسلمان نسل کو ہر حالت میں دور رکھنا چاہتے ہیں، سب کچھ چھپا رہے ہیں، آج دنیا بھر کا میڈیا مسلمانوں کو دہشتگرد ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے، جہاں بھی کوئی امت محممدیہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خون بہاتا ہے، دنیا اسے ستائشی نظروں سے دیکھتی ہے، کیوں کہ کچھ ہمارے اعمال اور بہت سا اُنکا منفی پروپیگنڈہ، ہم مسلمان دنیا بھر کی اقوام کی نظر میں عالمی امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنتے ھوئے نظر آ رہے ہیں، جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
پاکستانی لبرلز کیوں خلافت طرز حکومت یا خلافت عثمانیہ یا مسلمانوں کی نشاتہ ثانیہ کی کیوں مخالفت کرتے ہیں، اس کے موضوع پر مجھے بہت زیادہ لکھنا پڑے گا، کیوں کہ یہ کوئی عام موضوع نہیں، یہاں کے دیسی لبرلز بھی خلافت یا مسلمانوں کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جانے سے ویسے ہی خوف زدہ ہیں جیسے اُنکے پیر و مرشد۔
عربوں کو اسلام یا امت رسول سے اب کوئی سروکار نہیں، وہ مکمل طور پر پریکٹیکل، خود غرض اور اپنی ذات میں مست ھین، امت یا امت کے مسائل گئے بھاڑ میں، آج خون مسلم پانی سے بھی زیادہ ارزاں ہے، کشمیر ہو یا روہنگیا، عراق، شام، لنبان، فلسطین ہو یا چین و یمن، مسلمانوں کا بے دریغ خون بہایا جا رہا ہے، لیکن اس مسئلے پر مسلمان دنیا بھر کے کسی بھی فورم پر آواز اٹھانے کو تیار ہی نہیں، (انّا للّہ و انّا الیہ راجعون)۔
میری تحریریں میرے ذاتی خیالات ہوتے ہیں ان سے کسی کا بھی متفق ہونا ضروری نہیں۔
احقر العباد:-
غلام محمد چوہان۔
09.05.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں